شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے
شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

  

آرمی پبلک سکول پر دہشتگردوں کا حملہ پاکستان کی بکھری ہوئی عوام کو ایک قوم بنا گیا، ننھے منے علم کے متلاشی معصوم بچوں نے بہادری کے ساتھ دہشتگردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیااور جام شہادت نوش کر کے ساری قوم کو دہشتگردوں کیخلاف ایک صف میں کھڑا کر دیا۔معصوم فرشتہ صفت بچوں نے شجاعت اور بہادری کی ایسی ایسی داستانیں رقم کیں کہ ساری قوم رہتی دنیا تک ان کی بہادری پر فخر کرے گی۔ پھول جیسے بچوں پر دہشتگردوں کے سفاکانہ وار بچوں نے سینوں پر جھیل کر دہشتگردوں کو باور کروا دیا کہ اس قوم کا بچہ بچہ کسی سپاہی سے کم نہیں ہےاور یہ ننھے سپاہی جنگ کے روایتی ہتھیار اٹھائے ہوئے نہیں تھے ، ہاتھوں میں قلم ، پڑھنے لکھنے کی لگن، روشن مستقبل کے خواب اور پاکستان کے دفاع اوردشمنوں سے نبرد آزما ہونے کے جذبے سے دہشت گرد ناواقف تھے ۔ ان کو نہیں پتا تھا کہ ان کے مذموم عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی راہ میں ننھے مجاہد سینہ سپر ہوں گے۔دہشت گردوں کے حملہ میں آرمی پبلک سکول کے بچوں، پرنسپل، اساتذہ و دیگر سٹاف سمیت 144افراد نے جام شہادت نوش کیا اور بہادری کی ایسی ایسی داستانیں رقم کیں کہ جنہیں پڑھ کر آج بھی خون گرم ہوجاتا ہے۔یہ پشاور کے شہداء ہی تھے جنہوں نے بکھری ہوئی قوم کو اکٹھا کردیا اوریہ سامنے کی بات ہے کہ اس سے قبل قوم مختلف باتوں میں تقسیم تھی اور ایسی حالت بھی تھی کہ سیاستدان کُھل کر دہشت گردوں کے خلاف کام کرنے پر آمادہ نہ تھے لیکن اس عظیم قربانی کی وجہ سے تمام مکتبہ فکر ایک نقطے پر اکٹھے ہوئے اور ایک مکروہ دہشت گردوں کے خلاف ایک ایسی جنگ کا آغاز ہوا جس کی فتح میں پاکستان اور اسلام کی فتح پوشیدہ ہے۔

آرمی پبلک سکول کی پرنسپل طاہرہ قاضی، اساتذہ میں بینش عمر، فرحت بی بی، حفصہ خوش، حاجرہ شیری، سعدیہ گل خٹک ، سحرافشاں، صائمہ زرین طارق، شہناز نعیم ،صوفیہ حجاب، محمد سعید ، نواب علی شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوئے جبکہ دیگر سٹاف میں اکبر زمان کلرک، احسان اللہ قریشی ڈرائیور، مدثر خان لیب انچارج، محمد بلال چوکیدار، محمد حسین مالی، محمد سمیع نائب قاصد، محمد شفیق ہیڈ کلرک، پرویز اختر لیب انچارج، سجاد علی سپر یٹینڈنٹ، ظاہر شاہ مالی،لانس نائیک محمد الطاف ،نائیک ندیم الرحمان ، سپاہی نوید اقبال نے جام شہادت نوش کیا ۔

ننھے پھولوں میں عبداللہ غنی اعوان، عدنان ارشد خان، احمد علی شاہ، احمد مجتبیٰ ، عمار اقبال ، ارباب صدیق اللہ خان، ارحم خان، اسد عزیز، اویس احمد، باقر علیخان، باسط علی سردار، بلال علی، فہد حسین، فاہدا حمد، فضل الرحیم ، گل شیر ، حامد علیخان، حامد سیف ، حمزہ کامران، حارث نواز ، حسنین شریف خان، حیات اللہ ، ہمایوں اقبال ، محمد فرقان حیدر، محمد معظم علی، مبین اسلم قریشی، محمد اویس ناصر، محمد غسان خان، محمد حماد عزیز ، محمد حارث، محمد خوشنودزیب ، محمد محسن مرتضیٰ، محمد سلمان، محمد شہیر خان، محمد طیب فواد، محمد عزیز علی، محمد عزیر خان، محمد واصف علی خٹک ، نگھیال طارق، رضوان سریر خان، صاجزادہ عمر طارق، سیف اللہ درانی ، شہزاد اعجاز، شاہ زیب ، شیر نواز، شہو عالم، سید حسنین علی شاہ، سید مجاہد علی شاہ، سید مجاہد حسین شاہ، تنویر حسین ، عمیر ارشد، اسامہ بن طارق، وہاب الدین، یاسر اللہ ، زرغام مظہر، ذیشان شفیق ، ضیاء الاسلام ، آمش سلمان ، ابرار حسین ، عادل شہزاد ، عدنان حسین ، احمد الہٰی ، علی عباس ، عاطف الرحمان ، اذان ، حمزہ علی کاکڑ ، محمد سہیل سردار ، ماہیر رضوان غزالی ، ملک تیمور ، محمد عالیان فوزان، محمد عبداللہ ظفر ، محمد علی خان ، محمد علی رحمان ، محمد عمار خان ، محمد شفقت ، محمد وقار ، مزمل عمر صدیق ، ندیم حسین ، نور اللہ درانی ، آفاق احمد ، سعد الرحمان شاہ، شاہ فہد ، شہباز علی ، شمائل طارق ، سہیل اسلم سید ذوالقرنین ، عزیز احمد ، ذیشان علی ، اسفند خان ، بہرام احمد خان ، فرحان جلال ، حیدر امین ، حسن زیب ، حذیفہ آفتاب، محمد عمر حیات ، ملک اسامہ طاہر اعوان ، مبین شاہ آفریدی، محمد اظہر نصیر، محمد صاحبان ، محمد طاہر، محمد یاسین، محمد ذیشان آفریدی ، اسامہ ظفر ، رفیق رضابنگش، شیان ناصر، شیر شاہ ، سید عبداللہ شاہ، عثمان صادق ، ذیشان احمد ، عبدالا عظم آفریدی ، آئمان خان ، عمران علی ، اسحاق امین ، محمد ابرارزاہد، مہر علی اعظم ، محمد داؤد، محمد عمران ، محمد زین اقبال ، شفیق الرحمان، یاسر اقبال ، ثاقب غنی، وسیم اقبال ، خولہ بی بی شہادت کے اعلیٰ منصب پر فائز ہوئے۔

آرمی پبلک سکول پر دہشت گردی کے سانحے کو اگرچہ ایک برس بیت گیا تاہم قوم ان شہداء کو بھولی ہے اور نہ کبھی بھول سکتی ہے ، ساری قوم آرمی پبلک سکول کے شہدا ء کو خراج تحسین پیش کر رہی ہے ، ان شہداء کا لہو ضرور رنگ لائے گا اورملک دشمن عناصر کو ہر محاذ پر منہ کی کھانا پڑے گی کیونکہ۔۔۔

شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

لہو جو ہے شہید کا وہ قوم کی زکوٰۃ ہے

شہداء کی قربانیوں نے قوم کو ایک نئی سوچ اور ولولہ دیا ہے،پاکستان کی حکومت اور مسلح افواج بارہا اس عزم کا اعادہ کر چکے ہیں کہ ارض پاک سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک دہشت گردوں کیخلاف جنگ جاری رہے گی ، آپریشن ضرب عضب میں ملک کی بہادر افواج کی دہشتگردوں کیخلاف کارروائیاں اور بے پناہ کامیابیاں اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی بہادر افواج اس ملک سے دہشتگردی کے ناسور کر جڑ سے اکھاڑ کر ہی دم لیں گے اور پاکستان کو ایک مثالی اسلامی ریاست بنائیں گے جہاں سب کوحقوق ملیں گے اور ہر کوئی امن و آشتی میں زندگی گزارے گا اورارض پاک پر دہشت گردوں کو سر چھپانے کی کوئی جگہ میسر نہیں ہو گی ۔

مزید :

بلاگ -