صوبائی دارالحکومت کے میئر کا تاج کس کے سرپر سجے گا؟

صوبائی دارالحکومت کے میئر کا تاج کس کے سرپر سجے گا؟
صوبائی دارالحکومت کے میئر کا تاج کس کے سرپر سجے گا؟

  

پاکستان کی سیاست ہچکولے کھاتے ہوئے دھیرے دھیرے سنبھل رہی ہے اور دستور اپنی جڑیں مضبوط بنا رہا ہے، ملک عزیز طویل عرصے تک فوجی آمروں کی گرفت میں پھڑ پھڑاتا رہا، لیکن ستم ظریفی یہ رہی ہے کہ ہر آمر نے بلدیاتی انتخابات کرائے اور ہر جمہوری حکومت اس عمل سے گریزاں رہی ،اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ 2008ءمیں بننے والی حکومت نے بھی اس سے جان چھڑائی، بلوچستان میں جمعیت علمائے اسلام، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ق) کی حکومت تھی، آج علماءکی پارٹی موجودہ حکومت پر تنقید کرتی ہے، خاص طور پر جمعیت علمائے اسلام کو تو اخلاقاً حق ہی نہیں ہے کہ قوم پرست حکومت کی کارکردگی پر حرف زنی کرے۔ اس پارٹی سے قوم پرستوں کی حکومت برداشت نہیں ہو رہی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) تو ہر حکومت کی جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی بنی رہی، جنرل پرویز مشرف تو مولانا محمد خان شیرانی کے مشوروں سے مستفید ہوتے رہے۔ کوئٹہ کے ایک دورے کے دوران جنرل پرویز مشرف نے گورنر ہاﺅس بلوچستان میں علماءپر سخت حملے کئے اور یہاں تک کہا کہ علماءمنافق ہیں تو سب سے اول نشست پر مولانا شیرانی صاحب اپنے جبہ ودستار کے ساتھ اس عالمانہ گفتگو کو بڑے صبر وتحمل سے سن رہے تھے، مگر امام سیاست کی جبین پر کوئی شکن نہ تھی، نہ کوئی احتجاج کیا۔

قارئین محترم! ایک طویل عرصے کی جدوجہد نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کو بلوچستان کی سیاست میں بلند مقام پر لاکھڑا کیا ہے اور پشتون قوم نے بھرپور مینڈیٹ دے دیا ہے۔ 1973ءکے بعد سے یہ اس کی سیاست کا ایک طرح سے سنہرا دور ہے، اب وہ عروج کی بلندی پر کھڑی نظر آ رہی ہے۔ کوئٹہ سے دو قومی اسمبلی اور صوبائی کی چار نشستوں پر اس نے جیت کر سب کو حیرت زدہ کیا تھا۔ انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اس طرح جیت سکتی ہے۔ بلوچ قوم پرستوں کو بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ کس طرح اس پارٹی سے ہار گئے ہیں، لیکن اب بلدیاتی انتخابات نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی جیت پر مہر ثبت کر دی ہے کہ وہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کی سب سے معتبر اور عوام میں اکثریت رکھنے والی پارٹی کی حیثیت سے بلدیاتی انتخابات میں سامنے آ گئی ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے ثابت کر دیا ہے کہ 11مئی کے انتخابات میں جو کامیابی حاصل ہوئی تھی، وہ حقیقی کامیابی تھی اور عوام کا بھرپور مینڈیٹ اسے حاصل تھا اور آج بھی ہے۔ پشتونخوا کے بعد عوام نے آزاد امیدواروں پر اعتماد کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کب تک اور کہاں تک اپنی اس حیثیت کو برقرار رکھتے ہیں، اس کے بعد مسلم لیگ (ن) اور تیسرے درجہ پر ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے چار نشستیں حاصل کی ہیں۔

مسلم لیگ کے بیان سے یہ بات عیاں ہو رہی ہے کہ وہ کوئی نیا کھیل کھیلنا چاہتی ہے اور اس کی کوشش ہے کہ کوئٹہ کی میئر شپ پشتونخوا کے پاس نہ چلی جائے، یہ عمل مثبت نہیںکہلایا جا سکتا۔ بلوچستان کو ہمیشہ اسلام آباد اور مسلم لیگ کی سیاست نے نقصان پہنچایا ہے۔ مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی نے ہمیشہ پنجاب کے مفادات کی سیاست کی ہے اور اس کا نقصان بلوچستان کو اتنا شدید ہوا ہے کہ اس کشمکش سے ابھی تک نکل نہیں سکی۔ آج جو لوگ مسلم لیگ کا نعرہ¿ مستانہ بلند کر رہے ہیں، ان میں اکثریت کا تعلق سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے آلہ کاروں کے طور پر ہے۔ کوئٹہ کی میئر شپ دونوں بار جنرل پرویز مشرف کی باقیات کے ہاتھوں میں رہی ہے، کوئٹہ کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ کارپوریشن میں صفائی کا عملہ جو زیادہ تر اقلیتوں کا ہوتا ہے، اس پر مسلمانوں کو بھرتی کیا گیا ہے۔ ان کا دور صوبے کے دارالحکومت میں تباہ کن تھا صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کی میئر شپ کو حقیقی نمائندوں سے محروم رکھا گیا ہے۔

طویل عرصے کے بعد بلوچستان پر حقیقی نمائندوں کی حکومت براجمان ہے۔ پشتونخوا اور نیشنل پارٹی کا حسین سیاسی ملاپ بہت زیادہ مثبت اثرات مرتب کرے گا اور یہ اعزاز تاریخی ہے کہ قوم پرست وزیراعلیٰ کے دور میں تمام تر مشکلات کے باوجود بلدیاتی انتخابات کرانا ایک لحاظ سے تاریخی کارنامے سے کم نہیں ہے بلوچستان جو آگ اور خون کے عمل سے گزر رہا ہے ایسے حالات میں بغیر کسی قبائلی تصادم کے پُرامن بلدیاتی انتخابات کا انعقاد قابلِ تحسین ہے، اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے اور نیشنل پارٹی کے جس طرح بلدیاتی انتخابات میں نمائندے جیت کر آئے ہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جمہوری عمل کی سیاست کو بلوچ عوام کی تائید حاصل ہے۔ نیشنل پارٹی کی سیاست قبائلی گرفت سے نکل کر سیاسی عمل کی گرفت میں چلی گئی ہے۔ یہ سوچ دراصل مرحوم بزنجو کی ہے، اس عمل نے وار لارڈز کی سیاست کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ یہ بھی تاریخ رہے گی کہ ایک عام طالب علم وزیراعلیٰ کی نشست پر جلوہ گر ہے۔ یہ ایک خوشگوار سیاسی تصویر نظر آ رہی ہے۔ بلوچستان طویل عرصے کے بعد وار لارڈز کی قبائلی سیاست سے نکل کر سیاسی عمل کے دھارے میں داخل ہو گیا ہے۔ یہ ایک خوشگوار سیاسی تبدیلی ہے، جس کو عوام سراہیں گے۔

دوسری جانب پشتونخوا نے بھی اپنے علاقے کی تنگ نظر سیاست سے چھٹکارا حاصل کر لیا ہے۔ اب مستقبل ہی یہ فیصلہ کرے گا کہ پشتونخوا اپنی اس سیاسی حیثےت کو کس طرح برقرار رکھتی ہے۔ اب بلدیاتی انتخابات کے بعد کوئٹہ کی میئر شپ کا معاملہ ہے۔ پشتونخوا کا سیاسی، اخلاقی اور تاریخی حق ہے کہ اسے اس نشست پر بغیر کسی محلاتی سازش کے پہنچنے دیا جائے۔ دوسری جانب بھان متی کا کنبہ ہے جس میں مختلف سیاسی بولیاں بولنے والے جمع ہیں، ان کاکوئی واضح لائحہ عمل موجود نہیں، بلکہ منفی عمل ان کا لائحہ عمل بن گیا ہے۔ پشتونخوا کو اس عہدے تک پہنچنے دیا جائے تو بہتر ہو گا کہ پشتونخوا کے پاس یہ منصب آ جائے تاکہ کوئٹہ دوبارہ ایک خوبصورت اور دلکش صوبائی دارالحکومت میں تبدیل ہو جائے۔ ایک منظم سیاسی پارٹی زیادہ بہتر طور پر کام کر سکتی ہے، بھان متی کا کنبہ مسلسل دباﺅ میں رہے گا اور کام نہیں ہو سکے گا، مسلم لیگ(ن) اپنی سیاست کی باگ ڈور جنرل پرویز مشرف کی باقیات کے ہاتھ میں نہ دے تاکہ وہ عمل جو صوبے کی سطح پر موجود ہے، وہ نچلی سطح پر بھی موجود رہے۔ پشتونخوا سے تمام تر سیاسی اور نظریاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک وسیع تناظر میں میئر کے منصب کو دیکھا ہے اور اپنی رائے بیان کر دی ہے، اس سے اختلاف اور اتفاق کا حق ہر شخص کو حاصل ہے کہ یہ جمہوری عمل کا تقاضا ہے اور اس عمل کو جاری رہنا چاہئے۔    ٭

مزید : کالم