’پاک افغان سرحدی علاقے میں القاعدہ کمزور ہوگئی ‘

’پاک افغان سرحدی علاقے میں القاعدہ کمزور ہوگئی ‘
’پاک افغان سرحدی علاقے میں القاعدہ کمزور ہوگئی ‘

  

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ماہرین برائے انسداد دہشت گردی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاک افغان سرحدی علاقے میں القاعدہ کمزور ہوچکی ہے لیکن شام، صومالیہ، یمن ، لیبیا اور مغربی افریقہ میں زور پکڑ رہی ہے اور اب بھی امریکہ اور یورپی ممالک کیلئے خطرہ بن سکتی ہے۔امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور ڈرون حملوں نے تو القاعدہ کو کمزور کیا لیکن شام کی خانہ جنگی میں انتہاپسندوں کی بڑی تعداد القاعدہ میں شامل ہوئی جس نے اس نیٹ ورک کو پھر سے پیروں پر کھڑا کردیا۔امریکی میرین کور کے سابق جنرل جمیز میٹس کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اتحادیوں کی کارروائیوں کے باعث القاعدہ کی قیادت بری طرح متاثر ہوئی لیکن محفوظ پناہ گاہوں میں تیزی سے اضافے نے القاعدہ کا نیٹ ورک اور بھی پھیلادیا۔ایک اور امریکی ماہر ڈیوڈ کل کلین کے مطابق شام میں القاعدہ سے الحاق کرنے والے گوریلا جنگجوﺅں کی تعداد45 ہزار کے لگ بھگ ہے جبکہ افغانستان میں لڑنے والے طالبان کی تعداد اِس سے آدھی تھی۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں