بس اِک جرا¿ت ِرندانہ چاہیے

بس اِک جرا¿ت ِرندانہ چاہیے

ہارون الرشید 22سال کی عمر میں مسلمانوں کے خلیفہ بنے، اچھے طریقے سے حکمرانی کی، رعایا کا خیال رکھا، راتوں کو بھیس بدل کر لوگوں کے حالات معلوم کرتے، ان کی مشکلات سنتے اور حل کرنے کی کوشش کرتے۔ نفیس طبیعت کے مالک تھے۔ علم اور شعر و شاعری سے شغف رکھتے تھے۔ ان کے بارے میں مشہور تھاکہ جب انہیں کسی عالم فاضل شخص کے بارے میں معلوم ہوتا فوراً اپنے پاس بلوا لیتے ۔ اسے اہمیت دیتے اور اس کے علم وفضل سے استفارہ کرتے، عموماً باکمال اور ذہین لوگ خود بھی خلیفہ کے دربار میں حاضر ہوتے اور انعام و اکرام کے مستحق قرار پاتے ، ایک مرتبہ ان کے دربار میں ایک شخص حاضر ہوا، اس نے کہا کہ مَیں خلیفتہ المسلمین کی اجازت سے اپنا ایک کمال پیش کرنا چاہتا ہوں۔خلیفہ نے اجازت دے دی اس شخص نے قالین پر ایک سوئی گاڑی،پھر کچھ فاصلے پر گیا۔ دوسری سوئی لی، دور سے نشانہ بنایا،وہ گاڑی ہوئی سوئی کے ناکے(سوراخ ) سے نکل گئی۔ سارے لوگ حیران پریشان دیکھتے رہے۔ اس شخص نے یہ عمل دوسری مرتبہ دہرایا،تیسری مرتبہ کیا اور ہر بار نشانہ بالکل سیدھا جا کر لگتا اور سوئی کے ناکے سے سوئی نکل جاتی۔

دربار میں موجود لوگ اس پر عش عش کراٹھے، لیکن خلیفہ کے چہرے پر سنجیدگی طاری تھی۔ خلیفہ نے کہا: ”اس شخص کو ایک دینار انعام دیا جائے ۔ ساتھ ہی اسے دس کوڑے بھی لگائے جائیں“۔ لوگوں نے خلیفہ کا یہ حکم سنا تو سکوت طاری ہوگیا۔ سب دم بخود ہوگئے۔ انہوں نے سوچا وہ کام جو بڑے بڑے تیر انداز اور نشانہ بازنہیں کرسکتے ،وہ اس شخص نے کر دکھایا، لیکن خلیفہ نے دس کوڑے لگانے کا حکم صادر کردیا! خلیفہ ہارون الرشید نے لوگوں کی پریشانی بھانپ لی، کہنے لگے: ”یقیناً اس شخص کی ذہانت، محنت اور اس کا کمال ایسا ہے جس پر اسے داد دی جائے۔ مَیں بھی اسے مستحق سمجھ کر انعام د ے رہا ہوں ،مگر افسوس اس بات کا ہے کہ اتنے باکمال شخص نے اپنی صلاحیت ایک فضول کام پر ضائع کردی۔ اگریہ شخص کسی ڈھنگ کے کام پر یہ وقت خرچ کرتا تو بہت کچھ کرسکتا تھا۔ یہ ملت کے مقدر کا ستارہ بن سکتاتھا، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا، لہٰذا مَیں نے اسی لئے انعام کے ساتھ اسے دس کوڑے لگانے کی سزا تجویز کی تاکہ دوسروں کو نصیحت ہو“۔

بالکل یہی صورت حال ہماری ہے۔ آپ ذرا اِردگرد نظر دوڑائیے اور سوچنے اللہ تعالیٰ نے ہمیں کتنی صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ چاروں موسم ہمیں دیئے ۔ ہمیں دنیا کے بہترین نہری نظام سے نوازا ۔ گیس کے ذخائر اس ملک کو عطا کئے۔ کوئلے اور سونے کی بے شمار کانیں دیں۔ صرف ایک ریکوڈک کان کی مالیت 260ارب ڈالر سے زائد ہے۔ اس ملک میں مال دار ترین تاجر ہےں۔

