شہباز شریف کو چیئر مین پی اے سی بنانے کیلئے اپوزیشن نے بلیک میل کیا : فواد چودھری

شہباز شریف کو چیئر مین پی اے سی بنانے کیلئے اپوزیشن نے بلیک میل کیا : فواد ...

  

جہلم ،اسلام آباد(مانیٹر نگ ڈیسک ،آ ئی این پی)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ شہباز شریف کو چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بنانے کے حوالے سے اپوزیشن نے حکومت کو بلیک میل کیا۔جہلم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے قیام کے لیے اپوزیشن تعاون نہیں کر رہی۔ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کا کام قانون سازی کرنا ہے لیکن اپوزیشن کے رویے کے باعث وہاں قانون سازی نہیں ہو پا رہی۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن غیرجمہوری ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے اور شہباز شریف کو چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بنانے کے حوالے سے اپوزیشن نے حکومت کو بلیک میل کیا۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اسمبلی نیب ملزمان کا اکھاڑا بن گئی ہے، روز اپوزیشن کا رونا دھونا ہوتا ہے کہ اسمبلی کا وقار مجروح ہو رہا ہے۔انہوں نے شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کو بلیک میلر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی کوشش ہے کہ دباؤ ڈال کراین آر اولیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ سابق حکومت نے سرکاری اداروں کا بیڑا غرق کر دیا ہے، ماضی کی حکومتوں نے کچھ نہیں چھوڑا، ہم نیا پاکستان بنا رہے ہیں۔رانا ثناء کے خلاف نیب انکوائری سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ رانا ثنااللہ کو پہلے تو ماڈل ٹاؤن معاملے پر گرفتار کرنا چاہیے۔ایک اور سوال کے جواب میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نیب میں چیئرمین سے لے کر چپراسی تک بھرتیاں نوازشریف اور شاہد خاقان عباسی کے دور میں کی گئیں۔سابق وزیر اعظم نواز شریف سے متعلق سوال پر وزیر اطلاعات نے کہا کہ جلد ہی آپ میاں صاحب کو جیل میں دیکھیں گے۔ اس سے قبل پارلیمنٹ ہاس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اخلاقی طور پر شہباز شریف کو چاہیے کہ پبلک اکا ؤ نٹس کمیٹی کی سربراہی کو قبول نہ کریں،اپوزیشن پبلک اکا ؤ نٹس کمیٹی کی سربراہی کو ایشو بنا کر قومی اسمبلی کا اجلاس چلنے نہیں دے رہی تھی،حکومت نے پبلک اکا ؤ نٹس کمیٹی کی سربراہی شہباز شریف کو دینے کا فیصلہ کر کے یو ٹرن لیا ہے،اپوزیشن چاہتی ہے کہ حکومت کو کسی صورت قومی اسمبلی کا اجلاس نہ چلانے دیا جائے اور اس میں ہر ممکن رکاوٹیں کھڑی کی جائیں۔۔ فواد چوہدری نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں پبلک اکا ؤ نٹس کمیٹی کی سربراہی کے معاملے پر اڑی ہوئی تھی اور قومی اسمبلی کا اجلاس چلنے نہیں دے رہی تھی۔حکومت کا اس معاملے پر موقف قانون اور اخلاقیات کے مطابق تھا لیکن روز قومی اسمبلی اجلاس سے روزانہ واک آ ؤ ٹ سے قومی خزانے کو کروڑوں کا نقصان ہو رہا تھا۔ حکومت نے فراغ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ پبلک اکا ؤ نٹس کمیٹی کی سربراہی کا فیصلہ اپوزیشن خود کرے اور حکومت اس میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔حکومت نے پبلک اکا ؤ نٹس کمیٹی کی سربراہی شہباز شریف کو دینے کا فیصلہ کر کے یو ٹرن لیا ہے۔اب فیصلہ اپوزیشن جماعتوں نے کرنا ہے کہ وہ کس کو پی اے سی کا سربراہ نامزد کریں گے۔ اخلاقی طور پر شہباز شریف کی پبلک اکا ؤ نٹس کمیٹی کی سربراہی کا فیصلہ غلط اقدام ہے۔

فواد چودھری

مزید :

صفحہ اول -