پبلک اکاؤنٹس کمیٹی۔۔۔لائق تحسین فیصلہ

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی۔۔۔لائق تحسین فیصلہ

  

حکومت نے قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی(پی اے سی) کا سربراہ بنانے کا متحدہ اپوزیشن کا مطالبہ تسلیم کر لیا ہے، جس کے بعد قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل پر پیدا ہونے والا ڈیڈ لاک ختم ہو گیا ہے،ان کمیٹیوں کی تشکیل اسمبلی رولز کے مطابق قائدِ ایوان (وزیراعظم) کے انتخابات کے ایک ماہ تک کرنی ہوتی ہے،لیکن پی اے سی کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کوئی تصفیہ نہ ہونے کی وجہ سے کمیٹیاں تشکیل نہیں پا سکی تھیں اور نتیجے کے طور پر قانون سازی کا سارا کام رُکا ہوا تھا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپوزیشن کا یہ مطالبہ تسلیم کر لیا ہے کہ پی اے سی کا چیئرمین اپوزیشن لیڈر کو بنایا جائے، ہمیں اِس معاملے کو ضد اور اَنا کا مسئلہ بنانے کی بجائے آگے بڑھنا چاہئے۔اُن کا کہنا تھا کہ یہ تجویز دی گئی ہے کہ مسلم لیگ(ن) دور کے آڈٹ پیراز نمٹانے کے لئے ذیلی کمیٹی بنائی جائے۔ شاہ محمود قریشی کا یہ بھی کہنا تھا ہم اصولی طور پر اتفاق کرتے ہیں کہ چیئرمین پی اے سی اپوزیشن سے ہونا چاہئے،لیکن اپوزیشن لیڈر کو نیب کیسز کا سامنا ہے یہ بحث الگ ہے کہ وہ غلط ہیں یا ٹھیک۔ ہم نے تجویز یہ دی کہ قائد حزبِ اختلاف جسے مناسب سمجھیں چیئرمین پی اے سی کے لئے نامزد کر دیں۔

شاہ محمود قریشی کے اِس اعلان کا اپوزیشن نے تو خیر مقدم کیا اور اُن وزرا اور سپیکر کی کوششوں کو بھی سراہا، جن کی وجہ سے یہ بڑی پیش رفت ممکن ہوئی، تاہم تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں اور وزرا کو یہ فیصلہ پسند نہیں آیا یہ وہ عقاب ہیں جو ہر وقت قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ایسی شعلہ بار تقریریں کرتے رہتے ہیں جیسے پنجابی محاورے کے مطابق ’’تتے توے‘‘ پر بیٹھے ہوں ان تقریروں میں غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال بھی ہو جاتا ہے،جو پہلے تو سپیکر کو حذف کرانے پڑتے ہیں اور اگر پھر بھی معاملہ ٹھنڈا نہ ہو تو متعلقہ وزرا کو ایوان سے نکال بھی دیا جاتا ہے۔

سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی نے ایک ایسی ہی تقریر پر وزیر اطلاعات فواد چودھری کو پہلے تو معذرت کرنے کے لئے کہا،لیکن جب وہ اپنے الفاظ پر ڈٹے رہے تو انہیں پورے سیشن کے لئے ایوان سے نکال دیا،جس پر وزیر با تدبیر اتنے سیخ پا ہوئے کہ یہ بے تکا سوال بھی اُٹھا دیا کہ ہم تو لاکھوں ووٹ لے کر منتخب ہوئے ہیں،چیئرمین سیینٹ تو چند ووٹ لے کر چیئرمین بن گئے ہیں یہ مضحکہ خیز موقف اختیار کرتے ہوئے وزیر صاحب نے یہ بھی نہ سوچا کہ صادق سنجرانی کو منتخب کرانے میں اُن کی جماعت کا بھی پورا پورا کردار تھا،پھر اگر بالواسطہ انتخابات کی بات کو آگے بڑھایا جائے تو یہ بہت دور تک جاتی ہے اور صدرِ مملکت اور گورنروں تک بھی پہنچ جاتی ہے، صدر کو تو پھر بھی ایک ہزار کے لگ بھگ ووٹر منتخب کرتے ہیں، ان گورنروں کو تو ایک ہی شخص کی نگاہِ ناز کی بدولت یہ عہدہ ملتا ہے،اِس لئے وہ ان کے بارے میں کیا فرمائیں گے، پھر یہ جو مشیر اور معاونین خصوصی اِتراتے پھرتے ہیںیہ کن کے نمائندے ہیں اور انہیں کس میرٹ پر مشیر بنایا گیا یہ فردِ واحد ہی جانتا ہے۔

