مائیکل کوہن سزاء صدر ٹرمپ کے مواخذے کی تیاریاں شروع

مائیکل کوہن سزاء صدر ٹرمپ کے مواخذے کی تیاریاں شروع

  

واشنگٹن( اظہر زمان ،خصوصی رپورٹ) صدر ڈونلڈٹرمپ کو سزا دینے، جیل بھیجنے یا ان کا مواخذہ کرنے کا معاملہ نیویارک سٹی کی وفاقی ڈسٹرکٹ کورٹ سے چل کر اب واشنگٹن کی کیپٹل ہل میں پہنچ چکا ہے ۔ صدر ٹرمپ کے سابق ذاتی وکیل مائیکل کوہن کو وفاقی جج نے بدھ کی شام دو جرائم پر تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔ پہلا جرم دو فحش اداکاروں کو دو لاکھ اسی ہزار ڈالر کی ادائیگی تھا کہ وہ ٹرمپ پر ناجائز تعلقات کا جو الزام لگا رہی تھیں تو ان کا منہ بند کیا جائے دوسرا جرم کا نگریس کے سامنے کوہن نے جھوٹ بولا تھا کہ ماسکو میں ٹرمپ ٹاور کی تعمیر کے سلسلے میں اس نے سرکاری حکام سے رابطہ کیاتھا۔مائیکل کوہن نے عدالت کے سامنے اعتراف جرم کیا جس کی بناء پر ااس کی سزا کم ہوئی۔ کو ہن نے تسلیم کیا جس کے بعدا ستغاثہ نے بھی یہ موقف اختیار کیا کہ یہ سب کچھ ٹرمپ کی ہدایت پر کیا گیا ۔ مسٹر کوہن نے عدالت میں بتایا اور سزا کے بعد ٹی وی چینل کو بھی بتایا کہ انہوں نے ادائیگی کرنے کا غلط کام ٹرمپ کی ہدایت پر کیا ،ہ ٹرمپ کو علم تھا یہ سب غلط کام ہیں لیکن انہوں نے اپنی وفاداری کی وجہ سے یہ کام سرانجام دیئے اور اب وہ مسلسل جھوٹ بول رہا ہے ۔ وفاقی جج نے اپنے فیصلے میں بھی لکھا ہے کہ یہ بات ثابت ہوگئی ہے مائیکل کوہن نے جو جرائم کئے ہیں وہ صدر ٹرمپ کی ہدایت کے مطابق کئے ہیں لیکن صدر کیخلاف کسی کارروائی کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہے کیونکہ جب تک باقاعدہ مواخذہ نہیں ہوتا انہیں ایسے جرائم پراستثتیٰ حاصل ہے اس دوران ٹرمپ نے سختی سے تردید کی ہے کہ انہوں نے کبھی ان جرائم کیلئے کو ہن کو ہدایات دی تھیں لیکن صدر کے بیان کو کوئی تسلیم کرنے کا تیار نہیں کیونکہ اگر ایسی ہدایت نہیں تھی تو مسٹر کوہن کو کیا ضرورت تھی وہ ان فحش اداکاروں کو ادائیگی کریں جنہوں نے ٹرمپ پر ناجائز تعلقات کا الزام لگایا گیا۔ اس دوران فیصلہ آنے کے بعد وائٹ ہاؤس میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ اب کیپٹل ہل میں مواخذے کی تحریک شروع ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے ،انٹرویو میں مسٹر کوہن نے بتایا ٹرمپ کو شدید تشویش تھی کہ فحش اداکا راوں کے الزامات سے ان کی انتخابی مہم پر گہرا اثرا پڑ سکتا ہے اسلئے انہوں نے مجھے ادائیگیاں کرنے کی ہدایت کی ۔ یہ رقم انتخابی فنڈ سے کی گئی ، مائیکل کوہن نے انٹرویو میں مزید بتایا اب وہ اپنے آپ کو آزاد محسوس کررہے ہیں اور وہ کہانی کاویلن نہیں بننا چاہتے جن کا اشارہ ٹرمپ کی طرف تھا۔ کانگریس کے ڈیمو کر ٹیک ارکان سے ٹرمپ کیخلاف کارروائی کی توقع کی جارہی ہے لیکن اس وقت ریپبلکن ارکان بھی صدر ٹرمپ کی حمایت سے ہاتھ کھینچے۔

ٹرمپ مواخذہ

مزید :

صفحہ اول -