پنجاب کا عشق (2)

پنجاب کا عشق (2)
 پنجاب کا عشق (2)

  

دوسری طرف صاحباں کے بھائی اور دوسرے عزیز ان کی تلاش میں تھے۔ مرزا کو اپنی تیر اندازی پر غیرمعمولی فخر تھا۔ درخت پر بیٹھی ہوئی فاختہ کو دیکھ کر صاحباں نے مرزا سے کہا کہ وہ اس طرح تیر چلائے کہ فاختہ کے منہ میں پکڑا ہوا کیڑا نیچے گر جائے، جبکہ وہ محفوظ رہے۔ مرزا نے تیر چلایا اور کیڑا نیچے گر گیا، جبکہ فاختہ محفوظ رہی۔ یہاں کہانی کا وہ موڑ آتا ہے ،جس کو مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ صاحباں کو یقین تھا کہ اگر اس کے بھائی آ گئے تو مرزا اپنے تیروں سے ان سب کو ہلاک کر دے گا۔ وہ مرزا سے عشق کرتی تھی، مگر اپنے بھائیوں کی ہلاکت بھی نہیں دیکھ سکتی تھی، اِس لئے اس نے مرزا کے تیر توڑ ڈالے اور جب صاحباں کے بھائی اپنے رشتہ داروں کے ساتھ پہنچے اور مرزا بیدار ہوا تو اس کے ایک کے علاوہ سب تیر ٹوٹ چکے تھے۔ اس نے مقابلہ کرنے کی کوشش کی، مگر اسے صاحباں سمیت بے دردی سے قتل کر دیا گیا اور دونوں کی لاشیں وہاں چھوڑ کر وہ لوگ واپس چلے گئے۔

مرزا کی گھوڑی بکی وہاں سے دانا آباد میں اس کے گھر پہنچی تو اس کا باپ اور بھائی موقعہ واردات پر پہنچے اور مرزا کی لاش دیکھ کر دکھ، غصے اور انتقام کی آگ میں جلنے لگے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد ساہی کھرلوں کے ایک بڑے گروہ نے کھیوہ پر حملہ کیا اور کھیوہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اس حملے میں شریک سب کھرل گھوڑوں کی بجائے سانڈوں پر گئے تھے۔ انہوں نے مارنے یا مرنے کا عہد کیا تھا۔ گھوڑے پر فرار ہونے کے امکانات ہوتے ہیں، مگر سست رفتار سانڈ پر ایسا رسک نہیں لیا جا سکتا تھا، اِس لئے وہ ڈٹ کر لڑے اور انہوں نے اس کا خوفناک بدلہ لیا۔

ساندل بار کے علاقے میں جہاں مرزا صاحباں کے عشق کی داستان معروف ہے، وہاں اس انتقام کا تذکرہ بھی منظوم انداز میں کیا جاتا ہے۔

مرزا صاحباں کی داستان لوک گیتوں میں موجود ہے۔ اسے میلوں، ٹھیلوں، سرکس اور تھیٹر میں پیش کیا جاتا ہے۔ منظوم انداز میں گایا جاتا ہے۔ اس پر پاکستان اور بھارت میں متعدد فلمیں بن چکی ہیں۔

ہر فلم میں داستان کے کسی نہ کسی پہلو کو اُجاگر کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مہینوال، ہیررانجھا اور سسی پنوں کی داستانوں میں عورت کا کردار زیادہ زوردار ہے جو عشق میں سرمست ہو کر ہیرو سے زیادہ رسک لیتی ہیں، مگر مرزا صاحباں کی کہانی میں مرزا زوردار کردار ہے۔ یہاں مرزا صاحباں کے عشق میں تن من کی بازی لگاتا ہے، مگر آخری مرحلے پر صاحباں تیر توڑ دیتی ہے، کیونکہ اس پر اپنے خاندان کی محبت غالب آ جاتی ہے اور مرزاکے متعلق کہا جاتا ہے:

’’مرزا باج بھراواں ماریا اوہدی ننگی ہو گئی کنڈ‘‘

مرزا جٹ پنجاب کی لوک داستانوں کا ہیرو ہے۔ اس پر بنائی جانے والی فلموں نے کروڑوں روپے کا بزنس کیا ہے، مگر اس کے مزار کی طرف جانے والی کچی سڑک کو دیکھ کر ہمیں زمانے کی بے حسی کا کچھ زیادہ ہی احساس ہوا۔ مرزا صاحباں کے مزار کے متولی کا تعلق اس کے خاندان سے ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ کبھی کبھار ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کے کچھ لوگ یہاں آتے ہیں،پیمائشیں وغیرہ کرتے ہیں، تصویریں بناتے ہیں، مگر پھر کچھ نہیں ہوتا۔ مزار پر ایک گنبد زیرتعمیر ہے، جو وزیرآباد کا ایک شخص اپنی ذاتی حیثیت سے بنا رہا ہے۔

یہاں ویرانی، خاک، بے بسی اور افسردگی کا راج نظر آتا ہے۔ اس علاقے میں مرزاکا ساہی خاندان آباد ہے، مگر کہا جاتا ہے کہ خاندانی رقابتوں نے مدتوں اس علاقے کو خوف و ہراس کے حصار میں رکھا ہے۔ چند سال قبل اس علاقے میں دن کے وقت بھی کسی کا سفر کرنا ممکن نہیں تھا۔ اب اس علاقے میں امن و امان کی صورتِ حال بہتر ہوئی ہے۔ کبھی کبھار مرزا صاحباں کے مزار کو دیکھنے لوگ آتے ہیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ برسوں پہلے یہاں مرزا صاحباں کا میلہ ہوتا تھا، مگر چونکہ اس علاقے میں صاحباں کی قوم کے لوگ بھی آباد ہیں۔

یہاں لڑائی جھگڑے اور ہنگامے اتنے زیادہ ہوئے کہ اب میلے پر پابندی ہے۔ صاحباں اور ہیر کا تعلق ایک ہی قوم سے ہے۔ جھنگ میں ہیر رانجھا فلم کی نمائش نہ ہونے کی وجہ یہی رہی ہے۔ اس قوم سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ نے کہا تھا: ’’دوسری قوموں کی بہت سی بیٹیوں نے بھی وہی کچھ کیا تھا جو ہماری ہیر نے کیا تھا، مگر ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ وارث شاہ نے ہیر لکھ دی اور ہمیں ابدی طور پر بدنام کر دیا‘‘۔

مرزا صاحباں کی داستان لکھنے والوں کے متعلق بھی کہا جاتا ہے کہ بہت سے شاعروں نے اپنی زندگی کے المیوں کو اس داستان کا حصہ بنا کر صاحباں کو عورت کی بے وفائی کا نمونہ بنا کر پیش کیا ہے۔

آج یہی تضاد بہرحال ہمارے معاشرے کا حصہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو فلموں، کہانیوں اور لٹریچر کے ذریعے یہ سکھاتے ہیں کہ عشق کرنا بہت اعلیٰ درجے کا کام ہے، لیکن اگر کوئی لڑکا یا لڑکی ایسی کوئی حرکت کر بیٹھے تو اس کا علاج تشدد کی کسی نہ کسی صورت میں تلاش کیا جاتا ہے۔ ایک انڈین پنجابی فلم کی ماں اپنی پنجابی بیٹی کو سمجھاتے ہوئے کہتی ہے: ’’دُنیا میں پنجابی سے اچھا کوئی باپ نہیں۔ یہ اپنی بیٹی کو دُنیا کی بہترین اشیاء فراہم کرتے ہیں۔ اس کی شہزادی کی طرح پرورش کرتے ہیں۔

اس کے لئے جان بھی قربان کرتے ہیں، مگر اسے اپنی پسند کی شادی کا حق نہیں دیتے‘‘۔ مرزا صاحباں کے رومانس کی پوری دنیا میں دھوم ہے۔ اس پر انگریزی میں بھی بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ یہ پاکستان ہی نہیں، برصغیر کی ایک بڑی المیہ رومانوی داستان ہے۔آپ مرزا صاحباں سے محبت کریں یا نفرت،لیکن ان کو نظر انداز کرنا ایک بڑا جرم ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جو قومیں اپنی تاریخ فراموش کر دیتی ہیں،ان کا جغرافیہ بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔اسی طرح کلچر اور تمدن کے حقائق سے چشم پوشی قوموں کوبے یقینی کے جہنم کی طرف لے جاتی ہے۔(ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -