عدالتی انصاف اور عوامی رویّے

عدالتی انصاف اور عوامی رویّے
عدالتی انصاف اور عوامی رویّے

  

معروف صحافی ، کالم نویس اور شاعر منو بھائی کو برطانیہ دیکھنے کی جو خواہش بچپن سے تھی وہ پچپن میں پوری ہوئی ۔ یہ نئی صدی سے بارہ سال پہلے کی بات ہے جب جنرل ضیا کے طیارہ کا واقعہ ابھی تازہ تھا ۔ افتخار عارف کے اردو مرکز میں منو بھائی نے جس طرح مزاح کی پھلجھڑیاں چھوڑیں اہل محفل میں سے کوئی بھی اسے بھلا نہیں سکا ۔ جیسے یہ انکشاف کہ منو بھائی کی لندن آمد ان پاکستانی لکھاریوں کے وفد کے ساتھ امریکہ یاترا کا انعام تھی جنہوں نے پی ٹی وی ناظرین کا سب سے زیادہ وقت ضائع کیا ۔ ’ اگرچہ میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں ڈیڑھ سال اور جنرل ضیا کے عہد میں اڑھائی سال ٹی وی پہ بین رہا ، مگر میرے ڈراموں اور ڈرامائی سلسلوں کی تعداد اشفاق احمد سے زیادہ بنتی ہے ، یوں میں انہیں آدھ گھنٹہ پیچھے چھوڑ کر اتنی تیزی سے امریکہ روانہ ہوا کہ لندن کا پیشگی ویزا بھی نہ لے سکا ‘ ۔

 اس بیان کے بعد اگلی کہانی یہ ہے کہ نیویارک میں برطانوی قونصل نے منو بھائی کی درخواست پہ غور کرتے ہوئے پہلے یہی پوچھا کہ پاکستان سے روانگی کے وقت لندن کا ویزا اسلام آباد سے کیوں حاصل نہیں کیا گیا ۔ ’اس لئے کہ ہمارے صدر ایک ہوائی حادثے میں فوت ہو گئے ہیں اور ہم بارہ دن کا سوگ منا رہے ہیں‘ ۔ سفارتکار سٹپٹا کر بولا ’تم بارہ دن کا سوگ افورڈ کیسے کر لیتے ہو؟‘ اب کے جواب یہ تھا کہ جناب ، ہم تو اپنی اب تک کی اکتالیس سالہ تاریخ میں چوبیس سال کا مارشل لا بھی افورڈ کر لیتے ہیں اور یہ بھی کہ کوئی حکومت نہ تو نارمل طریقے سے آئے ، نہ نارمل طریقے سے جائے ۔ منو بھائی کہتے ہیں کہ ’برطانوی قونصل نے از رہ ترحم مجھے لندن کا ویزا دے دیا‘ ۔ یہ مسئلہ تو ہو گیا طے ۔ مگر قومی زندگی میں ہم کیا کچھ افورڈ کر سکتے ہیں اور کیا کچھ نہیں ؟ یہ سوال ابھی باقی ہے ۔

 اس پہ تو کم و بیش سبھی متفق ہیں کہ انسان کی سوچ عموماً اس کے حالات کے تابع ہوا کرتی ہے ۔ یوں طبقاتی پس منظر ، تعلیم و تربیت ، پیشہ ورانہ اور کاروباری وابستگی کا حساب لگا کر دیکھیں تو منو بھائی کے پیمانہ پر ایک آدمی کی قومی ’افورڈ ایبلٹی‘ دوسرے سے مختلف ہو گی ۔ کون سے مادی عوامل کسی کو کب گھیرتے ہیں اور کہاں ڈھیلا چھوڑ دیتے ہیں ، یہ ہے تو مزے کا کھیل ۔ لیکن اس میچ کا صحیح چسکا لینا چاہیں تو اس کے لئے ٹی ٹونٹی کی ٹلے بازی نہیں ، ٹیسٹ کرکٹ کی سی قناعت پسندی اور غیر جانبداری درکار ہو گی ۔ کونسے بلے باز نے ڈرائیو ، سویپ اور پل شاٹ کے جلوے دکھائے ، کس نے کراس بیٹ کھیلا ، پھر چپکے چپکے ریورس سوئنگ پھینکنے والوں کے نام کیا ہیں ؟ اس فرق کو سمجھانے کی خاطر ، نئے چیف جسٹس کا خیر مقدم کرتے ہوئے ، مجھے قانون سے منسلک ایک اصطلاح استعمال کرنا ہو گی ۔

 اقبال کا دعوی ہے کہ’اگر چاہوں تو نقشہ کھینچ کر الفاظ میں رکھ دوں‘ لیکن ایل ایل بی کی کلاس میں میرے آئینی تاریخ کے اس استاد کی لائیو پرفارمنس کی تصویر کشی کون کرے گا جنہیں دیکھتے ہی ہمیشہ احمد ندیم قاسمی کا یہ قول دُہرانے کو جی چاہا کہ فن رائے کا اظہار نہیں ، جذبہ کا اظہار ہے ۔ پاکستان کے ابتدائی رہنماﺅں میں سے اسمبلی توڑنے والے گورنر جنرل اور خود مستعفی ہونے والے واحد وزیر اعظم کے لئے بابو غلام محمد اور بابو محمد علی کے القابات ہم نے انہی کی زبان سے سنے ۔ پھر مسٹر ایڈورڈ گھسیٹا اور سردار نتھو سنگھ سپاٹا جیسے فرضی کردار جو ’جوڈیشل مائینڈ سیٹ‘ سے عاری منصفین کے لئے استعمال ہوتے ۔ ہماری کلاس میں مولوی تمیز الدین کیس سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو کے ’عدالتی قتل‘ کی جاری کارروائی پہ ہر روز بات ہوا کرتی ، لیکن بنیادی نکتہ ایک ہی تھا اور وہ ہے جوڈیشل مائینڈ سیٹ ۔

 اس نکتہ کی تشریح ذہن میں دہراﺅں تو آج بھی استاد محترم کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے ، لیکن یہ دبا دبا سا شکوہ بھی کہ سر جی ، طالب علموں کی سوچ سیدھی رکھنے کے چاﺅ میں آپ ہمیں کن ٹیڑھے میڑھے راستوں پہ ڈال گئے ، جہاں کوہ ندا سے یہی گونج سنائی دے رہی ہے کہ ’سب جا رہے ہیں جانب در ، تو مگر نہ جا‘ ۔ ہم جانب در تو نہ گئے ، پر ایک دن ہمارے گھر کا دروازہ کھلا دیکھ کر ایک غیر آشنا مگر سچ مُچ کے جج ایک بزرگ کی بیمار پرسی کے لئے تشریف لے آئے ۔ پھر جب یہ تعارف ہوا کہ صاحب خانہ ایک عالمی ادارہ کا صحافی ہے تو تازہ اخبار منگوا کر کہنے لگے ’اگر مجھے پتا ہوتا کہ میرے فیصلے کی یہ سرخی نکالی جائے گی تو میں اس پوائنٹ پہ ایک پیرا گراف اور لکھوا دیتا‘ ۔ ایک اور جج نے بطور نامہ نگار پہلی بار چیمبر میں بلایا اور آرڈر میرے آگے رکھ کر بولے ’ دیکھ لیجئے کہ انگریزی شنگریزی ٹھیک ہو‘ ۔

اب اگر ان مثالوں سے آپ کوئی لمبے چوڑے معانی نکالنا چاہیں تو ایسا اپنے ’رسک اینڈ کاسٹ‘ پہ کر لیں ۔ میں تو صرف ’جوڈیشل مائینڈ سیٹ‘ کا مفہوم واضح کرنا چاہتا تھا اور یہ بھی کہ اس کے نہ ہونے سے کیسی کیسی عجیب صورتیں پیدا ہو جاتی ہیں ۔ اس کے لئے یہ شرط بھی نہیں کہ صورتحال کا مرکزی کردار منصف کے عہدے پہ فائز ہو ۔ سرکاری اور غیر سرکاری وکیل بھی عدالت کا حصہ ہوتے ہیں ، اس لئے جب ایک سینئر لا آفیسر کی میزبانی میں نصف درجن سے زائد پکوانوں پہ مشتمل ڈنر دیکھ کر مجھے قانون شکنی پہ حیرت ہوئی تو فرمایا ’کھائیں کھائیں ، آپ کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا‘ ۔ ڈرتے ڈرتے عرض کیا کہ اصولاً ایک ڈش کی اجازت ہے تو قانونی موشگافی کرنے لگے کہ پلیٹ میں بیک وقت ایک ہی ڈش ڈالیں ۔ جواب تو دے سکتا تھا ، لیکن اپنے ہی حلق میں دنبے کی بوٹی اٹک کر رہ گئی تھی ۔

 آپ اسے خود پسندی کہہ لیں ، مگر میرے عدالتی مائینڈ سیٹ نے عدالت سے باہر رہتے ہوئے بھی میرے جسم و جاں کے ساتھ خوب کبڈی کھیلی ہے ۔ جیسے بچپن ہی میں جرابوں اور جوتوں کی ترتیب کا مسئلہ ۔ ترکیب نمبر ایک کہ پہلے دایاں موزہ پہنو ، پھر بایاں موزہ ، اور اس کے بعد اسی ترتیب سے دایاں اور بایاں جوتا پہنو ۔ اب ترکیب نمبر دو کہ پہلے دایاں موزہ پہنو اور اس کے فوراً بعد دایاں جوتا چڑھا لو ، پھر مرحلہ وار بائیں پاﺅں کے ساتھ یہی سلوک کرو ۔ جس کسی کو یہ فیصلہ طلب مسئلہ مافوق الفطرت ، غیر ضروری یا سائنس فکشن کا آئٹم لگے ، میں اس سے جھگڑنے کا حق محفوظ رکھتا ہوں ۔ لیکن ایسے لوگوں کو اپنی وہ کیس سٹڈی شئیر نہیں کراﺅں گا جب زندگی میں ایک ہی بار ملنے والی کمپنی کار اس لئے نہ چلائی کہ بیوی کو ہم سفر بنانے کی اجازت ہونے یا نہ ہونے کا کوئی تحریری یا زبانی ضابطہ تھا ہی نہیں ۔

 خیر ، جو ڈیشل مائینڈ سیٹ نے ذاتی زندگی میں صرف آزمائشوں سے دو چار نہیں کیا ، کچھ مشکلات کے حل میں میری مدد بھی کی ۔ جیسے انگلستان میں جیوری سروس کے لئے طلب کئے جانے پہ میری یہ دلچسپ وضاحت کہ جیوری کے ارکان فریقین کی گواہیوں کا ’کامن سینس ویو‘ لیتے ہیں یا کہہ لیں کہ شہادتوں کی روشنی میں عقل سلیم کی بنیاد پر کسی کو بے گناہ یا قصور وار ٹھہراتے ہیں ۔ اس کے بر عکس ایک زمانے میں قانون کا باقاعدہ طالب علم رہنے کے سبب بندہ کسی بھی مقدمہ کا جائزہ جو ڈیشل مائینڈ سیٹ سے ہٹ کر لے ہی نہیں سکتا ۔ اس کا جو جواب موصول ہوا وہ فنی پہلو ﺅ ں سے عدل و انصاف کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے ۔ مفہوم تھا کہ آپ اپنی لا ڈگری کی بدولت رکن جیوری بننے کے لئے نا اہل قرار پاتے ہیں ۔ میرے خیال میں سانپ بھی نہ مرا اور لاٹھی بھی ٹوٹ گئی ۔

 نئے چیف جسٹس نے اب سے تین روز پہلے آئین پر حلف اٹھایا تو جنرل ضیا کے مارشل لا سے لے کر پرویز مشرف کے پہلے اور پھر دوسرے پی سی او تک کے کئی مناظر آنکھوں کے سامنے دوڑنے لگے ۔ ان میں سچی عوامی خوشیوں کے لانگ شاٹ بھی تھے جن میں قوم ایک بے انت جشن کے دہانے پہ کھڑی دکھائی دی اور کسی نہ کسی شیکسپیرئن ٹریجڈی کا کلوز اپ بھی جہاں سب نے کہا کہ ’المیے کا ہیرو ہے مسخرے کے قابو میں‘ ۔ خیر ، نئی حلف برداری سے ایک دن پہلے الوداعی تقریب میں آئندہ عدالتی طرز عمل کے لطیف اشارے بھی مل گئے ۔ مثال کے طور پہ یہی کہ سپریم کورٹ سے قانونی تقاضوں اور سماجی ضرورتوں کے درمیان ہم آہنگی لانے کی توقع کی جائے گی ، لیکن تینوں مملکتی اداروں کی تقسیم اختیارات بھی اتنی ہی اہم ہے اور یہ بھی کہ منصفانہ ٹرائل کے آئینی لوازمات پورے کئے جائیں ۔

چیف جسٹس کو مشورہ دینے والے ہم کون ہوتے ہیں ، مگر دو باتیں ضرور کہوں گا ۔ ایک تو چپکے چپکے اس پر خوش ہونے سے مجھے کوئی نہیں روک سکتا کہ ان کی ابتدائی گفتگو میں جوڈیشل مائینڈ سیٹ کے اشارے نمایاں ہیں اور اس رویہ سے گریز کی جھلک کہ ایک سرکردہ آدمی زور سے نعرہ لگائے اور سب کہیں زندہ باد ۔ دوسری بات عدلیہ نہیں ، ہر اس پاکستانی شہری کے لئے ہے جو عدالت کی کرسی پہ تو فائز نہیں مگر اپنے گھر ، دفتر ، دکان اور کارخانے میں بیٹھ کر دوسروں پہ اثر انداز ہونے والے فیصلے کرتا ہے ۔ بچوں سے ماں باپ کا منصفانہ سلوک ، ماتحتوں کی سالانہ رپورٹ لکھنے والے افسر کی دیانت ، سکول ، کالج اور یونیورسٹی کے استاد کی مشفقانہ غیر جانبداری ۔ ۔ ۔ یقین کریں جتنی مضبوط ان رویوں کی بنیادیں ہوں گی ، اتنی ہی بلند و بالا عمارت عدالتی انصاف کی ہوگی ۔    ٭

مزید : کالم