انسانی شکل میں فرشتے

انسانی شکل میں فرشتے
انسانی شکل میں فرشتے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


[بچوں کے لیے لکھی گئی کہانی جس میں بڑوں کے لیے بھی دعوتِ فکر ہے، اس لیے وہ بھی پڑھ سکتے ہیں۔]
بچو! اس سے قبل کی دو کہانیوں میں آپ نے فرشتے کا ذکر پڑھا کہ وہ ایک اچھے اور شکر گزار انسان اور ایک ناشکرے اور احسان فراموش شخص کے پاس انسانی شکل میں آیا۔ آپ کے ذہن میں خیال پیدا ہوا ہوگا کہ کیا فرشتے انسانی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔ اس کا جواب ہمیں قرآن و سنت ہی سے تلاش کرنا چاہیے کیوں کہ اصل علم تو وہی ہے جو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے حاصل ہوتا ہے۔ فرشتے نورانی مخلوق ہیں جن کو اللہ نے روشنی سے پیدا کیا ہے، انسان خاکی مخلوق ہے جو مٹی سے پیدا کیا گیا اور جن ناری مخلوق ہیں جو آگ سے پیدا کیے گئے۔
فرشتے اللہ کی عبادت اور تسبیح و حمد میں ہی مصروف رہتے ہیں۔ وہ کھاتے پیتے کچھ نہیں، نہ ہی اللہ کی نافرمانی کرسکتے ہیں۔ جنّوں اور انسانوں کو اللہ نے اختیار دیا ہے کہ وہ چاہیں تو اچھے اعمال کریں اور اللہ کی رضا اور جنت کے مستحق بن جائیں، چاہیں تو برائیاں کریں اور اللہ کے عذاب اور دوزخ کے حقدار قرار پائیں۔
قرآن مجید میں فرشتوں کے انسانی شکل میں دنیا کے اندر آنے اور انسانوں کے ساتھ معاملات کرنے کا ثبوت ہے۔ سورة البقرہ پارہ اول میں اللہ نے بابل شہر کے اندر دو فرشتوں ہاروت اور ماروت کے اترنے اور انسانی شکل میں لوگوں سے معاملات کا ذکر فرمایا ہے۔ اسی طرح سورہ کہف میں پندرھویں اور سولہویں پاروں میں حضرت خضر اور حضرت موسیٰؑ کی ملاقات کا ذکر ملتا ہے۔ خضر فرشتے ہیں اور حضرت موسیٰؑ کے ساتھ انھوں نے انسانی شکل میں کافی لمبی ملاقات کی اور اکٹھے سفر بھی کیا۔ پھر کئی امور جو انھوں نے اللہ کے حکم سے سرانجام دیے، ان کی حکمت بھی بیان فرمائی۔
حدیث پاک میں حضرت جبرائیل کے انسانی شکل میںآنے کے بہت سے واقعات ہیں۔ ایک روایت تو بہت مشہور ہے جس کے راوی حضرت عمر بن خطابؓ ہیں کہ جبرائیل نبی پاک اور صحابہ کی مجلس میں اچانک ایک دن انسانی شکل میں آئے اور نبی پاک کے بالکل قریب ہو کر بیٹھ گئے۔ پھر آپ سے سوالات کیے جن کے جواب نبی پاک نے ارشاد فرمائے۔ صحابہ یہی سمجھتے رہے کہ اجنبی شخص کہیں دور سے آیا ہے۔
جب جبرائیل مجلس سے رخصت ہوگئے تو نبی پاک نے حضرت عمرؓ سے پوچھا ”عمر، تم جانتے ہو کہ سوال کرنے والا کون تھا؟“ تو انھوں نے عرض کیا ”اللہ اور اس کے رسول ہی جانتے ہیں کہ وہ کون تھا۔“ آپ نے فرمایا ”وہ جبرائیل تھا جو انسانی شکل میں اللہ کے حکم سے آیا تھا۔ وہ تمھیں تمھارے دین کی بنیادی تعلیمات سے باخبر کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔“
بچو! یہ بڑی مشہور اور جامع حدیث ہے اور اس کو حدیثِ جبرائیل بھی کہا جاتا ہے۔ عام انسانوں کے پاس اگر کبھی اللہ کے حکم اور اس کی حکمت سے کوئی فرشتہ انسانی شکل میں آ بھی جائے تو ضروری نہیں کہ انسان اس کی اصلیت اور حقیقت کو بھی سمجھ سکے۔ فرشتے کی آمد کسی خاص مقصد کے لیے ہوتی ہے۔ وہ بے مقصد کبھی نہیں آتا اور اپنی آزاد مرضی سے بھی نہیں آسکتا۔ پس ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہر اچھا کام اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کی ہر کوشش ہم کو اللہ اور اس کے رسول کا قرب عطا کرسکتی ہے اور ہر برا کام اور بری بات ہمیں اللہ اور اس کے رسول سے دور اور دوزخ کے قریب کر دیتی ہے۔ ہماری یہ زندگی امتحان ہے۔ تم نے پچھلی کہانیوں میں پڑھا تھا کہ کس طرح بندے اس امتحان میں کامیاب ہوتے ہیں اور کس طرح ناکام ونامراد ہوجاتے ہیں۔
آﺅ آج ایک اور شخص کی کہانی سنو جو اللہ سے ڈرنے والا تھا۔ یہ شخص اچھا کھاتا پیتا اور خوشحال انسان تھا۔ اس کا طریقہ یہ تھا کہ جس کسی سے کوئی خدمت لیتا یا مزدوری کراتا، اس کا حق پورے کا پورا اور خوش دلی کے ساتھ ادا کرتا۔ آپ جانتے ہیں کہ نبی پاک نے انسانوں کی زندگیوں میں آسانی پیدا کی، ان کو خوش خبریاں سنائیں اور جاہلیت کے ناروا بوجھ ان کے کندھوں سے ہٹا دیئے۔ گمراہی کی بیڑیاں ان کے پاﺅں سے کاٹ دیں اور غلامی کی ہتھکڑیوں سے ان کو نجات بخشی۔ آپ نے فرمایا کہ تم جب کسی سے مسکرا کر اور خوش اخلاقی سے بات کرو تو یہ بھی صدقہ ہے۔ یہ بھی فرمایا کہ مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے پہلے اس کے کام کی پوری اجرت ادا کرو۔
جس شخص کا اوپر ذکر ہوا اس نے کچھ مزدوروں سے کام کروایا۔ پھر شام کو سب کی مزدوری ان کو ادا کردی۔ ایک مزدور، مزدوری لینے سے پہلے ہی کہیں چلا گیا اور پھر مڑ کر نہ آیا۔ اس بھلے انسان نے مزدور کو بہت تلاش کیا مگر وہ نہ ملا۔ اب اس نے اس کی مزدوری کی معمولی سی رقم محفوظ کر لی کہ جب بھی حق دار آئے گا، یہ رقم اسے ادا کر دی جائے گی۔ یہ بھلا نسان ہر روز سوچتا کہ اللہ کرے وہ مزدور کہیں مل جائے۔ آخر ایک روز شام کے قریب وہ اس کے پاس آگیا۔ اسے دیکھ کر اس خوش اخلاق انسان نے اس کا استقبال کیا۔
مزدور نے کہا ”بھائی جی آج سے کئی سال قبل میں نے آپ کے پاس مزدوری کی تھی اور پھر اپنی مزدوری لینے سے پہلے ہی میں کسی مجبوری سے چلا گیا۔ پھر حالات نے مجھے یہاں سے کہیں دور چلے جانے پر مجبور کر دیا۔ میں کوشش کے باوجود نہ آسکا۔ آج ادھر آیا ہوں تو سوچا کہ اپنی مزدوری وصول کرلوں۔ آپ کو شاید یاد نہ رہا ہوگا مگر میں آپ سے سچ بول رہا ہوں۔“
خوشحال آدمی نے کہا ”بھائی میں سوچ ہی رہا تھا کہ تم کو کہیں دیکھا تھا۔ اب آپ نے بتایا ہے تو مجھے یاد آیا۔ میں نے تو آپ کے انتظار ہی میں اتنے سال گزار دیئے۔ بہرحال جو کہتے ہیں کہ دیر آید درست آید، تو آپ آگئے اچھا ہوا۔ واقعی آپ کی مزدوری میرے ذمے واجب الادا ہے۔ “
یہ کہہ کر وہ بولا ”آﺅ اپنی مزدوری لے لو۔“ وہ مزدور کو ساتھ لے کر گھر سے نکلا۔ تھوڑے سے فاصلے پر ایک باڑے میں بہت سی بکریاں تھیں۔ اس نے کہا ”یہ سب بکریاں تمھاری ہیں۔“ مزدور سمجھا کہ اس سے مذاق کیا جارہا ہے مگر اس نے سوچا کہ یہ شخص تو بڑا سنجیدہ اور نیک انسان ہے۔ بہرحال اس نے پھر سوال کیا کہ محترم آپ میرے ساتھ دل لگی کر رہے ہیں؟ جواب میں اس شخص نے کہا ”میاں یہ کوئی مذاق اور دل لگی نہیں۔ تمھاری مزدوری سے میں نے ایک بکری تمھارے نام کر دی تھی۔ اللہ نے اس میں برکت ڈالی اور بڑھتے بڑھتے دس سال میں یہ ریوڑ بن گیا۔“ مزدور سوچنے لگا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ معمولی مزدوری کی رقم دینے کی بجائے کوئی مزدور کو اتنا بڑا ریوڑ بخش دے مگر آگے کیا ہوا؟ اگلی کہانی میں دیکھئے۔  ٭

مزید :

کالم -