بعض وزرا نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ کا معاملہ115دن بعد بخیرو خوبی حل ہونے کا بھی بُرا منایا اور اُن لایعنی باتوں کی تکرار جاری رکھی جو وہ اِس سے پہلے بار بار کر چکے تھے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو بلیک میل کر کے شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین بنوایا گیا، حالانکہ تحریک انصاف کے وائس چیئرمین اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تو یہ کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے فراخ دلی کا مظاہرہ کیا اور اِس معاملے کو اَنا کا مسئلہ نہیں بنایا، اب لوگ شاہ محمود قریشی کی بات مانیں یا دوسرے وزیر صاحب کی،جو اب بھی اصرار کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ اپوزیشن نے بلیک میلنگ کی اور وہ آئندہ بھی ایوان کو نہیں چلنے دے گی۔

جہاں تک قومی اسمبلی کی کارروائی کو آگے بڑھانے کا تعلق ہے یہ وہ تالی ہے،جو ہمیشہ دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے،حکومت اور اپوزیشن دونوں ایوان کا حصہ ہیں، تمام ارکان ایک ہی طریقِ کار کے تحت منتخب ہو کر آتے ہیں۔اگر حکومتی ارکان فخریہ کہتے ہیں کہ وہ لاکھوں ووٹ لے کر آئے ہیں تو کیا اپوزیشن ارکان نے کوئی کم ووٹ لئے ہیں۔ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے بہت سے ارکان تو ایسے ہیں جنہوں نے اپنے حلقوں سے نہ صرف ریکارڈ ووٹ لئے ہیں،بلکہ وہ متعدد بار اسمبلی میں آ چکے ہیں،لیکن جن لوگوں نے پہلی بار اِس اسمبلی کے درو دیوار دیکھے ہیں اُنہیں شاید اپنی فتح کا پوری طرح یقین نہیں آ رہا یا اُن کی بعض اندرونی کیفیات اُنہیں کِسی نہ کِسی وجہ سے پریشان رکھتی ہیں اِس لئے وہ ہر وقت ایوان کا ماحول گرمائے رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ قومی اسمبلی کے ایوان میں نوک جھونک ہوتی رہتی ہے،ایک دوسرے کے خلاف الزامات بھی لگتے ہیں، تلخ کلامیاں بھی ہوتی ہیں،لیکن اگر کوئی ڈیڈ لاک ختم کرنے کے لئے کسی بھی جانب سے کوئی کوشش کی جاتی ہے تو اس کی تحسین ہونی چاہئے، نہ کہ اس معاملے کو پھر کنفیوژن کا شکار کر دیا جائے، وزیراعظم عمران خان کو اپنے اُن وزرا کو راہِ راست پر لانا چاہئے، جنہوں نے ایک حل ہوتے معاملے کی راہ میں بھی روڑے اٹکانے سے گریز نہیں کیا،بلکہ اب بھی وہ اپنی دانش پر اصرار کرتے ہوئے وزیراعظم سے کہہ رہے ہیں کہ وہ یہ فیصلہ واپس لے لیں اور سپیکر کو بھی یہ پٹی پڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اپوزیشن کے بغیر ہی قائمہ کمیٹیاں بنا دیں۔اگرچہ یہ بات وزیراعظم عمران خان نے بھی دس دن پہلے ایک انٹرویو میں کہہ دی تھی،لیکن عددی لحاظ سے ایک بڑی اپوزیشن کے ہوتے ہوئے یہ بات ممکن نہیں کہ اسے نظر انداز کر کے کمیٹیاں بنائی جائیں اور پھر اسمبلی کو معمول کے مطابق چلایا بھی جائے۔قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے پی اے سی کی سربراہی کا مسئلہ طے ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا اور تحریک انصاف کے عقابوں کے برعکس تحمل کا مظاہرہ کیا ہے،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان حضرات نے حزبِ اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان ہونے والے سمجھوتے پر غور کرنا ہی مناسب نہیں جانا، اس فیصلے میں پیپلزپارٹی کی تجویز کو شامل کیا گیا کہ جب کوئی معاملہ یا اعتراض سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے اختیارات اور ان کی ہدایت یا حکم پر ہو نے والے اخراجات کے آڈٹ کا ہو گا تو چیئرمین کمیٹی شہباز شریف نہیں، ایک تشکیل کردہ خصوصی کمیٹی ان اعتراضات کا جائزہ لے گی۔ یہ درمیانی راہ تھی، جس نے کامیابی کے دروازے کھولے، اور اب پارلیمینٹ میں کارروائی آگے بڑھے گی۔

