بھائیو اِسے تو یوٹرن نہ کہو

بھائیو اِسے تو یوٹرن نہ کہو
 بھائیو اِسے تو یوٹرن نہ کہو

  

اب یہ مقامِ حیرت نہیں تو اور کیا ہے؟ یو ٹرن کی ایسی درگت بنائی جا رہی ہے کہ الامان الحفیظ۔ سیاست میں تو فیصلے تبدیل ہوتے رہتے ہیں، ہر فیصلے کو یو ٹرن کیسے کہا جاسکتا ہے؟ کیا مصلحت، سیاسی مجبوری، نظریۂ ضرورت اور جمہوری تقاضے کوئی چیز نہیں ہوتے۔بعض فیصلے تو سراہے جانے چاہئیں، مگر انہیں تضحیک کا مصالحہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ مثلاً شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا سربراہ قبول کرنے کا فیصلہ اس لحاظ سے تو بہت حوصلہ افزا ہے کہ اس سے سیاسی ڈیڈ لاک ختم ہو گیا ہے۔

اب اسے عمران خان کے یو ٹرن کا نام دینا صریحاً زیادتی ہے۔انہوں نے کون سا پہلے کسی کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا تھا کہ اب اُس کی جگہ شہباز شریف کو قبول کر لیا ہے۔اُن کا ایک موقف تھا ، جو اپوزیشن نے قبول نہیں کیا۔انہوں نے اپنی ضد چھوڑ دی۔ پارلیمانی روایات تو یہی رہی ہیں کہ پی اے سی کا چیئرمین اپوزیشن سے ہوتا ہے،لیکن شہباز شریف کے بارے میں کپتان اور تحریک انصاف کا موقف یہ تھاچونکہ شہباز شریف نیب کی حراست میں ہیں،خود اُن پر بدعنوانی کے کیسز موجود ہیں،اِس لئے انہیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین کیونکر بنایا جا سکتا ہے؟ایک دلیل یہ بھی دی جاتی رہی کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے نواز شریف دور کے آڈٹ پیرے دیکھنے ہیں۔

شہباز شریف بھلا اپنے بھائی کے دور کا آڈٹ کیسے کریں گے؟ ان دلائل میں وزن تو تھا، مگر اپوزیشن پارلیمانی روایات کا حوالہ دیتی رہی اور پوری اپوزیشن جماعتیں شہباز شریف کو چیئرمین بنانے پر متفق تھیں، سو ایک راستہ تو یہی تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار رہے، نہ پارلیمانی امور چلیں اور نہ اسٹیڈنگ کمیٹیاں بنیں۔ گویا قانون سازی کا عمل رکا رہے۔

اس کا سرا سر نقصان تو خود حکومت کو تھا۔ جب قانون سازی ہی نہیں ہو گی تو حکومت اپنا منشور کیسے نافذ کر سکے گی،سو یہ فیصلہ تو حکومت ہی نے کرنا تھا کہ امورِ مملکت چلانے ہیں یا ضد پر اَڑے رہنا ہے؟ اچھا ہوا کہ عمران خان نے ضد چھوڑ دی اور ایک سیاسی فیصلہ کر کے ڈیڈ لاک ختم کر دیا، مگر اسے اُن کا یو ٹرن کہہ کر اُن کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے۔ بھلے سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اسے ان کا اچھا یوٹرن قرار دیں،لیکن صاف لگ رہا ہے کہ اس معاملے پر بھی ان کا مذاق بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

حد تو یہ ہے کہ اِس فیصلے کو عمران خان کا پہلا این آر او قرار دیا جا رہا ہے۔ چینلز اُن کے پرانے کلپس دکھا رہے ہیں جن میں وہ کہتے ہیں کہ کسی کو این آر او نہیں ملے گا اور ساتھ ہی یہ خبر بھی چلا دیتے ہیں کہ عمران خان نے شہباز شریف کو چیئرمین بنانے پر آمادگی ظاہر کر دی۔ کیا اسے این آر او کہا جا سکتا ہے؟اس میں ایسی کون سی رعایت دی گئی ہے کہ جسے این آر او سے تعبیر کیا جائے؟ شہباز شریف تو پہلے ہی قائد حزبِ اختلاف ہیں اور یہ کوئی معمولی عہدہ نہیں۔ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تو اس سے کہیں کم تر اہمیت کا حامل عہدہ ہے۔

