دھرنوں کی وجہ سے نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہوا

دھرنوں کی وجہ سے نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہوا
دھرنوں کی وجہ سے نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہوا

  



لاہور گریژن یونیورسٹی میں ہونے والی پہلی دو روزہ نفسیات کانفرنس ختم ہو گئی۔کانفرنس راقم الحروف کی چیئرمین شپ میں ترتیب دی گئی اور اس کا موضوع ’’پاکستانی معاشرے میں بڑھتے ہوئے سماجی و نفسیاتی مسائل اور رجحانات‘‘ تھا۔کانفرنس کا افتتاح صوبائی وزیر امورِ نوجواناں جہانگیر خانزادہ نے کیا اور صدارت کے فرائض لاہور گریژن یونیورسٹی کے وائس چانسلر جنرل عبیدین زکریا ہلال امتیاز ملٹری نے ادا کئے، مہمانِ خصوصی سابق وائس چانسلر لاہور کالج یونیورسٹی ڈاکٹر رخسانہ کوثر تھیں۔

کانفرنس کی خاص سپیکر نے خصوصی مقابلہ پیش کیا۔ڈاکٹر نجمہ نے انکشاف کیا کہ نفسیاتی مسائل کا تعلق آپ کے اردگرد کے ماحول سے ہوتا ہے مُلک میں سیاست دانوں، ڈاکٹروں، ملازمین، کاشت کاران نے 80فیصد عوام کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے ہمارے مُلک میں ڈاکٹر سڑکوں پر رہتے ہیں،جبکہ مریض وارڈوں کے باہر علاج سے محروم موت کا انتظار کرتے ہیں، اِس طرح معاشرے میں عدم برداشت اور عدم اعتماد کے رویئے بڑھ رہے ہیں، جس کا ثبوت یہ ہے کہ نفسیات دانوں کے پاس پریشانی، مایوسی اور خود کشی کے مریضوں کی تعداد میں بے شمار اضافہ ہوا ہے پھر بڑھتی ہوئی دہشت گردی نے لوگوں کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے، اِسی طرح موبائل فون ٹیکنالوجی نے لوگوں کو کئی قسم کے غلط راستوں پر لگا دیا ہے اور اس سے خاندانی رشتے کمزور پڑگئے ہیں، اسی کے نتیجے میں طلاق کی شرح یا ماؤں کے بچوں کو قتل کرنے جیسے خوفناک اقدامات ممکن ہو رہے ہیں۔

مہمان خاص ڈاکٹر رخسانہ کوثر نے عدم برداشت کو سب سے اہم مسئلہ قرار دیا اور اِس سلسلے میں نفسیات دانوں کی طرف سے ذاتی اور اجتماعی کونسلنگ کی ضرورت پر زور دیا۔وائس چانسلر جنرل عبیدین زکریا نے ملک بھر سے آئے ہوئے 300 سے زائد ماہرین نفسیات کو خوش آمدید کہا اور بتایا کہ لاہور گریژن یونیورسٹی کا شعبہ نفسیات تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور یہاں گائیڈنس کونسلنگ وکلینکیکل سینٹر بھی کھولا جا رہا ہے، جس میں یونیورسٹی کے تمام طلبہ و طالبات کی سکریننگ کی جائے گی تاکہ اگر کسی میں کچھ کمی ہے تو اس کو دور کیا جائے۔

مہمانِ خصوصی جہانگیر خانزادہ نے دہشت گردی پر تفصیل سے بات کی اور بتایا کہ ان کے والد خود دہشت گردی کا شکار ہو چکے ہیں۔انہوں نے لاہور گریژن یونیورسٹی کو ہر معاملے میں پنجاب حکومت کی طرف سے یقین دِلایا۔ڈاکٹر گلزار چیئرمین شعبہ نفسیات نے بھی خطاب کیا،جبکہ راقم الحروف نے کانفرنس کے شرکاء کو بتایا کہ اُنہیں225 مقالہ جات وصول ہوئے جن میں سے175 مقالہ جات تجزیہ کے مطابق پیش کئے جانے کے قابل تھے اور یہ مقالہ جات پورے پاکستان اور آزاد کشمیر سے موصول ہوئے،جبکہ طلبہ و طالبات کے لئے انہی مسائل پر مبنی پوسٹرز بنانے کا مقابلہ ہوا، جس میں بالترتیب گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ،بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے بچوں نے اول،دوئم اور سوئم کیش انعامات وصول کئے،جو صوفی آٹا بنانے والوں کی طرف سے دیئے گئے۔ کانفرنس کے شرکا کی رائے میں طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی بہت ضروری تھی۔

کانفرنس میں ایک خصوصی مجلس مذاکرہ ڈاکٹر فرخ ملک کی صدارت میں منعقد ہوئی، جس میں نامور ماہرین نفسیات اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے اس موضوع پر بات کی۔

اس موقع پر محترم نوید چودھری، ڈاکٹر ریاض بھٹی، ڈاکٹر جمیل اے ملک، محترمہ حنا عمران پروفیسر خالد، محترمہ ڈاکٹر ثروت سلطانہ، الطاف اکبر و ریاض فتیانہ موجود تھے میڈیا کے کردار کے حوالے سے اس کو کئی بڑھتی ہوئی نفسیاتی بیماریوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ صبح ایک مارننگ شو کرنے والا رات کو پاکستان کا سب سے بڑا اینکر اورتجزیہ نگار بنا ہوتا ہے۔

معروف صحافی نوید چودھری نے وضاحت کی کہ پیمرا کے قیام سے پہلے حالات درست تھے، مگر اب کوئی بھی اینکر کسی بھی خاندان کو جو بھی منفی ریمارکس دینا چاہے دے دیتا ہے۔انہوں نے کہا ہم نفسیات دانوں کے ساتھ مل کر صورتِ حال کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر فرخ ملک نے بحث کو سمیٹتے ہوئے ایک کونسلنگ پروگرام اور ایک آگاہی پروگرام شروع کرنے پر زور دیا جو سیاست دانوں سے لے کر شہری زندگی کو تباہ کرنے والوں تک سب کو یہ سکھائے کہ انسانی حقوق کیا ہوتے ہیں اور اُن کو مسلنے کی عادت کو ختم کرنے سے کتنے لوگوں کی ذہنی صحت ٹھیک ہو سکتی ہے؟جب یوتھ کو ٹی وی کے سیاسی ٹاک شوز میں دست و گریباں اور غلیظ زبان نظر آئے گی تو یوتھ کے لئے نتائج خطرناک ہوں گے۔کانفرنس سیکرٹری پروفیسر ندا ظفر نے بھرپور محنت سے300 سے زائد ماہرین کو یہاں بلوا کر ریکارڈ قائم کر دیا۔

مزید : کالم