یہ ایکسائز اور ٹریفک والے!گڈ گورننس کہاں؟

یہ ایکسائز اور ٹریفک والے!گڈ گورننس کہاں؟
یہ ایکسائز اور ٹریفک والے!گڈ گورننس کہاں؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


گزشتہ ہفتے کے دوران سیالکوٹ جانے کا اتفاق ہوا۔ صاحبزادے کی گاڑی ڈرائیور کے سپرد تھی۔گھر سے روانہ ہوئے، سبزہ زار کی طرف سے موٹروے (لاہور بائی پاس) پر ہوتے ہوئے کالا شاہ کاکو انٹر چینج پہنچنا تھا جہاں سے جی ٹی روڈ کا راستہ لیا جاتا۔ باتیں کرتے ہوئے جب سبزہ زار کی مرکزی سڑک اختتام کو پہنچی اور ایک گول موڑ آیا جو بابو صابو انٹر چینج کی سڑک کو ملاتا ہے،اچانک پولیس جیسی وردی والے ایک سپاہی نے آگے بڑھ کر گاڑی کو رکنے کا اشارہ کر دیا۔ڈرائیور نے بریک پر پاﺅں رکھ کر گاڑی روکنے کے لئے بائیں طرف جگہ پر نظر ڈالی تو اچانک ہی ایک ایسے ہی شخص نے گاڑی کے آگے آ کر روکنے کی کوشش کی، ڈرائیور کو ہنگامی بریک لگانے پر مجبور کر دیا گیا۔ اس دوران پیچھے ایک موٹر سائیکل سوار آ رہا تھا۔ وہ بروقت ہنگامی بریک نہ لگا سکا اور موٹر سائیکل رکتے رکتے گاڑی کے پچھلے حصے سے ٹکرائی اور ایک بتی کا کور توڑ دیا۔
اس کے بعد موٹر سائیکل سوار کا شکوہ ہوا تو الٹا اس سے معذرت کرنا پڑی کہ اچانک بریک لگائے جانے کی وجہ سے موٹر سائیکل نہیں رُک پائی۔ اُن سے معافی مانگ لی۔ اب اس سپاہی نما شے نے گاڑی کی رجسٹریشن طلب کرنا شروع کر دی۔پوچھا کہ کیوں مانگ رہے ہو اور یوں اچانک گاڑی کیوں روکی، جبکہ ایک خطرناک موڑ کی وجہ سے نقصان بھی ہوا جو زیادہ بھی ہو سکتا تھا۔ وہ صاحب کچھ بتانے کو تیار نہیں تھے۔ اچانک دور کھڑی ایک ہائی لکس گاڑی پر نگاہ گئی تو اس کے دروازے پر ایکسائز لکھا نظر آ گیا جس سے یہ تو اندازہ ہو گیا کہ موصوف کا تعلق محکمہ صوبائی ایکسائز سے ہے اور مسئلہ ٹوکن کا ہے۔ اس سپاہی نما شخصیت کو بتایا کہ ٹوکن ادا کیا جا چکا ہوا ہے، رجسٹریشن بھی نکال لی اور پھر اس سے پوچھا کہ اُس نے خطرناک انداز میں گاڑی کیوں روکی، وہ بہتر جگہ پر کیوں نہیں کھڑے ہوتے جہاں حادثات نہ ہوں۔جواب ندارد۔ پوچھا تمہارا افسر کون ہے ؟وہ یہاں کیوں نہیں؟ معلوم ہوا کہ موصوف انسپکٹر ہیں اور خود گاڑی میں تشریف فرما ہیں۔ہم نے اُن کو بلانے کا مطالبہ کیا، تکرار سی ہوئی تو ہمارے ساتھی گلزار بٹ نے مداخلت کی اور کہا وقت ضائع ہو گا، منزل کھوٹی ہو گی، چھوڑیں، آگے چلتے ہیں۔ رجسٹریشن دکھا دی گئی، ٹوکن ادا کیا ہوا تھا اور اس میں ٹوکن بھی پڑا تھا، معذرت یا شرمندگی کے بغیر رجسٹریشن واپس کر کے فراخدلی کا مظاہرہ کیا کہا کہ جاﺅ۔
یہ واقعہ بھی جمعہ کو پیش آیا، اس کے بعد دو چار دن دفتر آنے جانے کے لئے ہمیں خود گاڑی چلانا پڑی۔ روائتی طور پر آہستہ اور محتاط ڈرائیونگ کی عادت ہو چکی ہے۔ دو روز قبل شاہ جمال روڈ سے تھانہ اچھرہ کے سامنے فیروز پور روڈ کی طرف مڑے۔ یہ ایسا موڑ ہے جہاں پر دو تین طرف سے ٹریفک ملتی ہے، شاہ جمال کی طرف سے فیروز پور روڈ پر آنے کے لئے دائیں جا نب کی ٹریفک کا دھیان رکھتے ہوئے احتیاط سے آگے بڑھنا پڑتا ہے۔ جونہی موڑ سے نکلے تو تین ویسے سپاہی نما لوگ اچانک سامنے آ کر گاڑی روکنے کا اشارہ کرنے لگے۔رفتار بہت کم تھی، بریک لگانے میں دشواری نہ ہوئی۔ ابھی پوچھنا ہی چاہ رہے تھے کہ کیا مسئلہ ہے کہ انہی حضرات نے آگے بڑھنے کا اشارہ کرنا شروع کر دیا۔ وجہ یہ تھی کہ ونڈ سکرین پر چسپاں ٹوکن صاف نظر آ رہا تھا جو اُن کو پہلے دکھائی نہیں دیا۔گاڑی رکنے پر نظر آیا تو پھر دوسری گاڑیوں کی طرف متوجہ ہو گئے۔ یہ حضرات بھی محکمہ ایکسائز ہی سے متعلق تھے۔ اس نوعیت کاواقعہ ایک بار نہیں، کئی روز تک پیش آیا۔