جب حکومت نے شہباز شریف کو قائد حزبِ اختلاف قبول کر لیا تھا تو اُس وقت کسی نے یو ٹرن یا این آر او کی بات نہیں کی تھی، کیونکہ جمہوریت میں روایات بڑی اہمیت رکھتی ہیں اور پارلیمانی روایات تو آئین کا عکس ہوتی ہیں۔ شکر ہے شہباز شریف نے حکومتی فیصلے کے بعد اسمبلی میں جو تقریر کی اُس میں کوئی ایسی بات نہیں کی، بلکہ انہوں نے اسے حکومت کا احسن فیصلہ قرار دیا، جو جمہوریت کے لئے سود مند ثابت ہو گا۔

کہنے کو اسمبلی میں وہ بھی بڑھک مار سکتے تھے اور کہہ سکتے تھے کہ ہم نے اپنے اتحاد سے نیازی خان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا اور ان سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا عہدہ چھین لیا ہے، لیکن شہباز شریف ایک سلجھے ہوئے سیاست دان ہیں، وہ جانتے ہیں سیاست میں فیصلے کس انداز سے کرنے پڑتے ہیں، اُنہیں اِس کا بھی اندازہ ہے کہ اِس وقت سیاسی حالات کیا ہیں اور خود حکومت کی کیا مجبوریاں ہیں، اس لئے وہ اپنے معیار سے نیچے نہیں آئے اور بہت حوصلہ افزا خطاب کیا۔

خود حکومت کے کارپردازان کے لئے بھی اس میں گہرا سبق موجود ہے۔خواہ مخواہ ایک موقف پر اڑ جانا مناسب نہیں۔ خاص طور پر ایک ایسے معاملے میں،جو اپنی روایات کے حوالے سے حکومتی موقف سے لگا نہیں کھاتا۔ حکومت اس موقف پر ضرور اڑ سکتی ہے کہ وہ کسی کو این آر او نہیں دے گی، کیونکہ یہ معاملہ اس کی صوابدید پر ہے، لیکن اسمبلی کے اندر اپوزیشن کو نظر انداز کرکے من مانی نہیں کی جا سکتی۔ خاص طور پر اِس صورت میں، جب اپوزیشن بھی ایک بڑی اکثریت رکھتی ہو۔ اب تک اسمبلی کے اندر جو کچھ ہوا ہے، وہ حکومت کی کامیابی نہیں کہا جا سکتا۔

مسلسل بائیکاٹ اور ہنگامہ آرائی تو حکومتی مفاد میں نہیں۔ فواد چودھری یہ سمجھتے رہے کہ ان کی وجہ سے اپوزیشن زچ ہو جاتی ہے، بائیکاٹ کر دیتی ہے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے، حالانکہ یہ تو سراسر حکومت کے لئے نقصان دہ صورتِ حال تھی۔ جہاں اور بہت سی چیزوں نے اس تاثر کو جنم دیا کہ حکومت چل نہیں رہی، وہیں اسمبلی کی پُرانتشار صورتِ حال بھی اس تاثر کو بڑھانے میں بہت کارگر ثابت ہوئی اور اپوزیشن گویا پہلا راؤنڈ جیت گئی۔ پہلے دن ہی سے یہ غلط موقف اپنایا گیا کہ شہبازشریف کو پی اے سی کا عہدہ نہیں دیا جائے گا، جبکہ یہ حکومت کا اختیار ہی نہیں تھا۔

شہبازشریف پر نیب کے مقدمات اور اپنے بھائی کی حمایت کا مفروضہ گھڑ کے اس عہدے سے انہیں کیسے محروم رکھا جا سکتا تھا؟ اس کی صورت تو یہی تھی کہ انہیں قومی اسمبلی ہی سے نکال دیا جاتا یا وہ نااہل کر دیئے جاتے۔ اگر وہ رکن اسمبلی ہیں، اپنی پارٹی کے سربراہ بھی ہیں،انہیں اپوزیشن نے اپنا لیڈر بھی چن لیا ہے تو پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ اُنہیں چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بننے سے اِس لئے روک دیا جاتا کہ وہ عمران خان کے اصولی موقف پر پورا نہیں اُترتے تھے۔۔۔۔

لیکن اس کے باوجود اس بات کو کپتان کا یوٹرن کہنا زیادتی ہے۔ اس طرح کے سیاسی فیصلے تو ماضی میں بھی کئی بار ہوئے ہیں۔ قائد حزبِ اختلاف بنانے پر تو اکثر کھینچا تانی ہوتی رہی ہے۔ ایسا پیپلزپارٹی کے دور میں بھی ہوا اور مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں بھی۔ اسے جمہوریت کا حسن کہا جاتا ہے اور غلط نہیں کہا جاتا۔

اصل میں اس بار یہ معاملہ چونکہ زیادہ طول پکڑ گیا، اس لئے حالات کشیدہ بھی ہوئے اور حکومت پر دباؤ بھی بڑھا۔ یہ بات تسلیم کر لینی چاہیے کہ اپوزیشن نے اپنے پتے بڑی مہارت سے کھیلے ہیں، سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ اپوزیشن بالکل متحد رہی ہے۔ حکومت اس میں دراڑ نہیں ڈال سکی۔ اگر کہیں ایسا ہو جاتا کہ پیپلزپارٹی شہبازشریف کو پی اے سی کا چیئرمین بنانے سے انکار کر دیتی تو حکومت کے پاس اس بات کا مضبوط جواز ہوتا کہ شہبازشریف کو یہ عہدہ نہیں دیا جا سکتا۔

اپوزیشن نے تو مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حکومت اس معاملے میں تنہا رہ گئی۔ حکومت کی طرف سے اگرچہ اپوزیشن میں دراڑ ڈالنے کی ایک کوشش ضرور کی گئی۔ جب یہ عہدہ بلاول بھٹو زرداری کو دینے کا اظہار کیا گیا، مگر اس کی ترکیب اس وقت ناکام ہو گئی، جب خود بلاول بھٹو زرداری نے یہ عہدہ لینے سے انکار کر دیا۔ صاف لگ رہا ہے کہ کپتان اور اُن کے کھلاڑیوں نے یہ خواہش تو دِل میں پال لی کہ شہباز شریف کو اس عہدے سے دور رکھنا ہے، مگر اس کے لئے کوئی ہوم ورک، کوئی جوڑ توڑ نہیں کیا، سو بالآخر اُسے ہار ماننی پڑی۔ ہاں اسے ہار ماننا ہی کہا جائے گا، یہ یو ٹرن ہر گز نہیں، ایک سیاسی چال تھی جو ناکام ہو گئی۔

شہباز شریف دو بڑے عہدے لینے میں کامیاب ہو گئے،لیکن کیا اپنی اس حیثیت کا فائدہ وہ اپنے خلاف کیسوں سے بچنے کے لئے بھی استعمال کر پائیں گے؟اگر ایسا ہے تو اُس کی کیا صورت ہو گی؟ کیا وہ حکومت پر دباؤ ڈال کر ایسا کریں گے یا نیب کو دباؤ میں لائیں گے، یا سرے سے وہ کچھ کر ہی نہیں پائیں گے؟ جہاں تک حکومت کا تعلق ہے تو بوجوہ یہ اُس کے بس میں نہیں کہ شہباز شریف یا کسی اور کو احتساب سے بچا سکے یا کیسوں کو التوا میں ڈال سکے،کیونکہ خود وزیراعظم عمران خان کا یہ عزم ہے کہ وہ احتساب کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔

جہاں تک نیب سے بچنے کا تعلق ہے یا اُس پر دباؤ ڈالنے کی بات ہے تو موجودہ حالات میں ایسی کوئی گنجائش نکلتی دکھائی نہیں دیتی، پھر شہباز شریف کے پاس ایسا کوئی اختیار ہے بھی تو نہیں جسے بروئے کار لا کر وہ نیب کو بے بس کر سکیں۔ہاں وہ اسمبلی میں نیب پر تنقید ضرور کر سکتے ہیں،لیکن نیب اب چُپ شاہ نہیں رہا،وہ ترکی بہ ترکی جواب بھی دیتا ہے:آج کا قطعہ

پتھر اٹھا لئے

ظالم کو زعم تھا کہ یہاں مر چکے ہیں سب

بستی میں سر پھروں نے مگر سر اُٹھا لئے

مَیں نے تو بس کہا تھا کہ سچ بول کر جیو

سب دوستوں نے ہاتھوں میں پتھر اُٹھا لئے

مزید :

رائے -کالم -