ایک سوئس بنک کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے:“ ہمارے بینکوں میں پاکستانی حکمرانوں، سول ، ریٹائرڈ بیورو کریسی کے 28ٹریلین روپے روپے جمع ہیں۔اسلامی ممالک میں ایک اعلیٰ اور منفرد مقام ہمارا ہے۔ دنیا کی بہترین فوج ہم رکھتے ہیں۔ میزائل اور دفاعی نظام ہمارا کمال کاہے۔ اب تو خوشی کی بات یہ ہے کہ ہماری ایک یونیورسٹی دنیا کی 100بہترین یونیورسٹیوں میں اپنا نام شامل کرچکی ہے، لیکن افسوس ہم نے اپنی یہ تمام صلاحتیں ایسے کام میں صرف کردیں جو ہماری رسوائی کا باعث بنا ،جس نے ہمارا چین اور سکون ہم سے چھین لیا، جس نے ہمیں دنیا میں سراٹھا کرجینے کے قابل نہیں چھوڑا۔ ہم نے وہ کام کردکھائے ،جس پر دنیا بھی حیران و پریشان ہوئی۔ خود امریکی اہل کار تک کہنے پر مجبور ہوئے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمیں پاکستان سے اتنی امید نہیں تھی اور ہم اسی پر پھولے نہیں سمارہے تھے کہ ہماری ان صلاحیتوں کے بدلے امریکہ ہمیں وہ انعام دے رہا ہے ۔ہم بھول گئے کہ ہم ان اعلیٰ صلاحیتوں کو غلط جگہ استعمال کررہے ہیں، چنانچہ اللہ نے اس کے بدلے میں سزا کا مستحق ٹھہرادیا۔ پورا ملک خاک و خون میں تڑپ گیا۔

وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے حوالے سے خبرپڑھی تو ایک بار پھر ڈھارس بندھ گئی۔ ایک مرتبہ پھر نئی امید بندھنے لگی ہے۔ ذہن میں خیال آرہا ہے کہ شاید ہماری سزاختم ہونے والی ہے۔ شاید ہمارے دن پھرنے والے ہیں۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ امریکہ کی کسی یقین دہانی پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، جبکہ حالیہ ڈرون حملے کے بعد کوئی کس طرح کہہ سکتا ہے کہ امریکہ ہمارا دوست ہے۔ چودھری نثار علی خان نے پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا، ثابت ہوگیا کہ امریکہ پاکستان میں امن نہیں چاہتا اور طالبان سے مذاکرات بھی نہیں چاہتا، اب ہمیں اپنی عزت نفس اور ڈالروں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ امریکی ڈالروں سے پاکستان میں سکون نہیں آسکتا ،انہی کی وجہ سے ملک میں آگ لگی ہوئی ہے۔

چودھری نثار نے کہا کہ امریکی الف لیلیٰ کی کہانی لے کر ان کے پاس بھی آنا چاہتے تھے ،لیکن مَیں نے انکار کردیا۔ غیرت اور عزت وآبرو کے ساتھ جینے والی قوم کے رہنماﺅں سے ایسی ہی توقع رکھی جاتی ہے۔ سیاسی میزوں پر سیاسی فیصلے ہوتے ہیں، لیکن حکمرانوں کا کام یہی ہوتا ہے کہ وہ کمزوری نہ دکھائےں، وہ ڈٹ کر مقابلہ کرےں، چنانچہ چودھری نثارعلی خان کے اس بیان نے قوم کے جھکے ہوئے سروں کو کسی قدر اٹھادیا ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ اسی قوم کے ایک ”سالار“ نے آج سے 13برس قبل اس قوم کی عزتوں کا سودا کیا، 600سے زائد لوگوں کو ڈالروں کے عوض امریکہ کے ہاتھوں بیچا، خواتین اور بچے بیچ ڈالے، عرب خواتین کی عزتیں بھی اس نے محفوظ نہ رہنے دیں۔ اپنے اڈے، اپنی شاہراہیں اور سرحدیں تک حوالے کردیں۔ دوسرا سالار اس قوم کا ترجمان بن کر سامنے آیا۔ پیپلزپارٹی کی حکومت نے بھی اعتراف کیا تھا کہ ہمیں اس جنگ کے نتیجے میں 52ارب ڈالر سے زیادہ مالی خسارہ اٹھانا پڑتا ۔ اس عرصے میں پاکستانیوں کے جسموں پر جوزخم لگے وہ اس کے علاوہ ہیں۔

