سرکاری ، اہلکاروں کیخلاف شکایات کے ازالہ کیلئے میرے دفتر کے دروازے کھلے ہیں

سرکاری ، اہلکاروں کیخلاف شکایات کے ازالہ کیلئے میرے دفتر کے دروازے کھلے ہیں

  

مردان (بیورورپورٹ)ڈپٹی کمشنر مردان عابد خان وزیر نے کہا ہے کہ عوام کے مسائل کے حل کیلئے کسی کو کوئی بھی سرکاری محکمے یا اہلکار سے شکا یت ہو تو اس کیلئے ان کے دفتر کے دروازے 24گھنٹے کھلے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحصیل کاٹلنگ کمپلیکس میں عوام کی کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر مردان ڈاکٹر قاسم علی خان، ڈسٹرکٹ افیسر فنانس اینڈ پلانگ ظہیر الدین بابر،منیجر ایس ڈی سی شفیق،ایڈیشل اسسٹنٹ کمشنر کاٹلنگ امیر محمد، تحصیل ناظم مولانا امداد اللہ ، ڈی ایس پی کاٹلنگ گل شید خان ، تحصیل نائب ناظم عبد الجلال اور دیگر محکموں کے افسران کے علاوہ عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر تحصیل نائب ناظم عبد الجلال سمیت بہت سے عوام نے کاٹلنگ تحصیل میں انتقالات کی بندش ، سوات ایکسپریس وے کے متاثرہ مالکان کو معاوضہ کی عدم فراہمی ، سوئی گیس کی لوڈ شیڈنگ اور کم پریشر اور تحصیل کاٹلنگ کے بازاروں سمیت مضافات میں ایل پی جی گیس سرکاری نرخنامہ سے زیادہ داموں پر فروخت کرنے اور دیگر مسائل کے شکایت کے انبھار لگائے۔ ڈپٹی کمشنر مردان نے کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دو تین ماہ کے اندر اندر تحصیل کاٹلنگ کے ریونیو ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کیا جائیگا اور اس کے ساتھ زمینوں کے انتقالات کی بندش بھی ختم ہوجائیگی۔ انہوں نے محکمہ ریونیو کو ہدایت کی کہ سوات ایکسپریس متاثرین مالکانان کو معاضہ جلد سے جلد فراہم کیا جائے اور محکمہ سوئی گیس (نادرن) کو یہ بھی ہدایت کی کہ تحصیل کاٹلنگ کو گیس لوڈ شیڈنگ اور کم پریشر کا مسئلہ جلد حل کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنر مردان نے اسسٹنٹ کمشنر کاٹلنگ سمیت تمام محکموں کے سربراہان کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ اپنے آپ کو افسر شاہی سمجھنے کی بجائے عوام کے خادم سمجھے اور گراں فروشی کے رجحان کو کچلنے کیلئے مارکیٹوں اور بازاروں کا باقاعدگی کیساتھ دورہ کریں تاکہ عوام کو درپیش مسائل اور مشکلات کا ازالہ کیا جاسکے۔ آخر میں ڈپٹی کمشنر مردان نے تحصیل کاٹلنگ کمپلیکس اور پرانی و نئی بلڈنگ تحصیل کا ٹلنگ اور محافظ خانے کا دورہ کیا اور پرانی تحصیل بلنڈنگ کو نئی بلڈنگ میں جلد از جلد شفٹ کرنے کے احکامات جاری کئے۔جبکہ پرانے محافظ خانے میں ترقیاتی کام کرنے اور سرکاری ریکارڈ کو محفوظ کرنے کے احکامات بھی جاری کئے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -