رضاربانی نے ملک چلانے کیلئے تین نکاتی فارمولہ پیش کردیا

رضاربانی نے ملک چلانے کیلئے تین نکاتی فارمولہ پیش کردیا

  

کراچی(این این آئی)سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے ملک کو چلانے کے لیے تین نکاتی فارمولہ پیش کرتے ہوئے کہاہے پارلیمانی کمیٹی اور نیشنل سیکیورٹی کونسل کو دوبارہ بحال کیا جائے، سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیاں فعال کی جائیں اور ملک کی جامعات میں اکیڈمک بحث کرکے اس کی روشنی میں پالیسیاں بنائی جائیں،جب تک ہم ریاست کی اقدامات پر سوال نہیں اٹھائیں گے، ریاست راہ راست پر نہیں آسکتی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی میں آرٹ اینڈ آئیڈیاز 2018میں طلبا کو لیکچر دیتے ہوئے کیا۔ وائس چانسلر ایس ایم آئی یو ڈاکٹر محمد علی شیخ نے سینیٹر میاں رضا ربانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا رضا ربانی محترکہ بے نظیر بھٹو شہید کے قریبی ساتھی رہے ہیں جو کہ ان کے سامنے ڈٹ کر اپنا موقف پیش کرتے تھے، سینیٹر رضا ربانی نے کہاکہ انڈیا اقلیتوں کے ساتھ ظلم کررہاہے، بلوچستان میں انڈیا کی مداخلت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، جبکہ کشمیر میں انسانی حقوق کی جو خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں وہ کھل کر سامنے آچکی ہیں لیکن افسوس کے ساتھ اقوام عالم نے ان مظالم پر اپنی آنکھیں بند کی ہوئی ہیں، پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے بغیر کسی تحریری معاہدے کے شمسی بیس امریکا کے حوالے کردیا، جب وہ پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ تھے تو ایوان صدر، وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ شمسی ایئربیس امریکا کو دینے کے کسی بھی تحریری معاہدے سے لاعلم تھے، انہوں نے تعلیمی اداروں میں طلبا یونینز کی بحالی کی حمایت کرتے ہوئے کہا۔سینیٹ نے طلبا یونینز کی بحالی کی قرارداد پاس کی لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا، طلبا یونین پر پابندی اس مائنڈ سیٹ کا فیصلہ تھا جو چاہتے ہیں جامعات سے ایسے طلبا تیار کیے جائیں جو کہ ریاست کی کسی پالیسی پر سوال نہ اٹھا سکیں، پروگرامبین الاقوامی لیکچر میں ترکی کی پروفیسر ڈاکٹر ذلہا کوکیٹ طوفان نے ہایر ایجوکیشن سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا، پینل ڈسکشن میں ڈاکٹر ہما ناز بقائی، سید مظہر علی ناصر، ڈاکٹر ابوذر واجدی، ایس ایم آئی یو کی سحر چنا اور مشاہد حسین شاہ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا، اس سے قبل جامعہ کے طلبا نے اسکول شو کا انعاد کیا ، جس میں چاروں صوبوں کے کلچر سے متعلق خوبصورت ٹیبلوز پیش کیے گئے، ذہنی آزمائش کے پروگرام اور مزاحیہ مشاعرہ بھی منعقد کیا گیا، پروگرام مصنف کی زندگی کے دوران جامعہ کراچی کے سندھی شعبہ کے پروفیسر ڈاکٹر سلیم میمن نے معروف ادیب ابراہیم جویو کی ادبی خدمات پر گفتگو کی۔

رضاربانی

مزید :

صفحہ آخر -