17دسمبر کے بعد سابق گورنررفیق رجوانہ کو شوکا ز نوٹس بھجوانے کا فیصلہ

17دسمبر کے بعد سابق گورنررفیق رجوانہ کو شوکا ز نوٹس بھجوانے کا فیصلہ

  

ملتان ( نیوزرپورٹر)ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ان لینڈ ریونیو ملتان نے گوشوارے جمع نہ کروانے پر 17 دسمبر کے بعد سابق گورنر (بقیہ نمبر28صفحہ12پر )

پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے ذرائع نے بتایا کہ سابق گورنر کو متعدد بار بذریعہ کورئیر سروس و آن لائن کے ذریعے نوٹس بھجوائے جا چکے ہیں لیکن سابق گورنر نے گوشوارے جمع نہیں کروائے بلکہ دوران گورنری ان کے نوٹس تین سال تک رکوائے گئے ہیں آر ٹی او حکام نے ایک بار پھر 11 دسمبر 2018 کو سابق گورنر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 17 دسمبر 2018 تک ٹیکس گوشوارے بمعہ جملہ معلومات جمع کروانے کی ہدایت کی ہے جس میں تمام اکاونٹس کی سٹیٹمنت۔ ٹیکس ریکارڈ۔ اکاونٹس میں موجود کیش بارے معلومات کس نے بھجوائے اور کس نے وصول کئیے۔ویلتھ سٹیٹمنٹ ریکارڈ۔ ٹیکس پیمنٹ کا اصل ریکارڈ۔ ذاتی اخراجات کی مکمل تفصیل۔ ٹیلی فون۔ سوئی گیس۔ الیکٹرک بلز کا ریکارڈ۔ جملہ بزنس ریکارڈ۔ زیر استعمال گاڑیاں سکنی و زرعی جائیداد۔ رینٹ پر دی گئی پراپرٹی کا ریکارڈ 17 دسمبر تک جمع کروایا جائے تاکہ قانونی تقاضے پورے کئیے جاسکیں ذرائع کے مطابق ایف بی آر کے خود کار نظام کے تحت 15۔ 2014 ٹیکس ائیر میں سابق گورنر ملک محمد رفیق رجوانہ کو آڈٹ میں سلیکٹ کیا گیا آر ٹی او کی جانب سے انہیں متعدد نوٹس جاری کئے گئے لیکن انہوں نے ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کروائے ذرائع نے بتایا کہ سابق گورنر ٹیکس گزار ہیں تاہم وہ کتنا ٹیکس جمع کرواتے ہیں اس کے درست یا غلط ہونے کا فیصلہ ان کا آڈٹ ہونے کے بعد واضح ہوگا۔

سابق گورنر

مزید :

ملتان صفحہ آخر -