میاں صاحب قدم بڑھائیں!

میاں صاحب قدم بڑھائیں!
 میاں صاحب قدم بڑھائیں!

  

عمران خان دوبارہ سے سڑکوں پر آنے کو تیار کھڑے ہیں۔ وہی اسٹیج ، ویسے ہی حاضرین اور ویسی ہی باتیں ہوں گی۔شرکت کی دعوت سبھی جماعتوں کو ، شائد کوئی آ بھی جائے، پیپلز پارٹی اپنا مفاد دیکھے گی اور صرف لپ سروس تک محدود، ڈاکٹر طاہر القادری ہوں ہاں کریں گے لیکن ریاستی سٹرکچر بدلنے جیسے ٹھوس لائحہ عمل کے بغیر ایڈونچر کا حصہ نہیں بنیں گے۔ ملک ہیجان کا شکار رہے گا، کاروبار زندگی داؤ پر اور حاصل کیا ہوگا؟۔سوائے پانامہ لیکس عمران خان نے مسلسل چھوٹے ایشوز کے دائروں میں سفر کیا۔ حالات کی کروٹ نے انہیں جس سٹریٹ پاور سے نوازا وہ اسے معاشرتی ڈھانچے کی اپ گریڈیشن کے لئے استعمال کرنے میں خطا کھا گئے۔ پہلے اور اب بھی ان کے پاس بدستور موقع موجود ہے کہ ترجیحات کو بدلتے ہوئے حقیقی انقلابی اور اصلاحی ایجنڈے کی طرف آئیں۔

شکوے لوگوں نے بہت سن لئے، مسائل کی نشاندہی بھی اپنے عروج پر پہنچ گئی، لیکن اب لوگ حل بھی سننا چاہتے ہیں۔ کیا عمران خان معاشرتی و انتظامی ڈھانچے کے لئے کوئی قابل قدر ایجنڈہ رکھتے بھی ہیں کہ نہیں؟۔ہر احتجاجی فیز کے اختتام پر عام لوگوں میں عمران خان کی مقبولیت بڑھی لیکن پاکستان تحریک انصاف سکڑی۔روز صبح سویرے خبر آتی ہے بنی گالہ میں پارٹی کی میڈیا اینڈ سٹریٹیجک کمیٹی کا اجلاس شروع ہوگیا۔ اختتام پر چھوٹا موٹا بیانیہ جاری کر دیا جاتا ہے اور دن پار۔ پارٹی ڈوب رہی ہے اور عمران خان شہروں میں تنظیمی معاملات سنوارنے پر تیار نہیں۔ سمجھ سے باہر ہے وہ کیا کر رہے ہیں۔ شہروں، ضلعوں ،

تحصیلوں میں پاکستان تحریک انصاف لاوارث ہو چکی ہے۔ کارکنوں، سابقہ عہدیداروں سمیت ووٹرز کو بھی کوئی علم نہیں جماعت کے ذمہ داران کون ہیں؟ کیا ان حالات میں یہ سمجھا جائے پاکستان تحریک انصاف کا ’’سوچنے والا ونگ‘‘ کریش کر گیا ؟۔ اگر حقیقتا ایسا ہے تو یہ انتہائی خوفناک امر ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں بھرپور مقبولیت کے باوجود آنے والے الیکشنز میں ناکامی۔شائد تحریک انصاف کے کلچر میں بے اعتباریوں کے سائے گہرے ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

صوبوں میں موجود لیڈر شپ سمت کی تلاش میں سرگرداں روپہلی کرنوں کی مانند بے نشان منزلوں کی ہمسفر بن چکی ہے۔ شہروں میں موجود عہدیدار پچھم سے امڈتی ہوا ؤں کے سامنے زمین بوس ہورہے ہیں۔ کارکن شبنم کے خوف زدہ قطروں کی مانند گھاس کی پتیوں میں پناہ گزینی کی خواہش پالے ہوئے ہیں اور عام آدمی کی فضاؤں میں ابھرتی سرگوشیاں ایک ہی جملے کی تکرار کئے جا رہی ہیں۔۔۔کب تک۔ ۔ ۔آخر کب تک سیاسی قائدین حقیقی عوامی مسائل سے پہلو تہی کرتے رہیں گے۔عمران خان سمجھتے ہیں اقتدار مل جائے تو پاکستان کے حالات کو سنوارا جا سکتا ہے۔ یہ سوچ قطعا غلط ہے۔ وہ اکیلے کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ وجہ وہ آئینی و انتظامی رکاوٹیں ہیں جو اس سماج کو اپ گریڈ ہونے سے روک رہی ہیں۔

اب حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) کی طرف نظر دوڑاتے ہیں۔انتخابات سے قبل جماعت کے قائد میاں نواز شریف نے کئی جلسوں میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’’میرا ساتھ دینے کے لئے تیار ہوجائیے۔ آپ کو اٹھنا ہوگا۔ پاکستان بلا رہا ہے۔ میرے قدم سے قدم ، کندھے سے کندھا ملا کر چلو۔ ہم پاکستان کے دشمنوں کو دفن کر دیں گے۔ فیصلہ کن مرحلہ ملک دشمنوں کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جائے گا‘‘۔ انتخابات ہوئے۔ اقتدار ملا۔ مسائل حل کرنے کی باری آئی تو سمت کے تعین میں دشواریاں بھی نمودار ہوگئیں۔ پولیس کلچر نہ بدلا جا سکا۔ وجہ؟۔ آئینی مجبوریاں۔ پٹواری کو ریفائن کرنے کی کوشش کی گئی۔ وہاں بھی ناکامی۔ صحت کی تباہیوں کا جب علم ہوا تو آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔ تعلیم کا میدان دھرنوں کو کاؤنٹر کرنے کی دھول سے اٹ گیا۔ وقت گذرتا چلا گیااور اگلے الیکشنز کی تیاریوں کی باتیں عام ہونا شروع ہوگئیں۔ کہاں گئے عوام، کہاں گئے مسائل، اب اگلا الیکشن جانے اور اس کے نتائج۔ اپنے تئیں میاں نوازشریف بھی تبدیلی کے خواہاں نظر آئے۔ انہوں نے کوشش بھی کی لیکن نظام نے انہیں بھی عمل درآمد نہ کرنے دیا۔ وہ نوجوان شدید مایوس ہوئے جنہیں معاشرے نے باور کروا رکھا تھا ان کی زندگی سستی ، خواب ادھورے، ارمان جھوٹے اور چاہتیں بے معنی ہیں۔ نوجوانوں کے ان خوابوں کو مسلم لیگ نے نہیں نظام نے چورہ چورہ کیا۔یہ نظام اتنا مضبوط ہوچکا ہے کہ حکمران جماعت چاہتے ہوئے بھی اسے توڑنے میں کامیاب نہیں ہو رہی۔

اب پیپلز پارٹی کی طرف دیکھتے ہیں۔ بلاول بھٹو کا کیا وژن سامنے آیا ۔ صرف چار نکات پر علمدرآمد کی خواہش۔ کیا ہمیں سننے میں غلطی ہو رہی ہے؟۔ نہیں یہ حقیقت ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نظام سے ٹکرانا تو دور کی بات اسے چھونا تک بھی نہیں چاہتی۔ ایک طرف چنگھاڑتا عمران خان اور دوسری طرف منمناتی اردو میں مفہوم سمجھانے کی کوشش کرتا بلاول بھٹو۔ آج شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی کے پرائمری یونٹ مفلوج ہو چکے ہیں۔ ضلعی اور صوبائی قیادتیں کارکنوں کو تنہائی کے مورچوں میں محصور کرکے دبئی کے طواف کے چکروں میں پڑ چکی ہیں۔ بھلایا جا چکا ہے انہی کارکنوں کی بدولت پیپلز پارٹی نے الیکشن میں کامیابی حاصل کی۔ پیپلز پارٹی کو مکمل اتھارٹی کے ساتھ حکومت کرنے کا موقع ملا۔ لیکن چھوٹی موٹی سیاسی چالوں میں کامیابی کو ہی عوامی پسندیدگی سے تعبیر کر لیا گیا۔ ایسی چالوں کا کیا کرنا جو مستقبل کی بساط ہی الٹ کر رکھ دیں۔ پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت میں قومی سطح پر معاشرتی اپ گریڈیشن کے لئے نہ تو کوئی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی اور نہ ہی کبھی بھولے بسرے سے ذکر بھی کیا۔ ایک دفعہ نہیں سو بار بھی اقتدار مل جائے تو مسائل جوں کے توں رہیں گے تاوقتیکہ مکمل اتفاق رائے کے ساتھ نظام حکومت کے رولز آف بزنس کو بدلنے کی خاطر تگ و دو نہ کی جائے۔ آصف علی زرداری ایسا اتفاق رائے پیدا کرواسکتے ہیں۔ وہ ہٹ کر سوچنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ نئے صوبے ، نیا ایف سی ایوارڈ، نئے سول سروسز رولز اور نئے سرے سے تمام گورنمنٹ فنکشنریز کے اختیارات و جوابدہی کا میکنزم۔ اگر عمران خان، میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری ایسا نہیں سوچ رہے تو پاکستان ابھرنے کی بجائے مزید نیچے جائے گا۔

نظام کون بدلنے نہیں دے رہا؟۔ سیاسی قائدین یا ان کا قرب رکھنے والی سیکنڈ کلاس لیڈر شپ؟۔ یہ لیڈر شپ قائدین کو مسلسل اور متواتر اپنے سطحی وژن کے مطابق ڈرائیو کرتی ہے۔ پہلے مخالف کا ذکر کرکے ایشو اٹھاتی ہے پھر ایشو کے بوٹ میں قائد کا پاؤں پھنساتی ہے جب پاؤں پھنس جائے تو اپنی اہمیت کے احساس سے لطف اندوز ہونے کے لئے فون یا میسیج کے انتظار میں موبائل کو ہاتھ میں پکڑ کر سوتی ہے۔ مسلم لیگ(ن) میں قائدین کو یہ کہہ کر panic میں مبتلا کیا جاتا ہے عمران خان کمزور تنظیم سازی اور گنے چنے چہروں کے باوجود کھڑکی توڑ جلسے کر رہا ہے۔ عمران خان کو باور کروایا جاتا ہے حکومت اپنی مقبولیت کھو چکی، فوری جلسے جلوسوں کا اہتمام کیا جائے۔ زرداری صاحب کو پیغام پہنچایا جاتا ہے عمران خان کمزور پڑ رہا ہے مخالفین پر بذریعہ ٹی وی حملہ آور ہوا جائے۔ یوں سیکنڈ کلاس لیڈر شپ جماعتوں کو آپس میں لڑوا دیتی ہے ۔ نظام جوں کا توں، عوام ہکے بکے اور اشرافیہ، بیوروکریٹ مسرتوں کے جنگل میں رقصاں رہتے ہیں ۔

سوچنے والا امر یہ ہے ایسا کب تک چلے گا؟۔ ہر قابل ذکر سیاسی جماعت میں ذہین ، مسائل سے آگاہ لوگ موجود ہیں۔ چلیں دوسروں کو تو چھوڑیں آخر حکمران جماعت معاشی اپ گریڈیشن کے لئے پہلا قدم خود کیوں نہیں اٹھاتی۔ اس کام کے لئے تھیسسز ریسرچر کی صورت سوچنے والی ٹیم کی ضرورت ہوگی۔ معاشرتی اپ گریڈیشن جیسا کام ایکشن دکھانے والی ٹیم نہیں کر سکتی۔ تعصب سے ہٹ کر دیکھیں تو مسلم لیگ کے پاس سینیٹر پرویز رشید کی طرح بڑے قابل قدر جوہر موجود ہیں۔باقی جو دوسرے جوہر تھے کوئی ٹی وی کی نوکری میں اپنی دانش بھلا بیٹھا اور کوئی صرف شکوے شکایتوں تک محدود ہوگیا۔*

مزید :

کالم -