شراب پابند ی بل پر اسمبلی سے واک آؤٹ نظریہ پاکستان سے مذاق : سراج الحق

شراب پابند ی بل پر اسمبلی سے واک آؤٹ نظریہ پاکستان سے مذاق : سراج الحق

  

فیصل آباد( نمائندہ خصوصی)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے ربیع الاول بھی گزر گیا حکومت کا ریاست مدینہ کی طرف سفر شروع نہ ہوسکا۔ڈر ہے کہ حکومت کے ظالمانہ اقدامات سے گیس کا تناؤ الاؤ نہ بن جائے نئے پاکستان میں ہرروز بڑھتی ہوئی مہنگائی غریب عوام کا مذاق اڑارہی ہے،حکومت سگریٹ پر گناہ ٹیکس لگاتی ہے اور شراب پر پابندی کے بل پر اسمبلی سے واک آؤٹ کرجاتی ہے ۔یہ نظریہ پاکستان سے سرعام مذاق ہے ،حکومت بھول گئی ہے کہ اس نے عوام سے پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کا وعدہ کررکھا ہے۔کابینہ کے9گھنٹے کے اجلاس میں تمام حکومتی وزراء پاس ہوگئے جبکہ قوم فیل ہوگئی ،ہماری حکومت کا سو دن کا جو رزلٹ آیا ہے اس نے آکسفورڈکے نتائج کو بھی مات دے دی ہے ،وزراء کو سو بٹا سو نمبر ملنے سے وہ پھولے نہیں سما رہے اور ایک دوسرے کومبارک بادیں دے رہے ہیں جبکہ دوسری طرف لوگ مہنگائی اوربے روز گاری کے ہاتھوں تنگ آکر موت کو گلے لگانے پر تلے بیٹھے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع کونسل چوک فیصل آباد میں تحفظ ناموس رسالت ؐ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔کانفرنس سے امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب امیر العظیم اورضلعی امیر انجینئر عظیم رندھاوانے بھی خطاب کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ نئی حکومت خالی ہاتھ نہیں آئی بلکہ مہنگائی کا سونامی ساتھ لائی ہے جس سے کراچی سے چترال تک ہر پاکستانی پریشان ہے، ہر فرد اپنا ایک ایجنڈا لئے بیٹھاہے جسے پورا کرنے کیلئے وہ کسی سے مشورہ کرنے کو بھی اپنی توہین سمجھتا ہے، یہ حکومت نہیں، مختلف الخیال لوگوں کا ٹولہ ہے جو اپنے اپنے مفادات کیلئے اکٹھا ہوگیا ہے ،حکومت کی کوئی سمت نہیں ،قوم نے حکومت سے پاکستان کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی امید لگا رکھتی تھی ۔کچھ لوگوں کی کوشش ہے کہ آئین سے 295سی کو نکال دیا جائے ۔حکومت میڈیا پر دباؤ ڈالتی ہے کہ ناموس رسالت ؐکے جلسوں اور کانفرنسوں کو کوریج نہ دی جائے اور عاشقان مصطفٰی کے اجتماعات کا مکمل بلیک آؤٹ کیا جائے ۔ قوم ناموس رسالت ؐکے قانون کے خلاف ہونے والی ہر سازش ناکام بنادے گی،ہمارا بچہ بچہ ناموس رسالت ؐکے تحفظ کیلئے اپنی جان نچھاور کرنے کو تیار ہے۔71سا ل گزر گئے مگر ہماری عدالتوں میں آج بھی انگریز کے قانون کے مطابق فیصلے ہوتے ہیں اور کہیں قرآن و سنت کا عادلانہ نظام نظر نہیں آتا ،آئین کے آرٹیکل 38کا تقاضا ہے کہ سود ختم کیا جائے مگر حکمران بضد ہیں کہ سودی نظام سے ہی خوشحالی آئے گی ۔

سراج الحق

مزید :

صفحہ آخر -