اس جنگ میں ہزاروں قتل ہوئے، مالاکنڈ سے لاکھوں کو ہجرت کرنا پڑی۔ سوات کے وہ ننھے منے 14بچے اب تک ذہن سے نہیں نکل سکے،جو اس جنگ کے نتیجے میں اپنے رب کے حضور جاپہنچے۔ آج بھی 14بچوں کا یہ ”ننھا قبرستان“ ہمیں اس جنگ کی ہولناکی بتارہا ہے۔ آج بھی وزیرستان میں ڈرون حملوں سے بچے اور خواتین مررہی ہیں ۔ کوئی ہفتہ ایسا نہیں گزرتا جب درجنوں بے گناہوں کی لاشیں نہ اٹھائی جاتی ہوں۔ ہمارے گھروں اور مدارس پر ڈرون حملے کرکے ہمیں لاشوں کے تحفے دیئے جاتے ہیں اور ہم ہیں کہ اپنی بے بسی پر اپنی غیرت اور عزت پر حملے برداشت کررہے ہیں۔ ہاں!یہی جنگ ہے، جس نے اس ملک میں بھائی کو بھائی کا دشمن بنادیا۔ اسی کے نتیجے میں بزرگوں کے مزارات میں دھماکے شروع ہوئے۔ اختلافات کی بنیاد پر قتل ہوئے ،ہماری مساجد اور مدارس تک محفوظ نہیں رہے۔ اس کے باوجود ہمیں اس پر شرمندگی نہیں۔ ہم امریکہ سے ”انعام “ کے طورپر ”مونگ پھلی“ وصول کرتے رہے۔ ہم اسی پر مطمئن رہے، اسی کے بدلے سابق حکمران کہتے رہے،یہ ہماری جنگ ہے۔ یہ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ اپنی قوم کے ساتھ اتنا ظلم کرنے کے باوجود ان کی آنکھیں نم نہ ہوئیں، ان سے تو وہ افغان کٹھ پتلی صدر حامد کرزئی اچھے ہیں، جو اپنی قوم کے لئے کئی مرتبہ آنسو بہانے پر مجبور ہوئے۔

کاش!کبھی انہیں وزیرستان، خیبر پختونخوا کی اس غمگین ، ماں، بہن، بیٹی اور یتیم بچے سے ملاقات کا، شرف ، حاصل ہوتا ،جن کا واحد سہارا اس جنگ کی نذر ہوگیا، کبھی سوات کی اس خاتون سے ملنے کا اتفاق ہوتا، جس کا 8افراد پر مشتمل ہنستا بستا گھرانہ اس آگ میں جھلس گیا۔جنرل پرویز مشرف کے دور سے اب تک حکومت اور مقامی طالبان یا دیگر عسکریت پسند گروہوں سے مذاکرات اور مفاہمت کی متعدد کوششیں ہوچکی ہیں۔ بعض معاہدے بھی ہوئے ،جن کی خلاف ورزی کا الزام فریقین ایک دوسرے پر لگاتے رہے۔ اس سلسلے کا بڑا دلچسپ اور عبرت انگیز پہلو یہ ہے کہ افغانستان میں طالبان سے مذاکرات کے لئے بے چین امریکی حکومت پاکستان کی اپنے علاقے میں عسکریت پسندوں سے گفت وشنید کو نہ صرف ناپسند کرتی ہے ،بلکہ اس نے کئی بار حکومت پر دباﺅ ڈال کر معاہدے ختم بھی کرائے ہیں ،لہٰذا نواز حکومت کو طالبان سے گفت وشنید میں دلچسپی لیتے ہوئے ہرقسم کے امریکی دباﺅ کو مسترد کردینا چاہیے ۔

ریٹائرڈ فوجی وسرکاری افسروں کی مددسے پائیدار مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے۔ کامیاب مذاکرات کرکے ملک میں انتہا پسندی اور بدامنی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں۔ یہ بات تو طے ہے کہ وطن عزیز میں عسکریت پسندی کا عنصر افغانستان پر امریکی جارحیت کے بعد داخل ہوا ہے۔ اس کا مقابلہ دوسطحوں پر کیا جاسکتا ہے۔ ایک امریکہ کے مخالفین اور افغانستان میں اس کی وحشت ودرندگی کی مزاحمت کرنے والے تمام عناصر سے گفت وشنید کے ذریعے اور دوسرے امریکہ پر مسلسل دباﺅ کے ذریعے اسے خطے سے نکال کر، پہلا طریقہ قابل عمل اور بہت حدتک بس میں ہے۔ دوسرا طریقہ قدرے مشکل ضرور ہے، لیکن امریکہ اس وقت، جس دفاعی پوزیشن میں آگیا ہے، اس کا دباﺅ قبول کرنے کے بجائے خود پاکستان اس پر دباﺅ ڈال سکتا ہے۔ بس اک جرات رندانہ کی ضرورت ہے۔ یہی فیصلے کا وقت ہے ۔ پوری قوم ایسے حکمرانوں کی پشت پر کھڑی ہوگی۔     ٭

مزید : کالم