سقوط ڈھاکہ: جاں فرسا المیہ اور اللہ کی سنت

سقوط ڈھاکہ: جاں فرسا المیہ اور اللہ کی سنت
سقوط ڈھاکہ: جاں فرسا المیہ اور اللہ کی سنت

  



سوال یہ ہے، کیا وہ قوم کبھی ترقی کر سکتی ہے جو مڑ کر نہ دیکھے۔ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ضرور ہے مگر نتیجہ لازمی نہیں کہ ایک سا ہی رہے۔ نظام کائنات ایک خودکار سسٹم کے تحت رواں دواں ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے قوموں کے عروج کیلئے کچھ رہنما اصول وضع کر کے اِس نظام کو اُن کے تابع کر دیا ہے۔ وہ قوم تیزی سے ترقی کرتی ہے جو علم و جستجو کو اپناتی،غوروفکر سے نشان منزل طے کرتی اور پھر اُس کے حصول کیلئے جہد مسلسل کو اپنا شعار بنا لیتی ہے تو ایک دن دنیا اُس کے قدموں میں نگوں ہو جاتی ہے۔ عروج و اقبال ہمیشہ اہل قوم کا ہی مقدر بنتا ہے۔ اِسی طرح زوال کی بھی کچھ علامات طے شدہ ہیں۔ مختلف اکائیوں پر مبنی ہو یا ایک ہی قومیت پر مشتمل ریاست کے باسی، ایک زبان رکھتے ہوں یا درجنوں، ایک مذہب کے پیروکار ہوں یا بہت سوں کے، اخلاقی انحطاط کا شکار ہو جائیں تو سمجھو وحدت کی دیوار میں سے ایک اینٹ کھسک گئی ہے۔

قوم اپنا مقصد حیات بھول جائے تو دوسری دراڑ نااہل حکمرانوں کی صورت میں پڑتی ہے، ایسے حکمران نہ صرف خازن پائے جاتے ہیں بلکہ اقتدار کو گھر کی لونڈی بنانے کیلئے اپنے حدود سے بھی تجاوز کر جاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ظلم بڑھتا جاتا ہے اور قوم تقسیم در تقسیم ہوتی جاتی ہے۔ جب تین کام ہو چکے ہوں، یعنی اخلاقی انحطاط، نااہل حکمران اور ظلم کا رواج تو پھر اللہ کا کوڑا حرکت میں آتا ہے اور اُس قوم پر برستا ہے، اِس کی دو صورتیں ہوتی ہیں، ایک یہ کہ وہ قوم گروہوں میں بٹ کر باہم دست و گریبان ہو جاتی ہے، دوسری یہ کہ کوئی بیرونی جارح اُن پر چڑھ دوڑتا ہے اور کشتوں کے پشتے لگا دیتا ہے۔ اگر مسلمانوں کی مثال لی جائے تو کبھی چنگیز خان اور ہلاکو خان، کبھی فرڈی نینڈ تو کبھی انگریز تو کبھی زار روس خون کی ندیاں بہا دینے سے نہیں چوکتا۔ آج کل امریکہ بہادر مسلمانوں کے درپے ہے۔

قائداعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے تاریخ ساز تحریک چلائی اور "پاکستان" کے نام سے بلاد اسلامیہ کی سب سے بڑی ریاست حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اسلام کی مضبوط ڈوری سے بندھی قوم صرف تئیس برس بعد ہی ایک دوسرے کے خون کی اِس قدر پیاسی ہو گئی کہ الامان، الحفیظ ۔۔۔ معروف شاعر قابل اجمیری کہتے ہیں:

وقت کرتا ہے پرورش برسوں

حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

سقوط ڈھاکہ ہوا تو حمودالرحمن کمیشن قائم کیا گیا تاکہ اُن اسباب و علل کا جائزہ لیا جا سکے جن کی بابت نوبت یہاں تک پہنچی تھی، کمیشن کے قیام کی منظوری اُس قیادت نے دی جو وطن عزیز کو دو لخت کرنے میں اہم ترین کردار تھی، وہ بھلا اِس رپورٹ کو کیوں منظرعام پر آنے دیتی اور تاریخ شاہد ہے کہ ہوا بھی یہی ۔۔۔۔۔

میرؔ کیا سادے ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب

اُسی عطّار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں

سقوط ڈھاکہ پر کسی نے سنجیدگی سے غوروفکر کیا اور نہ آئندہ کیلئے سبق حاصل کیا گیا۔ اب سے تین برس قبل تک وطن عزیز میں کئی ایک مکتی باہنی سر اٹھائے کھڑی تھیں اور نئے "بنگلہ دیش" کے خطرات لاحق تھے۔ کراچی میں آپریشن شروع ہوا تو دورِجدید کے "شیخ مجیب الرحمن" نے لندن سے بیٹھ کر مادروطن کو گالی دی تو اُس کا ناطقہ ہی بند کر دیا گیا۔ وزیرستان پر قابض مکتی باہنی کیخلاف آپریشن ضرب عضب لانچ کیا گیا۔ بلوچستان کے "شیخ مجیب الرحمن" نے نئی دہلی کو شہریت کی درخواست دے دی ہے۔ کتاب ہدایت کہتی ہے، اگر تم اپنی حرکتیں دہراؤ گے تو ہم بھی اپنی سزا دہرائیں گے۔ (الاسراء ۱۷:۸)

وطن عزیز میں حالات پنتالیس سال پھر اُسی نہج پر پہنچ چکے ہیں، چھوٹے صوبے محرومیوں کا رونا رو رہے ہیں اور سیاستدان باہم دست و گریبان ہیں۔ کوئی ادارہ فعال ہے اور نہ قوم میں احساس ذمہ داری۔۔۔ عدالتوں سے انصاف ملتا ہے اور نہ افسر شاہی کا مزاج بدلا ہے۔ مشرقی پاکستان کے باسی اپنی پٹ سن کو یاد کر کے آہیں بھرتے تھے تو آج بلوچستان والے سوئی گیس اور گوادر پورٹ کو ۔۔۔۔ اِسی طرح خیبرپختونخوا والے بھی سی پیک میں سے اپنے حصے اور بجلی کے محاصل کیلئے پریشان ہیں۔ وفاق پر آج پھر نااہل اور بے حس حکمران مسلط ہیں۔ سرحد پار اندرا گاندھی کے سنگھاسن پر گجرات کا قصائی نریندر مودی بیٹھا "نئے بنگلہ دیش" کے قیام کی منصوبہ بندیوں میں مصروف عمل ہے۔ سوال یہ ہے، کیا وہ قوم کبھی ترقی کر سکتی ہے جو مڑ کر نہ دیکھے۔ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ضرور ہے مگر نتیجہ لازمی نہیں کہ ایک سا ہی رہے۔۔۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