گزارشِ احوالِ واقعی: ایک پبلک سروس کالم (2)

گزارشِ احوالِ واقعی: ایک پبلک سروس کالم (2)
 گزارشِ احوالِ واقعی: ایک پبلک سروس کالم (2)

  

23نومبر کا دن چڑھا تو مجھے کچھ خبر نہیں تھی کہ میں گزشتہ 48گھنٹوں میں کتنے منٹ سوسکا ہوں۔۔۔مختلف ڈاکٹروں کی وزٹ جاری رہیں۔ یہ ہر ہسپتال کا ایک معمول ہے کہ صبح جب ہسپتالوں میں کام شروع ہوتا ہے تو ڈاکٹر حضرات سب سے پہلے اپنے کل کے آپریشنوں والے مریضوں کا پتہ چلاتے اور ان کی خیر خبر لیتے ہیں۔

ہر مریض کے پاس 5،10 منٹ سے زیادہ ٹھہرنے کا وقت ہی نہیں ہوتا، کیونکہ وہاں سے فارغ ہو کر ان کو اپنے شعبے کے آؤٹ ڈور مریضوں (OPD) کو دیکھنا ہوتا ہے جو درجنوں کے حساب سے ان کے منتظر ہوتے ہیں۔۔۔۔اگر کسی ڈاکٹر کو 30مریض بھی روزانہ دیکھنے ہوں تو گیارہ بجے سے دو بجے تک کے درمیان 3گھنٹوں (180منٹوں) میں ہر مریض کے حصے میں صرف 6منٹ آتے ہیں! ان 5،6منٹوں میں مریض کیا سنائے گا اور ڈاکٹر کیا سنے گا۔۔۔

بس ایک مشینی روٹین ہوتی ہے جو 2بجے تک جاری رہتی ہے ۔2بجے سے شام 6بجے تک ڈاکٹر صاحبان گھر چلے جاتے ہیں۔ کھانا پینا اور آرام کرنا بھی تو ان کی ضرورت ہے۔ جب شام کے 6بجتے ہیں تو یہ ڈاکٹر صاحبان دوبارہ اپنے سرکاری ہسپتال میں اپنے دفتر میں آکر ان مریضوں کو دیکھتے ہیں جنہوں نے فیس ادا کرکے دکھانا ہوتا ہے۔ ہسپتالوں یہ فیس ایک ہزار روپیہ سے لے کر تین ہزار روپیہ فی مریض لی جاتی ہے۔ لیکن مریضوں کا تانتا پھر بھی ختم نہیں ہوتا۔ جو مریض فیس دے کر معائنہ کرواتے ہیں ان کی روزانہ تعداد تقریباً 25،30 مریض فی ڈاکٹر ہوتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو جو فیس ملتی ہے وہ ہسپتال میں جمع ہو جاتی ہے۔

اس میں ہسپتال کا حصہ بھی ہوتا ہے اور پیرا میڈیکل سٹاف کا بھی۔ کہنا یہ چاہتا ہوں کہ ہر ڈاکٹر کو صبح 9بجے سے لے کر رات 11بجے تک مریضوں کے ہجوم سے فرصت نہیں ملتی۔ ایسے میں ان کی اپنی نجی اور سوشل لائف کس قدر متاثر یا دباؤ میں ہوتی ہے، اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ سب ایکسرسائز گویا ہر سینئر ڈاکٹر کے لئے ہونی شدنی والی بات ہے اور پاکستان جیسے ممالک میں یہ پریکٹس روزبروز زیادہ دباؤ میں آتی جاتی ہے۔

میں اپنے مرض کا حال آپ کو سنا رہا تھا۔۔۔

23نومبر کا سارا دن ’’دوسرا مشورہ‘‘ (Second Opinion) لینے کی ایکسرسائز میں گزرا۔ لاہور کے تقریباً سارے ہی معروف ہسپتالوں سے رابطہ کیا گیا جس کی تفصیل بتانا وقت کا ضیاع ہو گا۔ کچھ ماہ پہلے میرے بیٹے نے اپنی اہلیہ کا آپریشن ایک پرائیویٹ ہسپتال سے کروایا تھا۔ اس کے دائیں کان کے نیچے کچھ برس پہلے ایک معمولی سی گلٹی نمودار ہوئی جس کا اس نے کچھ زیادہ نوٹس نہ لیا۔ لیکن جب وہ بڑھ گئی تو اس کے آپریشن کی فکر ہوئی۔۔۔ ہمارے جسم میں چھوٹے چھوٹے کئی سیل سے ہوتے ہیں جو جسم میں گردش کرتے رہتے ہیں اور جسم کے اندر نقصان دہ مادوں کو فلٹر کرنے کا کام کرتے ہیں۔ ان کو لیمف نوڈز (Lymph Nodes) کہا جاتا ہے۔

یہ عموماً سر اور گردن کے حصوں میں مقیم رہتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ آپ کی بغلوں اور کولھے میں بھی ہوتے ہیں۔ ان میں سے کئی انفیکشن زدہ بھی ہو جاتے ہیں۔ میری بہو کے لیمف نوڈز اس کے دائیں کان کے نیچے جمع ہو کر ایک موٹی سی گلٹی کی شکل اختیار کر چکے تھے۔ ڈاکٹروں سے مشورہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ آپریشن بھی ’’ہائی رِسک‘‘ آپریشن ہے۔ چھوٹی چھوٹی رگوں اوروریدوں میں سے کاٹنے والی وریدوں اور نہ کاٹنے والی وریدوں کی تلاش کا کام نہائت نازک ہے۔ انہی وریدوں میں سماعت، گفتار اور ذائقے کی وریدیں بھی ہوتی ہیں۔ اگر وہ کٹ جائیں تو مریض ہمیشہ کے لئے بہرا، گونگا اور ذائقہ شناسی سے محروم ہو سکتا ہے۔

اسی لئے عام سرجن کسی بگڑے ہوئے لمف نوڈز آپریشن میں ہاتھ نہیں ڈالتے۔ بیٹے نے جس ہسپتال سے یہ آپریشن کروایا وہ لاہور کا ایک نجی ہسپتال ہے۔ وہاں ڈاکٹر صداقت حسین صاحب کا بڑا شہرہ سنا گیا تھا کہ ان کے ہاتھوں میں اللہ کریم نے زیادہ شفاء رکھی ہے اور ان کے آپریشن تقریباً سو فیصد کامیاب رہتے ہیں۔

ڈاکٹرصداقت حسین صاحب سے میری پہلی ملاقات میرے آپریشن کے بعد ہوئی۔ البتہ میرے بیٹے نے ان کے بارے میں پہلے ہی ضروری معلومات اکٹھی کررکھی تھیں۔۔۔ڈاکٹر صاحب نے 1978ء میں کنگ ایڈورڈز میڈیکل کالج سے گریجوایشن کرنے کے بعد جنرل سرجری کے شعبے میں میوہسپتال جوائن کیا۔1991ء میں برطانیہ چلے گئے ا وروہاں تین سال تک ایک معروف ہسپتال میں جنرل سرجری کے شعبے میں سٹاف سرجن کے طور پر خدمات انجام دیں۔ بعدازاں سنگاپور، چین، تائیوان اور ہانگ کانگ کے نامور ہسپتالوں میں منعقد ہونے والی ورکشاپوں میں حصہ لیا۔6برس تک سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں پروفیسر آف سرجری تعینات رہے۔

پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل سٹوڈنٹس کو پڑھاتے رہے اور 2015ء میں پنجاب کے محکمۂ صحت سے ریٹائر ہوگئے۔ آجکل کیپیٹل ٹی وی پر ایک ہفتہ واری پروگرام ’’کیپیٹل کلینک‘‘ میں بھی آتے ہیں اور پنجاب رینجرز ٹیچنگ ہسپتال لاہور میں سرجری کے شعبے کے سربراہ اور رہبر میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج لاہور میں پروفیسر آف سرجری ہیں۔

