آپس کی لڑائیوں کا انجام

آپس کی لڑائیوں کا انجام
 آپس کی لڑائیوں کا انجام

  

فیض آباد دھرنے کے لئے ہم نے ریاست کو آزمائش سے گزارا پولیس سمیت کئی اداروں کوذلیل اور رسوا کیا،یا پھر حکومت وقت کی رٹ کا مسئلہ پیدا کیا۔اس کہانی کا رائٹر کون ہے ۔اس سانحہ کا ذمہ دار کون ہے؟ پوری قوم سکتے کے عالم میں رہی، اندرون و بیرون ملک بسنے والے پاکستانی ایک دوسرے سے سوال کر رہے ہیں کہ یہ سب کیا ہورہا ہے؟یہ لڑائی کن اداروں اور شخصیات کے درمیان ہے؟اس لڑائی میں کون جیتے گا کون ہارے گا؟اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت کرے گا۔البتہ یہ بات یقینی ہے کہ اس لڑائی میں میراپاکستان ہار رہا ہے۔عام آدمی ہار رہا ہے پاکستان کی معیشت ہار رہی ہے پوری قوم حوصلہ ہار رہی ہے۔پاکستان میں موجود سفارت کار عجیب و غریب سوال کر رہے ہیں اور عوام ارباب اختیار سے سوال کر رہے ہیں کہ ریاست پاکستان کہاں ہے؟ ایک روشن خیال اور ترقی پسند مسلمان قائداعظمؒ کا پاکستان آج عملًا گدی نشینوں ،مولویوں اور دھرنا ایکسپرٹ مذہبی گروپوں کے ہاتھوں میں جا چکا ہے۔پولیس نا کام نظر آتی ہے۔ اس دھرنے میں شرکت کرنے والے مولویوں میں پیسے تقسیم کئے گئے ۔ایجنسیاں تقسیم ہیں یا پھر تقسیم کر دی گئی ہیں۔ہماری فوج اسلام کے نام پر احتجاج کرنے یا دھرنا دینے والوں کے خلاف کارروائی کرنے سے نا صرف گریزاں ہے بلکہ حکومت کو تلقین کرتی ہے کہ ان سے پیار محبت کے ساتھ بیٹھ کر معاملات طے کرلیں تو بہتر ہے۔ ہمارے بعض سیاستدانوں اور اداروں کے بڑوں کی انا ملک اور قوم سے بھی بڑی ہوچکی ہے۔اداروں کے درمیان ایک ایسی کشمکش ہے کہ جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ ایک بار پھر ملک میں احتجاجی دھرنوں کی بہار آئے گی۔ادارے آپس میں لڑ رہے ہوں گے۔پولیس کی کارکردگی پر سوال اٹھائے جائیں گے رینجرز کو طلب کرنے کی باتیں ہوں گی ،فوج کو کردار ادا کرنے کے مطالبات ہوں گے اب تو سپیکر قومی اسمبلی بھی کہہ رہے ہیں کچھ بڑا ہونے والا ہے۔کیا ہونے والا ہے اس کا جواب وہ گول کر گئے ۔میاں نواز شریف اوران کی پوری ٹیم کہہ رہی ہے کہ ان کی حکومت کے خلاف سازشیں ہو ر ہیں ،عدلیہ انصاف کے نام پر اس سازش کا حصہ بن چکی ہے۔یہ سازش کون کر رہا ہے؟ اس سوال پر ن لیگ کی پوری قیادت بات کو گول کرکے آگے گزر جاتی ہے۔ میاں نواز شریف کہتے ہیں آج تک کسی وزیراعظم کو کام نہیں کرنے دیا گیا مگر وہ تین بار وزیراعظم بنے کاش وہ اقتدار میں رہتے ہوئے ان سازشوں کو بے نقاب کرنے کے لئے کوئی کمیشن ہی بنا دیتے ۔چیئرمین سینٹ کبھی استعفیٰ دینے کی دھمکی دیتے ہیں کبھی آنسو بہاتے ہیں اور کبھی نئے عمرانی معاہدے کی بات کرتے ہیں ، مگرسسٹم کو چلنے کون نہیں دیتا؟معصوم سیاستدانوں کے خلاف سازشیں کون کرتا ہے؟ اس سوال کا جواب وہ آج بھی دینے سے قاصر ہیں یہ سوال اپنی جگہ پراہم ہے کہ جمہوریت کو سب سے زیادہ خطرہ جمہوریت پسندوں ان کے اپنے اعمال اور رویوں سے ہے؟ یا پھر غیر منتخب قوتوں سے ہے؟اس پر الگ سے کمیشن بنانے کی ضرورت ہے۔جو کم از کم اس بات کا پتہ لگائے کہ ہماری جمہوریت نامی دوشیزہ کو آخر بارہ مہینے خطرہ کیوں رہتا ہے؟اب ایک طرف میاں نواز شریف ان کے خاندا ن اور ساتھیوں کے خلاف عدالتی مقدمات تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں دوسری جانب میاں نواز شریف فیصلہ کن لڑائی کے لئے صف بندی کر رہے ہیں یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ میاں نواز شریف کے پاس لڑائی کے سوا آپشن کیا ہے؟اگر کسی شخص کے بارے میں یہ فیصلہ لکھ دیا جائے کہ آپ کی تقدیریہ ہے کہ آپ نے اتنے قدم چل کر فلاں مقام پر پہنچ کر کنویں میں چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرنا ہے اور یہ کام آپ کو ہر صورت میں کرنا ہے اور اس کے لئے راستہ فاصلہ اور وقت کا تعین بھی کر دیا جائے تو کنویں میں گرنے والے شخص کے پاس ایک آپشن تو یہ ہو سکتا ہے کہ وہ چپ چاپ ہاتھ باندھ کر آگے بڑھتا رہے اور کنویں میں چھلانگ لگا دے ۔ دوسرا آپشن یہ ہو سکتا ہے کہ وہ شخص مجبور ہو کر کنویں کی جانب آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ شور مچائے اور کنویں کی جانب دھکیلنے والی قوتوں کو دھمکیاں دیتے ہوئے بادل نا خواستہ جاکر کنویں میں گر پڑے ۔اور تیسرا آپشن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کنویں کی جانب لے جانے والی تمام قوتوں اداروں اور شخصیات کے خلاف اعلان جنگ کر دے اور شدید مزاہمت کر کے اپنی پیش قدمی کو روکنے کی کوشش کرے اور اعلان کر دے کہ وہ ایسی کسی سزا اور فارمولے کو نہیں مانتا جو اس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کرپشن کے لیبل کے ساتھ اس گہرے کنویں میں دھکیلنے کا باعث بنے ،اور پھر وہ شخص جس کا نام میاں نواز شریف ہے وہ ا ان تمام شخصیات اور اداروں سے اپنے آپ کو بڑا تصور کرتا ہو جو اس کو انجام سے دو چار کر رہے ہوں اس صورت حال میں جس میاں نواز شریف کو میں جانتا ہوں وہ لڑے گا اواس لڑائی کاآغاز میرے خیال میں ہوچکا ہے ان کے مدمقابل قوقوں کا عالم یہ ہے کہ وہ ان کو ہر صورت میں مرضی کے نتائج کے ساتھ انجام تک پہنچانا چاہتی ہیں۔کیونکہ شیر کو زخمی کرکے چھوڑ دینا حماقت خیال کیا جا رہا ہے۔اس لڑائی کو میاں نواز شریف اس سطح پر لے جا چکے ہیں کہ عملًا میاں نواز شریف گرے ہوئے ہیں مگر جو پہلوان ان کو پچھا ڑ کر ان کے سینے پر بیٹھا ہوا ہے وہ رو رہا ہے جب اس سے رونے کی وجہ پوچھی جاتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ یہ نیچے گرا پہلوان جب اٹھے گا تو اس کو مارے گا اسی انجانے خوف میں ہونے والی لڑائیاں بہت خطرناک ہوا کرتی ہیں اسی لئے میں ابھی سے ڈر رہا ہوں کہ اس لڑائی کا انجام پاکستان کے لئے اچھا نہیں ہوگا ۔

مزید :

کالم -