سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن کا احتجاج ، واک آؤٹ

سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن کا احتجاج ، واک آؤٹ

  

اسلام آباد( آئی این پی ) سینیٹ میں اپوزیشن نے روپے کی قدر میں کمی کے معاملے پر وزیر مملکت حماد اظہر کا جواب سننے سے انکار کرتے ہوئے احتجاجا واک آؤٹ کر دیا۔سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس پر سینیٹر شیری رحمان نے کہاکہ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کو ایوان میں آنا چاہیے جبکہ وہ ٹی وی پر روز موجود ہوتے ہیں مگر وہاں یکطرفہ بحث ہوتی ہے۔اہوں نے کہا کہ حکومت کے 100دن پورے ہونے پر شادیانے بجائے جا رہے تھے اور جس وقت وہ خود کو شاباش دے رہے تھے تب مارکیٹ بحرانی کیفیت میں تھی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کہا کہ مجھے ڈالر کی قیمت بڑھنے کے بارے میں معلوم نہیں تھا جبکہ اسد عمر نے کہا کہ مجھے معلوم تھا،کون اس ملک کو چلا رہا ہے اور یہ کس کے کہنے پر ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بارے میں قائمہ کمیٹی میں ہمیں وضاحت دی گئی لیکن ہم مطمئن نہیں ہوئے۔ اس موقع پر وزیرمملکت برائے ریونیو حماد اظہرتوجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دینے کیلئے کھڑے ہوئے تو اپوزیشن لیڈر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ ہم صبح سے انتظار کرتے رہے لیکن وزیرخزانہ نہیں آئے حالانکہ اسد عمر کو خود آنا چاہیے تھا۔ اس موقع پر قائد ایوان شبلی فراز نے کہا کہ اسحاق ڈار بطور وزیر خزانہ کتنی دفعہ سینیٹ آئے تھے، ہم نے حماد اظہر کو بلایا ہے یہ فارغ نہیں بیٹھے تھے۔ اس موقع پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے حماد اظہر کو بولنے کا موقع دیا، حماد اظہر نے کہا کہ ایک طبقہ سنسنی پھیلانا چاہتا ہے، دسمبر 2017میں روپے کی قدر 104روپے تھی جبکہ 2018میں 124روپے تھی، نئی حکومت کو خالی خزانہ دیا گیا ۔ اس موقع پر اپوزیشن نے حماد اظہر کی تقریر سننے سے انکار کر دیا اور ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ اپوزیشن رکن نے کورم کی نشاندہی کردی، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے پانچ منٹ کیلئے گھنٹیاں بجائیں اور قائد ایوان کو اپوزیشن کو منانے کیلئے کہا، جس پر شبلی فراز نے کہا کہ میری یہی ڈیوٹی رہ گئی ہے کہ اپوزیشن کو مناتا رہوں۔ اس موقع پر کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس سوموار کی دوپہر2 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سمیت مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں راجہ ظفرالحق ، آصف کرمانی اور جاوید عباسی نے نکتہ اعتراض پر چیئرمین نیب کی حالیہ تقریر پر شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے چیئرمین نیب کو ایوان میں طلب کرکے ان سے وضاحت طلب کی جائے۔مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب نے ن لیگ کے پارلیمنٹیرین پر تنقید کی اور کہا کہ انہیں گرفتار کیا جائیگا،چیئرمین نیب پارٹی بن چکے ہیں،نیب حکومت کی جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی بنا ہوا ہے، اس وقت پاکستان میں جمہوریت کی آڑ میں بدترین سویلین ڈکٹیٹر شپ قائم ہے،ملک میں کنٹرولڈ جمہوریت، کنٹرولڈ میڈیا اور کنٹرولڈ نیب ہے،،لوگوں کو نوٹس نہیں ملتا اور اخبارات میں نام آجاتا ہے کہ نیب نے طلب کیا ہے،کیا حکومت والے سارے پاک صاف ہیں؟ ان کے کیسز پر انہیں کیوں نہیں گرفتار کیا جاتا؟ ای سی ایل کے علاوہ ایک اور لسٹ جاری کر دی گئی ہے، یہ اختیار ایف آئی اے کو کس نے دیا ہے۔

سینیٹ

اسلام آباد(آئی این پی)قومی اسمبلی میں حکومتی اتحادی جماعت بی این پی مینگل اور اپوزیشن جماعتوں نے خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے پر احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا۔سرداراختر مینگل، اپوزیشن لیڈر شہبازشریف اورراجا پرویز اشرف سمیت اپوزیشن ارکان نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ملکی سیاست کی باگ ڈور کسی اور کہ ہاتھ میں ہے اسطرح کے مقدمات بنتے رہیں گے اوربطور پارلیمنٹرین ہم نے اس کاحل نہ نکالا تو کوئی بھی اس سے نہیں بچ سکے گا۔مقررین نے کہا کہ ہمیشہ اصولوں پر سیاست کی اور انہیں اصولوں کی وجہ سے صوبتیں برداشت کیں ،ہم اس ایوان کو پارلیمینٹ سمجھ کر چلانا چاہتے ہیں یا مغلی دربار یہ ہم پر ہے،دباؤ کے باوجود ماضی میں سپیکرز نے پروڈکشن آرڈر جاری کئے، چنددن سے خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں ، ہمیں شکریہ کا موقع دیں اور گلہ کرنے سے ہمیں بچا لیں۔قبل ازیں وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات فواد حسین چودھری،وزرائے مملکت علی محمد خان اور زرتاج گل نے ایوان کو آگاہ کیا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز(پی آئی اے) پر قرضوں کا حجم 247ارب سے تجاوز کرچکا ہے تاہ قومی ائیر لائن کا کھویا ہوا مقام بحال کریں گے، ریڈیو پاکستان کی عمارت کو فی الحال لیز پر نہیں دیا جا رہا،ادارے کو خسارے سے نکالنے کیلئے پی ٹی وی کیساتھ یکجا کر دیا ، وفاقی حکومت نے ابھی تک 12ٹاسک فورسز قائم کی ہیں،جن کے ممبران کو الگ سے کسی قسم کی کوئی مراعات نہیں دی جا رہیں،پاکستان ریلوے نے گزشتہ5سال کے دوران141ارب روپے سے زائد کا خسارہ کیا، وفاقی دارالحکومت میں 5سے 16سال کے 45035بچے سکولوں سے باہر ہیں، موجودہ حکومت کے دوران وفاقی وزراء کی جانب سے غیر ملکی دوروں پر 38لاکھ40ہزار943روپے خرچ ہوئے۔

قومی اسمبلی

مزید :

صفحہ آخر -