محکمہ ایکسائز نے ایک ہزار سی سی کی گاڑیوں پر یکمشت ٹوکن ٹیکس لاگو کیا ہوا ہے جو10ہزار روپے میں دیا جاتا ہے۔ محکمہ کی طرف سے ٹوکن ادائیگی کی آخری تاریخ گزر جانے کے بعد وصولی کے لئے یہ مہم شروع کی گئی اور اس کا انداز اتنا بھدا ہے کہ حادثات ہوتے رہتے ہیں۔ یہ حضرات موڑ کے اگلے طرف ہی کھڑے ہوتے ہیں اور اچانک ہی گاڑی کو روکتے ہیں۔ اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ اشارہ کسی گاڑی کے لئے کر رہے ہوتے ہیں اور گاڑیاں دوسری رک جاتی ہیں۔ یوں کئی بار جھگڑا بھی ہو جاتا ہے۔ اس محکمہ کے ان حضرات کو ایسا کوئی خیال نہیں۔ یہ تو اپنا کام کر رہے ہیں اور یہ سرکاری ڈیوٹی ہے۔
محکمہ ایکسائز نے یہ مہم تو دو ہفتوں سے شروع کی ہے، لیکن ٹریفک وارڈنز حضرات کو تو کئی مہینوں سے ٹریفک کے نظام کو چھوڑ کر آرام اور چالان کرنے کی عادت ہو گئی ہے۔ یہ حضرات اب ہر سگنل والے چوک سے پرے ہو کر سڑک کے کنارے تشریف فرما ہوتے ہیں اور لوگوں کو غلطی کے مواقع فراہم کرتے ہیں، جونہی کوئی خلاف ورزی کا مرتکب ہو یہ اُسے روک کر چالان کرتے ہیں۔چوراہوں کو نظر انداز کر دینے کی وجہ سے ہر سگنل والے چوک میں ٹریفک بدنظمی کا شکار ہے۔ اشارہ بند ہونے اور دوسری طرف کا کھل جانے کے باوجود پہلی طرف کی ٹریفک نہیں رکتی۔نتیجہ حادثات اور جھگڑوں کی صورت میں نکلتا ہے۔ گزشتہ جمعہ کو صاحبزادہ عاصم نے ہمیں ہمارے دفتر اُتار کر اپنے دفتر جانا تھا۔ جیل روڈ کی طرف مڑتے ہوئے ٹولنٹن چوک والے اشارے سے بخیریت گزر آئے۔ جونہی جیل روڈ والے چوک پر پہنچے تو اشارہ کھلا ملا۔ گاڑی کے آگے ایک رکشا جا رہا تھا،۔رکشا نے دائیں طرف مڑنے کی کوشش کی تو مزنگ چونگی کی طرف سے اچانک دو تین گاڑیاں اشارے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تیزی سے آئیں، رکشا والے نے اچانک ہنگامی بریک لگا کر رکشا روک لیا، اس وقت تک ہماری گاڑی اوپر آ چکی تھی۔ بریک لگاتے لگاتے رکشا کے پچھلے حصے سے جا ٹکرائی اور دائیں طرف کی ہیڈ لائٹ بیم چکنا چور ہو گئی۔
قصور رکشا والا کا بھی نہیں تھا۔ اسے کچھ کہنا فضول تھا۔ صبر کیا۔ ٹریفک وارڈن حضرات سامنے فٹ پاتھ پر کرسی بچھائے بیٹھے گپ لگا رہے تھے۔ انہوں نے یہ سب دیکھا، کسی نے توجہ نہ کی اور نہ ہی پرواکی۔ نہ ہمیں اور نہ ہی رکشا والے سے کچھ کہا، نہ ہی اُن حضرات نے اشارہ کی خلاف ورزی کر کے نکل جانے والی گاڑیوں کے لئے کوئی تردد کیا۔ یوں صبح ہی صبح ایک بڑا نقصان اُٹھا کر خاموش رہنا پڑا۔ ایسا ہر روز ہو رہاہے۔ یہ تو دو محکموں کا معاملہ ہے ۔یہاں تو ہر شعبہ اِسی طرح عدم توجہی اور غفلت کا مظاہرہ کر کے گڈ گورننس کا مُنہ چڑا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ کو اس بار بڑے بڑے قومی امور ہی سے فرصت نہیں، وہ اس طرف کیا توجہ دیں گے ۔وہ تو ملک کو جلد از جلد انرجی مہیا کرنے کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ٹاﺅن والے تجاوزات اور بھینسوں کو نظر انداز کئے ہوئے دُعا مانگ رہے ہیں کہ اللہ کرے بلدیاتی الیکشن نہ ہوں۔     ٭

مزید :

کالم -