قومی اسمبلی کی مجالس قائمہ مقررہ مدت میں تشکیل نہیں پا سکیں اور عوامی بہبود کے کئی کام اٹکے رہے۔یوں بالواسطہ طور پر آئین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، اپوزیشن بضد تھی کہ پختہ روایت کے مطابق ہر اسمبلی میں لیڈر آف اپوزیشن ہی پی اے سی کا سربراہ ہوتا ہے۔ برسر اقتدار جماعت کی طرف سے شہباز شریف اور ان کے ساتھ خواجہ آصف پر عدم اعتماد کر دیا گیا اور کہا گیا کہ اپوزیشن کسی دوسرے رکن کو چیئرمین بنا لے۔مسلم لیگ(ن) نے یہ پیشکش مسترد کر دی تھی۔ یوں ڈیڈ لاک ہو گیا، اب اگر فیصلہ ہو گیا اور ایوان کو چلانے کے لئے مثبت طرزِ عمل اختیا کر لیا گیا ہے، بہتر ہے کہ اراکین اسمبلی بھی اسے خوش دلی سے تسلیم کر لیں تاکہ ایوان کی کارروائی آگے بڑھے۔اقتدار سے قبل قوم سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ ایوان کی نہ صرف کارروائی چلے گی، بلکہ قومی اسمبلی کے وقار کا پورا خیال رکھا جائے گا اور وزیراعظم خود وقت دیا کریں گے، اب اگر یہ بات آگے بڑھی ہے تو اس کی مخالفت کیوں؟ اگر آپ دوسروں کا خیال کریں گے تو جواب بھی مثبت ملے گا، یہ ایک بہتر فیصلہ ہے اِس کے بعد مجالس قائمہ بن جائیں گی اور ایوان میں قانون سازی بھی ممکن ہو گی، پارلیمانی جمہوریت میں مفاہمت ہی سے ایوان چلتا ہے۔ ایک بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اس مرتبہ حزبِ اختلاف بھی بھرم رکھے گی اپوزیشن کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ ایوان نہیں چلنے دے گی کیا کسی خوف کا غماز ہے؟

وزیراعظم کے جس فیصلے کو شاہ محمود فراخ دلانہ کہہ رہے ہیں وہ عقابوں کو اِس لئے پسند نہیں آیا کہ انہوں نے جو دعوے بڑی شدّو مد سے بار بار کئے تھے وہ سب دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں،چنانچہ اپنی خفت مٹانے کے لئے انہوں نے اپنے نادر مشورے سے وزیراعظم اور سپیکر کو نواز دیا۔ قومی اسمبلی کا ایوان چلانے کے لئے ضروری ہے کہ تحریک انصاف کے مقررین اپنی شعلہ بیانی کا شوق عام جلسوں میں پورا کر لیا کرلیں اور اگر انہیں کنٹینر یاد آتا ہے تو کسی جگہ اسے کھڑا کر کے تقریروں کا وقت مقرر کر یں اور دل کی بھڑاس نکال لیا کریں، قومی اسمبلی کا ایوان بہرحال ضابطوں کے تحت چلانا پڑتا ہے اور اپوزیشن کو بھی ساتھ لے کر چلنا مجبوری ہے۔ بڑے بڑے قد آور آمروں نے بھی اپنے ادوار میں اپوزیشن کو برداشت کیا ہے،جنہوں نے نہیں کیا،اپوزیشن نے ان کا ناک میں دم کئے رکھا۔ سپیکر اسد قیصر اور بعض وزرا نے اِس معاملے میں جو مثبت کردار ادا کیا ہے اِس پر وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ کہیں آگ لگی ہو تو اس پر پانی ڈالنے والے ہی مبارک باد کے مستحق ہوتے ہیں،شعلوں کو اپنے دامن سے ہوا دینے والوں کی کوئی تحسین نہیں کرتا، اسمبلی میں بعض وزرا کا کردار ان ہوا دینے والوں سے مختلف نہیں ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -