نیب جب ضروری سمجھے گاحمزہ شہبا ز کو گر فتار کرلے گا ، چوہان

نیب جب ضروری سمجھے گاحمزہ شہبا ز کو گر فتار کرلے گا ، چوہان

  

لاہور (آئی ا ین پی) ترجمان پنجاب حکومت فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ خواجہ برادران کو ان کے من پسند کھانے فراہم نہیں کئے جاسکتے‘ خواجہ برادران نے جس استقامت سے کرپشن کی ہے اسی استقامت کا اب بھی مظاہرہ کریں‘ خواجہ سعد رفیق لوٹ مار کے الزام میں پکڑے گئے ہیں۔ جمعہ کوپنجاب اسمبلی میں فیاض الحسن چوہان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پروڈکشن آرڈر سے متعلق لیگی پارلیمانی پارٹی منافقانہ کردار ادا کررہی ہے۔ سپیکر یا چیئرمین سینٹ پروڈکشن آرڈر جاری کرسکتا ہے۔ خواجہ سعد رفیق لوٹ مار کے الزام میں پکڑے گئے ہیں۔ صوبائی اسمبلیوں میں پروڈکشن آرڈر کا کوئی قانون نہیں۔ خواجہ سعد رفیق کو نیب نے اور ریاستی اداروں نے گرفتار کیا ہے۔ ماضی میں اپوزیشن نے یہ قانون پاس کرانے کی کوشش کی ہم کوشش کررہے ہیں کہ پروڈکشن آرڈر پر کام کیا جائے۔ خواجہ برادران نے جس استقامت سے کرپشن کی ہے اسی استقامت کا اب بھی مظاہرہ کریں۔ افسوس (ن) لیگ نے اپنے دور حکومت میں پروڈکشن آرڈر کا قانون منظور نہیں کیا دنیا بھر میں وعدہ معاف گواہ کا تصورص موجود ہے یہ کوئی انہونی بات نہیں۔صوبائی وزیر اطلاعات نے حمزہ شہبا زشر یف کی گر فتاری کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حمزہ شہبا زشر یف نے بھی گرفتار ہونا ہے اور نیب جب ضروری سمجھے گاانکو گر فتار کرلے گا ‘ ن لیگ نیب لیگ بن چکی ہے لوٹ مار انکا مشغلہ بن چکا ہے‘خواجہ برداران روز شکایت کرتے ہیں انکو ناشتہ میں انڈہ آملیٹ اور نہاری نہیں ملتی وہ یہ سمجھ لیں وہ کسی سالگرہ تقریب یا شالیمار باغ میں سیر کیلئے نہیں کر پشن اور لوٹ کے کیس میں نیب کے پاس آئے ہیں جس استقامت سے کرپشن کی اسی استقامت سے سزا بھی بھگتیں نیب قانون کے مطابق کام کررہی ہے‘آصف زرداری اور بلاول سن لیں یہ بلاول ہاؤس نہیں جہاں مرضی سے گھومیں کھائیں اور پئیں گے اکیسویں صدی کی ریاست ہے یہاں پرادارے مضبوط ہیں سب کونیب اور سپر یم کورٹ سمیت ہر جگہ پیش ہونا پڑ یگا ‘سپر یم کورٹ سمیت کوئی بھی ادارہ مجھے یا عمران خان کو بلائیگا تو ہم بھی پیش ہوں گے ‘و عدہ معاف گواہ نیب کی ایجاد نہیں ہے ہر معاشرے و قانون میں موجودہوتاہے اور قیصر امین بٹ پیراگون میں خواجہ سعدرفیق اور خواجہ سلمان رفیق کو سر غنہ قرار دے چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پروڈکشن آرڈر پر ن لیگ کا منافقانہ رویہ سامنے آیاہے و فاق اور سینٹ میں پروڈکشن آرڈر کا قانون موجود ہے لیکن پنجاب اسمبلی میں نہیں ہے۔

چوہان

مزید :

صفحہ آخر -