آبی بحران کی شدت اور قومی معیشت

آبی بحران کی شدت اور قومی معیشت
 آبی بحران کی شدت اور قومی معیشت

  

سپریم کورٹ کی کوئٹہ رجسٹری کی نئی عمارت کی بنیادیں رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس ثاقب نثار نے پاکستان کے آبی بحران پر روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا کہ کوئٹہ میں آبی بحران یہاں تک جا پہنچا ہے کہ لوگوں کو ہجرت کرنا پڑسکتی ہے، انہوں نے بتایا کہ پانی کے بارے میں تشکیل کردہ کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کراچی میں پانی مافیا پایا جاتا ہے، پانی بیچنے والی کمپنیاں زمین سے 7ارب گیلن پانی کھینچ کر مارکیٹ میں بیچ رہی ہیں، ان کمپنیوں پر جلد ہی ٹیکس لاگو کردیا جائے گا، جس سے 1ارب روپیہ سالانہ وصول کیا جائے گا اور یہ رقم ڈیم کی تعمیر میں استعمال کی جائے گی۔چیف جسٹس نے بتایا کہ اگر ہم نے آبی بحران سے نمٹنے کے لئے سنجیدہ فکری کا مظاہرہ نہ کیا تو 2025ء تک ملک پانی کے شدید ترین بحران کا شکار ہو جائے گا۔

چیف جسٹس کی باتیں نہ صرف ہمارے لئے ایک انتباہ ،بلکہ تلخ حقیقت ہیں، پاکستان کا شمار دنیا کے ان 30 ممالک میں ہوتا ہے، جہاں پانی کی شدید قلت پائی جاتی ہے اور آبی ماہرین کے مطابق ان ممالک میں اگلی دھائی کے دوران یہ قلت سنگین بحران کی صورت اختیار کرسکتی ہے۔ پاکستان کا 80فیصد علاقہ بنجر اور نیم بنجر زون میں واقع ہے، جہاں شدید گرمی کے باعث پانی کے بخارات بن کر اڑ جانے کی خاصی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ پانی کی رسد کے حوالے سے بھی پاکستان کی صورت حال تسلی بخش نہیں ہے، پاکستان بارشوں اور پانی کی دستیابی کے حوالے سے بھی غیر یقینی کا شکار ہے، یہاں اگر بارشیں اچھی برس جائیں تو پانی کی صورت حال بہتر ہو جاتی ہے، اگر بارشیں نارمل نہ ہوں تو پانی کی دستیابی نازک صورت اختیار کر جاتی ہے۔

ہماری قومی معیشت زراعت پر انحصار کرتی ہے، ہماری آبادی کی اکثریت دیہاتی علاقوں میں رہتی ہے، جن کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے۔ ہماری 67فیصد کارآمد آبادی یعنی کام کرنے والی آبادی کھیتی باڑی اور اس سے منسلک پیشوں کے ساتھ وابستہ ہے، یعنی ہمارا زرعی شعبہ سب سے زیادہ روزگار کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کی برآمدات کا 65فیصد زراعت سے حاصل ہوتا ہے، کپاس، چاول، باجرہ، جوار، مکئی، گندم اور چینی جیسی اشیاء کی برآمد کے ذریعے ہم زرمبادلہ کماتے ہیں،اس کے علاوہ ہماری بیشتر صنعتیں بھی زراعت اور زرعی پیداوار پر انحصار کرتی ہیں، گویا ہماری صنعتی برآمدات بھی زرعی پیداوار پرانحصار کرتی ہیں۔ ان سب کی بنیاد پانی ہے۔

ہمارے ہاں آبپاشی کا نظام انگریزوں کے دور کا قائم کردہ ہے،اس خطے میں پانچ دریاؤں کی بنیاد پرآبپاشی کا وسیع و عریض نظام قائم کیا گیا۔ پاکستان کی طرف بہنے والے پانچ دریا، پنجاب یعنی پنج آب، پانچ دریاؤں کی سرزمین کی پہچان یہ دریا ہیں۔ جو آگے چل کر دریائے سندھ بنتے ہیں اور پھر جو بحیرۂ عرب میں جا گرتا ہے۔ یہ پانی کے منبعے ہندوکش ہمالیہ سے پھوٹتے ہیں، کشمیر سے گزر کر پاکستان کی طرف بہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا، انہیں معلوم تھا کہ اگر کشمیر پاکستان کی دسترس میں نہیں آتا تو وہاں سے بہنے والے دریاؤں کا پانی ہندوستان کے کنٹرول میں ہوگا اور وہ پاکستان کے لئے مشکلات پیدا کرے گا۔

ہماری تاریخ کے ایک متنازع کردار علامہ مشرقی نے جو عالمی سطح کے مدبر حساب دان اور سائنسدان مانے جاتے تھے، کہا تھا کہ ’’ہندوستان دریاؤں کے رخ موڑ دے گا، لوگوں نے کہا کہ‘‘ علامہ بوڑھے ہو گئے ہیں، شاید ان کی ذہنی حالت درست نہیں ہے، کیا کوئی دریاؤں کے رخ موڑ سکتا ہے، اس وقت شاید یہ بات درست لگتی ہو، لیکن آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان واقعتاً آبی بحران کا شکار ہوچکا ہے۔ ہندوسرکار نے بڑی ذہانت اور منصوبہ بندی کے ساتھ پاکستان کی طرف بہتے پانیوں پر بند باندھے۔

پہلے عالمی بینک کے ساتھ مل کر سندھ طاس معاہدے کے ذریعے تین دریاؤں کے پانی پر قانونی استحقاق حاصل کیا، پھر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے حصے کے پانی کو بھی روکنے کی منظم کاوشیں شروع کیں، جن کے نتائج آج ’’آبی بحران‘‘ کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں، ہندوستان ایک عرصے سے پانی کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے۔

پاکستان کے ساتھ فوجی ٹکراؤ ممکن نہیں ہے، ہماری مسلح افواج ایٹم بم سے مسلح ہیں، انہیں شکست دینا ممکن نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ بھارت دیگر حربوں کے ساتھ ساتھ پانی کو بھی استعمال کررہا ہے، پانی کی کمیابی کے ذریعے پاکستان کی معیشت اور معاشرت کو کمزور اور برباد کرنا پاکستان کے خلاف بھارتی منصوبوں کا حصہ ہے، بھارت نے بڑی منظم منصوبہ بندی کے ساتھ پاکستان کو آبی بحران میں دھکیلا ہے۔

بھارت ہمارا دشمن ہے، اس نے جو کچھ کیا، اس سے وہی کچھ متوقع تھا، کیونکہ دشمن تو ہوتا ہی اس لئے ہے کہ وہ نقصان پہنچائے، لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم نے پانی کے ایشو سے نمٹنے کے لئے کیا کیا۔

ہم نے پانی کی قلت سے بچنے کے لئے ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے بطور قوم مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا، تربیلا اور منگلا کے علاوہ ہم نے پانی کے ذخیرہ کرنے کا 70سالوں کے دوران کوئی مناسب بندوبست نہیں کیا، اس کے علاوہ دستیاب پانی سے زیادہ سے زیادہ افادیت کے لئے کسی قسم کی منصوبہ بندی نہیں کی۔ ہمیں تو بطور قوم شاید اس بحران کا احساس ہی نہیں ہے۔ذراسوچئے ہم زرعی ملک ہیں، ہماری قومی معیشت زراعت پر انحصار کرتی ہے اور پانی اس کے لئے ایسے ہی اہم ہے، جیسے جسم کے لئے روح اور رگوں میں بہتا ہوا خون۔ ہم بارشوں، نہروں اور ٹیوب ویلوں کے ذریعے کھیتی باڑی کرتے ہیں، یہاں موسم گرم ہونے کے باعث بہت سا پانی بخارات بن کر ہوا میں تحلیل ہو جاتا ے، اس کے ساتھ ساتھ بہت سا پانی نہروں نالوں میں ضائع ہو جاتا ہے۔

ہمارا آبپاشی کا نظام بھی ناقص ہے، جس کے باعث دستیاب پانی کا ایک حصہ ضائع ہو جاتا ہے، ہم نے دستیاب پانی کا بہتر اور موثر استعمال یقینی بنانے کی بھی کاوشیں نہیں کی ہیں، جس کے باعث آج ہم شدید آبی بحران کا شکار ہیں ۔پانی کی کمی ہماری زراعت کو متاثر کررہی ہے، اجناس اور خوراک کی دستیابی میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث اجناس کی طلب میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے، لیکن اجناس کی رسد میں اس قدر اضافہ نہیں ہو رہا ہے، جس کے باعث قیمتوں میں اضافے نے معاملات میں عدم توازن پیدا کردیا ہے، اس طرح غربت بھی بڑھ رہی ہے۔ خوراک کی کمی اور غربت میں اضافے کے باعث دیگر معاشرتی اور اخلاقی مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں، جس سے ہم بطور قوم کمزور ہوتے چلے جارہے ہیں۔

خشک سالی کے باعث زراعت کا زیر زمین پانی پر انحصار بڑھتا چلا جارہا ہے، اس لئے زیر زمین پانی کی سطح بتدریج گرتی چلی جارہی ہے، جس کے باعث شہری اور دیہی آبادی کے لئے پینے اور استعمال کا پانی بھی کمیاب ہوتا چلا جارہا ہے۔ منرل واٹر بیچنے والی کمپنیاں ایسی صورت حال میں لوگوں کے لوٹنے کے درپے ہیں، آبادی میں اضافے نے بھی صورت حال میں بگاڑ پیدا کیا ہے، قحط زدگی کی صورت حال میں زیر زمین پانی پر انحصار کے باعث پینے اور استعمال کے پانی کی کمیابی نے دیہی علاقوں سے لوگوں کی شہری علاقوں کی طرف ہجرت کے رجحانات میں بھی اضافہ کیا تھا، آج ہم دیکھتے ہیں کہ کراچی جیسے شہر میں واٹر مافیا طاقتور ہو چکا ہے اور کوڑاتلف کرنا ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے، کراچی کے بعد لاہور میں بھی کوڑا اکٹھا کرنے اور تلف کرنے کے لئے ٹیکس نافذ کرنے کی گونج سنائی دے رہی ہے۔

یہ آبادی کے دباؤ کا کمال ہے کہ ہم بڑھتی ہوئی شہری آبادی کے لئے مناسب سہولتوں کا بندوبست ہی نہیں کرپا رہے ہیں۔ہم نے آبادی کو منظم کرنے کے حوالے سے بھی کسی قسم کی منصوبہ بندی نہیں کی ہے۔ ہمارا پاپولیشن ویلفیئر ڈپارٹمنٹ بیرونی ممالک سے ملنے والے آلات اور ادویات کو مفت تقسیم کرنے سے آگے نہیں بڑھ سکا ہے۔

افزائش آبادی پر کنٹرول صرف برتھ کنٹرول ادویات اور آلات کی تقسیم سے ہی ممکن نہیں ہے، اس کے لئے ایک منظم سماجی تحریک کی ضرورت ہے، جس میں پوری قوم شامل ہو۔ بنگلہ دیش نے اپنی آبادی کی شرح افزائش پر قابو پاکر تعمیر و ترقی کی منصوبہ بندی کی آج ہم دیکھتے ہیں کہ وہ معاشی لحاظ سے ایک مستحکم ملک ہے، ہم معاشی طور پر روز بروز کمزور ہوتے چلے جارہے ہیں، ضروریات زندگی کا حصول مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جارہا ہے، روزگار کے مواقع گھٹتے جارہے ہیں۔ غربت کی لکیر سے نیچے زندگیاں گزارنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، چیف جسٹس نے ٹھیک کہا ہے کہ اگر ہم نے آبی بحران سے نمٹنے کی کاوشیں نہ کیں تو 2025ء تک بحران ایک شدید بحران میں تبدیل ہو جائے گا۔

مزید :

رائے -کالم -