پنجاب اسمبلی اجلاس ، پروڈکشن آرڈر کے حوالے سے وزیر قانون کی سربراہی میں 7رکنی کمیٹی قائم

پنجاب اسمبلی اجلاس ، پروڈکشن آرڈر کے حوالے سے وزیر قانون کی سربراہی میں 7رکنی ...

  

لاہور(نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں سانحہ اے پی ایس کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے اور پاکستان کا نام اقلیتوں کے حوالے سے بلیک لسٹ سے نکالنے پر وفاقی حکومت کو خراج تحسین پیش کرنے کی قراردادیں کثرت رائے سے منظور،عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ٹرمپ نے بھی عمران خان کی طرح یوٹرن لیا ہے،ڈپٹی سپیکر نے پروڈکشن آرڈر کے حوالے سے وزیر قانون کی سربراہی میں 7رکنی کمیٹی قائم کردی،وزیر خوراک کی عدم موجودگی پر ڈپٹی سپیکر شدید برہم ،اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا گیا،پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی زیر صدارت ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا،اسمبلی کے ایجنڈے محکمہ محنت و انسانی وسائل اور خوراک کے متعلق سوال تھے،محنت و انسانی وسائل کے جواب صوبائی وزیر انصر مجید نے دیے جبکہ وزیر خوراک سمیع اللہ خان کی عدم موجودگی پر ڈپٹی سپیکر نے خوراک کے تمام سوال موخر کر دیے گئے ،ڈپٹی سپیکر نے کہا یہ تیسری مرتبہ ہو رہا ہے کہ کوئی وزیر سوالوں کے جواب دینے کیلئے ایوان میں موجود نہیں اس سے قبل دو مرتبہ ایس اینڈ جی ڈی اے کے وزیر نہیں تھے آج وزیر خوراک نہیں ہیں یہ وزراء کی سنجیدگی کا عالم ہے؟ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضی کا وقفہ سوالات میں پنجابی میں سوال کرنے سے ڈپٹی سپیکر سردار دوست محمد مزاری نے یہ کہہ کر رروک دیا کہ انہیں پنجابی زبان کی سمجھ نہیں آتی اس لئے انگریزی یا اردومیں بات کریں پھر حسن مرتضی کو اس شرط پرپنجابی میں سوال کرنے کی اجازت دی کہ اردو میں بھی ترجمہ کریں گے ،صوبائی وزیر انصر مجید نے بھی پنجابی میں جواب دیا مگر اردو میں ترجمہ نہ کیا،مسلم لیگ ن کی رکن حنا پرویز بٹ نے رولز معطلی کی تحریک پیش کرکے قرارداد پیش کی قرارداد کے مطابق یہ ایوان آرمی پبلک سکول کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے ،قرارداد میں 16 دسمبر کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف قومی دن قرار دینے کا مطالبہ کیا ،16 دسمبر 2014 کو آرمی پبلک سکول پر سفاک دہشت گردوں نے حملہ کر کے معصوم بچوں کو بے دردی سے قتل کیا۔ یہ ایوان معصوم بچوں اور ان کے والدین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔آرمی پبلک سکول کے واقعہ کو چار سال مکمل ہونے پر حکومت سے استدعا کی جاتی ہے کہ 16 دسمبر کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف قومی دن قرار دیا جائے۔ دہشتگردوں کیخلاف جنگ میں شہید ہونے والے سیکیورٹی اداروں کے جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔دوسری قرارداد پی ٹی آئی کی رکن عظمیٰ کاردار نے پیش کی اس قرارداد کے مطابق یہ ایوان وفاقی حکومت کو سفارتی محاذ پر کامیابی حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہے ،حکومت کی کاو ش سے امریکہ نے پاکستان کو مذہبی پابندیوں کی فہرست سے نکالا ہے،پاکستان ہر لحاظ سے اقلیتوں کے حقوق کا ضامن ہے،پاکستان کا قومی کمیشن و انسانی حقوق مکمل طور پر فعال ہے آئین پاکستان اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے ،مسلم لیگ ن کی رکن عظمیٰ بخاری نے اس قرارداد کی بھرپور مخالفت کی،انہوں نے کہا امریکہ نے اگر پاکستان کا نام مذہبی اقلیتوں کے حوالے سے اگر نام نکال دیا ہے تو اس کا کریڈٹ وفاقی حکومت کو نہیں جاتا ،یہ ٹرمپ کا کمال ہے کیوں ٹرمپ بھی عمران کی طرح یوٹرن لینے کا ماہر ہے،ٹرمپ نے پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے اقلتیوں کے حقوق پر لسٹ میں ڈالا،سفارتی کامیابی کیسے ہوئی واچ لسٹ میں نام پہلے ہی شامل ہے،قادیانی کو اکنامک فورم پر لے کر نام واپس لیاگیا ،پھر اکنامک فورم کے تین مزید لوگوں نے استعفیٰ دے دیا،یوٹرن کی حکومت کا دوسری یوٹرن حکومت کا لینا کوئی نیک نامی نہیں یہ وہی کامیابی ہے تین بار سفارتی محاذ پر حکومت کو فرانس کے صدر پر فون اور بھارتی مذاکرات پر جھوٹ بولناتھا،نمبر ٹانگنے سے کچھ نہیں ہوگا پاکستان کے حالات آئیڈیل نہیں اقلیتوں کو ان کے حقوق دینا ہوں گے لیگی رکن وارث کلو نے کہاامریکہ میں ہماری سفارتی ناکامی ہے اسلامی تعلیمات تو خود کہتی ہے اقلیت کوتحفظ دیاجائے، پاکستان میں اقلیت کوتحفظ ہے لیکن بھارت میں اقلیتوں کو تحفظ نہ ہونے کے باوجود ہمارا نام بلیک لسٹ میں ڈالاگیا، پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضی اور صوبائی وزیر انصر مجید اور چودھری ظہیر الدین کے درمیان نوک جونک ہو تی رہی ،پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضیٰ نے کہامشرف کے دور میں ظہیر الدین نے یوٹرن لیا جس کی وجہ سے وہ اقتدار میں بیٹھے ہیں ۔قبل ازیں ڈپٹی سپیکر دوست مزاری نے پروڈکشن آڈر کے معاملے پر قانون سازی کیلئے سات رکنی کمیٹی قائم کردی کمیٹی کے ہیڈ وزیر قانون راجہ بشارت ہونگے ،ڈپٹی سپیکر دوست مزاری نے مزید کہاکہ 13 دسمبرکو پنجاب اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی کے دوران رکن صوبائی اسمبلی خواجہ سلمان رفیق کے پروڈکشن آرڈر کا معاملہ زیر بحث رہا۔ اس وقت سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔اس حوالے سے رولز آف پروسیجر میں ترمیم لانے کے لیے کمیٹی تشکیل دیں گے۔سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے اپنے چیمبر میں قائد ایوان کی مشاورت سے پروڈکشن آرڈر کے حوالے سے رولز آف پروسیجر میں ترمیم کرنے کے لیے صوبائی وزیر قانون محمد بشارت راجا کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس میں پاکستان تحریک انصاف سے تین اراکین، پاکستان راہ حق پارٹی کے سربراہ محمد معاویہ، دو ارکان پاکستان مسلم لیگ(نواز) کے نامزد کردہ اور ایک رکن پاکستان پیپلز پارٹی سے نامزد کردہ شامل ہوں گے، اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز بھی کچھ دیر کے لئے اجلاس میں آئے تاہم کچھ دیر بعد خاموشی سے ہی واپس چلے گئے ۔اجلاس میں خواتین کی سماجی حیثیت پر پنجاب کمیشن کی سالانہ رپورٹ 2016 پر عام بحث میں خواتین اراکین حنا بٹ ، شمسہ علی اور ذ کیہ شانواز نے حصہ لیا ۔ ایجنڈا مکمل ہونے پر ڈپٹی سپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا۔

پنجاب اسمبلی اجلاس

مزید :

صفحہ آخر -