مولانا شا احمد نورانی، بلندپایہ عالم اور سیاست دان!

مولانا شا احمد نورانی، بلندپایہ عالم اور سیاست دان!
 مولانا شا احمد نورانی، بلندپایہ عالم اور سیاست دان!

  

دنیائے سیاست میں سیاسی جماعتوں کا تشخص شخصیات سے جڑ جاتا ہے اور شخصیات کا جماعتوں سے ظاہر ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں بھی شخصیت پرستی ہے اور اس حد تک راسخ ہے کہ اس کے اٹھ جانے اور پردہ پوش ہو جانے کے بعد جماعت بھی بکھرنے لگتی ہے۔ اس سلسلے میں ایسی کوئی جماعت نظر نہیں آتی ،جس کے بطن سے دوسری، تیسری یا چوتھی جماعت وجود میں نہ آئی ہو، مسلم لیگ کو تو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کے بینر تلے حضرت قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں یہ ملک حاصل کیا گیا۔

قیام پاکستان سے پہلے بھی یہ جماعت دو حصوں میں بٹی اور ایک مسلم لیگ سر محمد شفیع کی بنی تاہم کوئی اثر قائم نہ کر سکی اور قائداعظم کی سربراہی میں مسلم لیگ ہی حقیقی رہی اور اسی نے ملک حاصل کیا۔ قیام پاکستان کے بعد جو بیتی اس کی ایک اپنی تاریخ ہے اور اس وقت بھی مسلم لیگ کے نام سے تین سے زیادہ مسلم لیگیں ہیں۔ اسی طرح پیپلزپارٹی ذوالفقار علی بھٹو کے نام سے وجود میں آئی اور ہے تاہم اس کے بطن سے بھی پیپلزپارٹی بنتی رہی۔ آج بھی بھٹو کی پیپلزپارٹی کے علاوہ پیپلزپارٹی (بھٹو شہید) اور پیپلزپارٹی ورکرز موجود ہیں، چاہے عوام میں پذیرائی بھٹو، نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو والی پارٹی ہی کو ہے، یہ اب آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی کمان میں ہے۔

جمعیت علماء پاکستان ایک دینی سیاسی جماعت ہے جو قیام پاکستان کے بعد بنی اور علامہ ابوالحسناتؒ نے بنیاد رکھی تھی۔ ان کی زندگی تک ایک ہی تھی، ان کی وفات کے بعد یہ بھی ایک سے دو اور دو سے تین چار ہوتی رہیں۔ علامہ ابوالحسنات کی وفات کے بعد قیادت کے جھگڑے پر تقسیم ہوتی چلی گئی۔ بہرحال 1970ء میں اس جماعت کے بڑے حصے کی قیادت مولانا شاہ احمد نورانی کے پاس آئی تو باقی دھڑے دب کر رہ گئے اور پھر وہ وقت بھی آیا جب مولانا عبدالستار نیازی جیسی شخصیت ان کے ساتھ سیکرٹری جنرل کے طور پر منتخب ہوئی اور اسے عروج بھی ملا، آج یہ جماعت بھی کئی حصوں میں بٹ چکی ہے اور وہ بات نہیں رہی جو مولانا ابوالحسنات اور مولانا شاہ احمد نورانی کے دور میں تھی، ان دونوں اکابر کو تحریک ختم نبوت کے حوالے سے اعزاز بھی حاصل ہے۔

یہ تحریک متحدہ مسلمانوں کی تحریک بنی تو اعزاز مولانا ابوالحسنات کے حصے آیا، وہ کل جماعتی مجلس تحفظ ختم نبوت کے متفقہ صدر تھے اور پھر یہ جماعت حصے ہونے کے بعد مولانا شاہ احمد نورانی کے زیر صدارت ایک موثر جماعت بن گئی۔ مولانا شاہ احمد نورانی کو پہلا اعزاز یہ حاصل ہوا کہ وہ قومی اسمبلی کے رکن تھے اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلانے والی تحریک کا حصہ تھے۔ قومی اسمبلی میں انہوں نے اس آئینی ترمیم کی منظوری کے لئے سرگرمی سے حصہ لیا جو ایوان نے منظور کی اور قادیانی غیر مسلم اقلیت ٹھہرے۔

مولانا شاہ احمد نورانی جن کو بچھڑے پندرہ برس ہو گئے۔ ایک صاحب علم، جہاندیدہ اور زیرک سیاست دان کے طور پر بھی ابھرے اور قومی اتحاد کی تحریک میں ان کا کردار بھی بہت نمایاں تھا، یہ مولانا شاہ احمد نورانی تھے جنہوں نے اپنی جماعت اور اس حوالے سے قومی اتحاد کے بھی جنرل سیکرٹری رفیق احمد باجوہ کو ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر جماعت سے الگ کر دیا تھا، جب یہ تصدیق ہوئی کہ انہوں (باجوہ) نے اجازت اور اتحاد کے کسی فیصلے کے بغیر ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کی تھی، حالانکہ رفیق احمد باجوہ اس وقت بہت پاپولر لیڈر تھے۔

مولانا شاہ احمد نورانی کے حوالے سے بہت کچھ یاد آ رہا ہے۔وہ عالم دین ہی نہیں، ایک اچھے سیاست دان بھی تھے۔ دھیمے لہجے میں بات کرنے والے یہ بزرگ دلیل سے بات کرتے اور دلیل پر صاد بھی کرتے تھے، خود بھی صاحب کردار تھے۔وہ اپنے والد کی جانشینی کرتے ہوئے بیرون ملک تبلیغ کے لئے بھی جاتے تاہم جہاں کہیں بھی ہوتے رمضان المبارک سے پہلے واپس آ جاتے کراچی میں نماز تراویح ضرور پڑھاتے اور قرآن سناتے کہ انہوں نے نو سال کی عمر میں قرآن حِفظ کیا تھا۔ مولانا شاہ احمد نورانی قد آور شخصیت تھے اور سیاست میں ان کی آواز سنی جاتی تھی۔

وہ خود بہت حلیم الطبع تھے، ہمیں یاد ہے کہ مولانا عبدالستار نیازی ان کی جماعت کے سیکرٹری جنرل تھے وہ تیکھے مزاج کے بزرگ تھے تاہم نورانی صاحب سے ان کی بہت بنتی تھی کہ حضرت علامہ نورانی ان کو بہت عزت اور احترام دیتے تھے۔ ہمارے سامنے جب کبھی کسی پریس کانفرنس یا بات چیت کا موقع آیا، دونوں حضرات موجود ہوتے تو مولانا شاہ احمد نورانی بات شروع کرنے سے پہلے مولانا عبدالستار نیازی سے اجازت لیتے تھے۔ یوں ان میں بہت نبھتی تھی۔

واقعات اور باتیں تو بہت ہیں، کیا کیا بتائیں اور لکھیں، ایک دو مثالیں ہی کافی ہوں گی۔ مولانا شاہ احمد نورانی بڑا شُستہ مزاح بھی پیدا کرتے اور مہذب جواب بھی دیا کرتے تھے۔ ایک بار ضیاء الحق نے کہا، مولانا نورانی پان بہت کھاتے ہیں، جب مولانا سے ان کا تاثر جاننے کی کوشش کی تو وہ بولے۔ ’’جنرل صاحب بھی تو ’’ڈُن ہل‘‘ کے سگریٹ پیتے ہیں۔ ہم نے تو اعتراض نہیں کیا۔ ان کے اخلاص کا یہ عالم تھا کہ ڈاکٹروں نے تشخیص کے بعد بتایا کہ ان کے دل کے والو خراب ہیں اور ان کو بائی پاس آپریشن کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر کی تشخیص کے بعد بھی وہ مصروف رہے۔ جب آپریشن کے لئے کہا جاتا تو ٹال جاتے تھے۔

معلوم کرنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ آپریشن کے اخراجات نہیں۔ تب یہ خرچہ ذرا زیادہ تھا، چنانچہ وہ رقم نہ ہونے کے باعث آپریشن سے گریز پا رہے۔ جب اصرار بڑھ گیا اور پیشکش ہوئی کہ وہ جماعتی فنڈ میں سے لے لیں تو انہوں نے انکار کر دیا۔ساتھیوں اور عقیدت مندوں کا دباؤ اور اصراربڑھ گیا تو وہ اس شرط پر آپریشن کے لئے تیار ہوئے کہ جو حضرات برداشت کریں گے وہ رقم قرضِ حسنہ شمار ہوگی اور آپریشن کے بعد واپس کر دی جائے گی۔ جب یہ طے پا گیا تو پھر مولانا آپریشن کرانے ہالینڈ گئے کہ سب سے کم اخراجات وہاں کے تھے،ان کی وفات کے بعد جمعیت علماء پاکستان بٹتی چلی گئی آج تین چارجماعتیں ہیں۔ ایک مرکزی جماعت نہیں رہی، اللہ ان کے درجات بلند کرے۔

مزید :

رائے -کالم -