بیٹے نے مجھے آکر یہ تمام تفاصیل بتا ئیں تو میں نے کہا کہ ان سے آپریشن کروا لیتے ہیں۔ لیکن جب ان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ حال ہی میں الرازی ہسپتال میں بیرونی ممالک سے تین عشروں کا آرتھو پیڈک سرجری کا تجربہ حاصل کرکے ڈاکٹر عامر خان پاکستان آئے ہیں۔ آپ ان سے رابطہ کریں۔۔۔۔ یہ تفصیل اس لئے لکھ رہا ہوں کہ جب آپ کسی نجی ہسپتال سے کوئی میجر آپریشن کروائیں تو چونکہ ڈاکٹروں کی بھاری فیس اور ہسپتال کے دیگر اخراجات کا معاملہ ہوتا ہے، اس لئے چیک کرلینا چاہئے کہ ڈاکٹر موصوف کا پروفیشنل قد کاٹھ کیا ہے اور ان کا ماضی کا ریکارڈ کیسا ہے۔

یہ الرازی ہیلتھ کیئر (ہسپتال) ایم ایم عالم روڈ پر واقع ہے۔23نومبر کو میرا بیٹا اور داماد (بریگیڈیئر زاہد) دونوں وہاں پہنچے اور ڈاکٹر عامر خان سے مل کر میرے فریکچر کا ذکر کیا۔۔۔ فوجی لغت میں کہا جاتا ہے کہ فوجی یلغاروں کی کامیابی میں ٹروپس کی تعداد، ٹریننگ، اسلحہ جات، طریقہ ہائے جنگ، قیادت، مورال ، اصول ہائے جنگ، لاجسٹک، آب و ہوا اور ٹیرین کے نشیب و فراز وغیرہ بہت اہم رول ادا کرتے ہیں۔ لیکن تاریخِ جنگ کے بڑے بڑے مصنفین کا یہ کہنا بھی بالکل بجا تصور کیا جاتا ہے کہ جنگ و جدال کے ان تمام اقسام کے مثبت اشاریوں میں جب تک جنرل قسمت (General Luck) ساتھ نہ دے، کامیابی کے امکانات موہوم رہتے ہیں۔۔۔ میں سمجھتا ہوں، میرے اس کولھے کے فریکچر کے آپریشن میں بھی ’’جنرل قسمت‘‘ نے میرا بہت ساتھ دیا۔۔۔ اجازت دیجئے اس کی تھوڑی سی اور وضاحت کر دوں۔ سب سے پہلے اس سرجن ڈاکٹر کا مختصرسا تعارف بھی دیکھ لیں جن کی ٹیم نے یہ ہائی رسک آپریشن کیا۔

ڈاکٹر عامر خان (FRCS انگلینڈ) جو آجکل الرازی ہیلتھ کیئر میں آرتھو پیڈک شعبے کے سربراہ ہیں، حال ہی میں 30برس باہر (یو کے اور نیوزی لینڈ میں) ہڈیوں کے علاج معالجے کے شعبوں میں کام کرکے واپس پاکستان آئے ہیں۔ پاکستان آنے سے پہلے وہ نیوزی لینڈ میں کینڑبری ڈسٹرکٹ ہیلتھ بورڈ میں کنسلٹنٹ آرتھو پیڈک سرجن تھے۔ڈاکٹر عامر خان نے 1986ء میں علامہ اقبال میڈیکل کالج ، لاہور سے ایم بی بی ایس کیا اور انٹرن شپ مکمل کرنے کے بعد ہائر سرجیکل ٹریننگ کے لئے برطانیہ چلے گئے۔

اور وہاں سے 1992ء میں رائل کالج آف سرجنز سے سرجری میں فیلوشپ مکمل کرنے کے بعد 1997ء تک وہیں پریکٹس کرتے رہے۔ اس کے بعد وہ نیوزی لینڈ چلے گئے اور 1999ء تک اسی شعبے میں کام کیا۔ بعدازاں امارات میں چار سال تک (2004ء تا 2008ء) الزہرا ہسپتال میں آرتھو پیڈک سرجن کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان تمام برسوں میں وہ نہ صرف بطور ڈاکٹر کام کرتے رہے بلکہ اسی شعبے میں میڈیکل سٹوڈنٹس کی تدریس و تربیت کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔

اس طرح بیرون ملک 30برس تک آرتھو پیڈک کے شعبے میں کام کرنے کے بعد وہ پچھلے دنوں پاکستان لوٹے۔ نہ صرف کولھے کی ہڈی بلکہ گھٹنوں کے جملہ امراض اور پاؤں اور ٹخنوں کی سرجری میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ وہ ہاتھوں اور پاؤں کے گنٹھیا زدہ حصوں کے علاج میں بھی کامل مہارت رکھتے ہیں۔۔۔ لاہور کے الرازی ہسپتال کو جوائن کرنے سے پہلے ہسپتال کی انتظامیہ نے ان کے لئے وہ تمام میڈیکل سہولیات، ساز و سامان یعنی آلاتِ جراحی اور پیرا میڈیکل سٹاف مہیا کیا جو انہوں نے اپنے 30سالہ غیر ملکی قیام میں وہاں دیکھا اور استعمال کیا تھا۔۔۔۔

دوسرے لفظوں میں وہ برطانیہ اور نیوزی لینڈ کی آرتھو پیڈک ٹیم کے مماثل بالکل اسی کوالی فیکیشنز کی سرجیکل ٹیم اور آپریشنل سہولیات پاکستان میں بھی لے آئے ۔۔۔ علاوہ ازیں آج کل وہ شالیمار میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج لاہور میں اسسٹنٹ پروفیسر اور آرتھو پیڈک سرجن کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔ یہ ہسپتال ایک ٹرسٹ ہسپتال ہے اور اس حوالے سے وہ مریض جو علاج کا مالی بوجھ برداشت نہیں کر سکتے ان کو مفت اور نسبتاً ارزاں علاج کی سہولیات بھی حاصل ہیں!

میرا بیٹا اور داماد دونوں تادیر ڈاکٹر عامر خان سے مشورہ کرتے رہے۔ ڈاکٹر صاحب کی دوباتیں بطور خاص ان کے دل کو لگیں۔ ایک یہ تھی کہ کولھے کے فریکچر کو جتنی دیر تک آپریٹ نہ کیا جائے گا، خطرہ ہے کہ مختلف قسم کی ایسی انفیکشن پیدا ہوں گی جن کو بعد میں کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا۔۔۔ مجھے بھی دوسرے ہی دن 101بخار ہو گیا تھا جو اسی قسم کی کسی انفیکشن کا ایک مظہر تھا۔

ڈاکٹر عامر کا خیال تھا کہ اگر آپریشن کو 8،10دن تک ملتوی رکھا جائے گا تو کئی دوسرے عوارض بھی پیدا ہوتے جائیں گے، اس لئے جتنا جلد ممکن ہو آپریشن کروا لیا جائے۔ سوال کسی مخصوص ڈاکٹر یا ہسپتال کا رخ کرنے کا نہیں بلکہ سوال جلد آپریشن کرنے کا ہے۔ لیکن جیسا کہ میں نے قبل ازیں لکھا ہے میرے فوری آپریشن میں خون کی رقاقت (Thinness) آڑے آ رہی تھی۔

ڈاکٹر عامر نے دوسری بات یہ بتائی کہ جب تک وہ مریض کے سارے ٹیسٹ اپنے ماہرِ بے ہوشی (Anesthetist) کو نہیں دکھا لیتے اور ان کا مشورہ نہیں لے لیتے اس وقت تک آپریشن نہیں کریں گے۔ ڈاکٹر عمران پنجاب کارڈیالوجی ہسپتال(لاہور) میں ماہرِ بے ہوشی (Anesthesia) ہیں اور شہر کے ٹاپ کے ماہرینِ بے ہوشی میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ان کا مشورہ اس لئے ضروری تھا کہ اس طرح کے ہائی رِسک آپریشنوں میں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ مریض کو جنرل Anesthesia دیا جائے یا لوکل Anesthesia سے کام چل سکتا ہے۔ مکمل بے ہوش کرنے یا نہ کرنے کا دار و مدار مریض کی دوسری جسمانی کیفیات پر بھی منحصر ہوتا ہے مثلاً شوگر، بلڈ پریشر، جگر اور گردوں کے نظام کی حالت، دل کی کیفیت ، عمومی صحت کے اشاریئے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ چنانچہ 23نومبر کی رات کو میرے عزیزوں نے آکر بتایا کہ کل صبح یعنی 24نومبر کا انتظار کیا جائے۔

وہ شب بھی بڑی سخت گزری۔۔۔ بخار اور شدید درد کی کیفیت میں مبتلا رہا۔ صبح دس بجے ڈاکٹر عامر خان کا فون آیا کہ ماہرِ بے ہوشی کہتے ہیں کہ مریض کو مکمل بے ہوش کرنے کی ضرورت نہیں۔ان کا خون بھی اب اتنا پتلا نہیں کہ آپریشن کے وقت اس کے بہاؤ کو کنٹرول نہ کیا جا سکے۔ اس لئے اگر الرازی ہسپتال میں آپ نے آپریشن کروانا ہے تو کیا جا سکتا ہے۔۔۔ چنانچہ سرکار ی ہسپتال سے ڈسچارچ لے کر الراضی ہسپتال سے رجوع کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا گیا۔الرازی ہیلتھ کیئر میں ایک کمرہ بک کروایا گیا۔ ڈاکٹر عامر نے کہا کہ مریض کو لے آئیں، ہم آج ہی 8بجے ان کا آپریشن کر دیں گے۔ اس طرح میں پونے 8بجے شب ہسپتال پہنچ گیا۔ عین وقت پر آپریشن تھیٹر میں سارا عملہ موجود تھا۔

مجھے ریجنل (مقامی) Anesthesia دیا گیا۔ جب 8بج کر 5منٹ پر آپریشن شروع ہوا اور میرے زیریں نصف حصے کو سُن کرنے کا ٹیکہ لگایا گیا تو میں یہ سب کچھ بقائمی ہوش و حواس دیکھ اور محسوس کر رہا تھا۔ ساڑھے 8بجے تک آپریشن ہو چکا تھا۔ کولھے کی ہڈی کا سر (Head) تبدیل کیا جا چکا تھا اور اس کے ساتھ ایک فٹ کی مصنوعی ہڈی بھی گھٹنے تک لگا دی گئی تھی۔۔۔11بجے شب مجھے کمرے میں شفٹ کر دیا گیا۔اگلے دو دن ہسپتال میں گزرے۔ صفائی، ستھرائی، دیکھ بھال اور پیرا میڈیکل سٹاف کا رویہ سب کچھ ’ٹاپ کلاس‘ تھا۔ ڈاکٹر عامر مسلسل فون پر میری کیفیت سے باخبر رہے۔ 25نومبر کی شام کو آکر مجھے اٹھایا اور واکر پر کھڑا کر دیا۔۔۔ الحمدللہ!

ایک روز مزید ہسپتال میں رہا اور 26نومبر کی شب ڈسچارج کرکے گھر بھیج دیا گیا۔ بعداز آپریشن ادویات کا کورس بھی ساتھ دے دیا گیا۔ واکر پر چلنے کی ہدایات دی گئیں اور کہا گیا کہ 12روز بعد آکر زخم کے ٹانکے کھلوا لیں۔ چنانچہ 8دسمبر کو شام پانچ بجے ڈاکٹر عامر نے خود اپنی نگرانی میں ٹانکے کھلوائے اور کہا کہ ماشا اللہ سب کچھ بالکل ٹھیک ٹھاک ہے۔۔۔ واکر سے واک جاری رکھیں۔6،8ہفتے میں واکر سے سِٹک پر آجائیں گے۔۔۔ سو الحمدللہ اب روبصحت ہوں!۔۔۔کل کی خبر نہیں!

یہ تفصیل میں نے ازراہِ انتباہ بھی لکھی ہے کہ میری عمر کے لوگوں کو چلنے پھرنے میں جلدی کرنے کی ضرورت نہیں۔ آرام سے چلیں اور یہ خیال رکھیں کہ آپ کی عمر بڑھ رہی ہے اور تابِ مزاحمت و مقاومت گھٹ رہی ہے۔جیسا کہ میں نے اس کالم کی پہلی قسط میں عرض کیا تھا کہ میرے اس گرنے کے حادثے کا جو سبب بنا وہ میری کوئی ’’پھرتی‘‘ نہیں تھی بلکہ ایک ذاتی اور وجدانی معاملہ تھا جس کی تفصیل انشا اللہ آخری کالم میں عرض کروں گا جو سوموار کے پرچے میں چھپے گا۔ (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -