بنگلہ دیش کی تخلیق...فسانے اور حقائق

بنگلہ دیش کی تخلیق...فسانے اور حقائق
 بنگلہ دیش کی تخلیق...فسانے اور حقائق

  

نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری جنرل شاہد رشید تحریک پاکستان کے بزرگ کارکنوں کی امیدوں، آرزوؤں اور خوابوں کا مرکز ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ 16دسمبر 1971میں پاکستان سے کٹ کر بنگلہ دیشن کا روپ اختیار کرنے والے مشرقی پاکستان میں بھی کئی نم آلود آنکھوں کے لئے روشنی کی کرن ہیں ۔ اس وقت جبکہ ہر پاکستانی ایک ’نئے پاکستان ‘کے ظہور کا منتظر ہے شاہد رشید تحسین کے لائق ہیں کہ وہ پرانے پاکستان کی پذیرائی میں مصروف ہیں ۔

گزشتہ دنوں انہوں نے ڈاکٹر جنید احمد کی کتاب ’بنگلہ دیش کی تخلیق ، فسانے او رحقائق ‘کا جناب محمود عالم صدیقی کے ہاتھوں ترجمہ پڑھنے کے لئے دیا جس کا ایک ایک ورق ورق ان تاریخی حقائق سے بھرا ہوا ہے جن سے گزشتہ 47 برسوں میں طرح طرح کے فسانے گھڑے جاتے رہے ہیں۔یہ کتاب پاکستان کی تاریخ میں دلچسپی پڑھنے والے ہر طالب علم کو پڑھنی چاہئے۔

بنگلہ دیش کی تخلیق پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ اندوہناک سانحہ ہے جس سے نہ صرف ملک کے جغرافیائی علاقوں کے چھن جانے کا دکھ بلکہ خاندان، ملکی ہکجہتی، باہمی اعتماد، عزت و وقار اور اپنی شناخت کھودینے کے احساس نے دل و دماغ کو جھنجھوڑ اور ماؤف کرکے رکھ دیا ہے۔ یہ کبھی مندمل نہ ہونے والا وہ زخم ہے جس کی کسک سے دل خون کے آنسو روتا ہے بلکہ اس کے ساتھ احساس زیاں ، ندامت، ناکردہ جرائم کے ناواجت الادا الزامات کے پچھتاوے اور دکھ بھی شامل ہیں۔اس کتاب کا باب ششم بطور خاص دردمند پاکستانیوں کی توجہ کا طالب ہے جس میں مکتی باہنی کے اصل اور مکروہ چہرے کو حقائق کے ساتھ بے نقاب کیا گیا ہے۔اس مکروہ عمل میں بھارتی قیادت کی سازشوں سے بھی پردہ اٹھتا نظر آتا ہے۔

یہ کتاب مشرقی پاکستان کے سقوط اور بنگلہ دیش کے جنم کے پس پردہ اصل حقائق کے انکشافات کے ساتھ ساتھ نئے معروضی اور تحقیقی پہلوؤں اور زاویوں کو سامنے لائی ہے۔ اس کتاب میں بے شمار اہم دستاویز، تصاویر اور رپورٹوں کو شامل کیا ہے جس سے اس کتاب کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔

یہ تصنیف اس المیے میں شریک اداکروں، ان کی سازشوں، ان کی ناکامیوں اور ان کے نقائص کا ادراک کرتے ہوئے تاریخ وار روشنی ڈالتی ہے جن کی بداعمالیوں کا کرتوتوں کے کارن سقوط مشرقی پاکستان کا سانحہ وقوع پذیر ہوتا ہے۔ یہ پاکستان کی بدنصیبی نہیں تو اور کیا ہے کہ بنگلہ دیش کی خونی تخلیق اور پاکستان کے موافق اور متحارب فریقوں کے جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈے نے پاکستا1ن کی بین الاقوامی ساکھ کو بری طرح مجروح کرتے ہوئے نسل کشی کی آگ بھڑکانے کے جھوٹے بہتان عائد کرکے اس کی تاریخ کو داغدار کردیا ہے۔

یہ کتاب ان غلط فہمیوں اور پوشیدہ سچائیوں کو بے نقاب کرنے کی منفرد کوشش ہے جن کی وجہ سے بنگلہ دیش کی تخلیق کے دوران پیش آنے والے واقعات میں پاکستان پر بنگالیوں کے خلاف ہولناک مظالم کا ارتکاب کرنے کا انتہائی غیر منصفانہ لیبل چسپاں کرکے اس دور کی پوری تاریخ کو مسخ کرکے رکھ دیا ہے۔

مستند حقائق اور ستم ذدہ مظلوموں اور عینی شاہدوں کے بیانات کے بل بوتے پر یہ کتاب اس بدگمانی کو یکسر رد کردیتی ہے کہ مشرقی پاکستان کی ٹوٹ پھوٹ کے دوران پیش آنے والے خوفناک واقعات کے میں خون کی ہولی کھیلی گئی ، اُس میں غیر بنگالیوں کو کوئی زک نہیں پہنچی۔ جنید احمد کی اس تصنیف نے جو بھرپور اور واضح تحقیقی دلائل کی مدد سے ترتیب دی گئی ہے ، بنگلہ دیش کے قیام کے بارے میں حیران کن طریقے سے کھرا سچ عیاں کردیا ہے جس نے جھوٹ اور سچ میں تمیز کرکے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ کرکے رکھ دیا ہے۔

جنید احمد پاکستان کے ایک لائق ، تجربہ کار ماہر تعلیم، محقق اور ممتاز انتظامی مشیر ہیں۔ انہوں نے کینیڈا مانٹریال میں کنکورڈیا یونیورسٹی اور میک گل یونیورسٹی سے 1970کے وسطی عشرے میں بیچلرز اور مالیات اور پالیسی میں مارسٹرز اور پی ایچ ڈی کی اسناد حاسل کیں۔ وہ پاکستان کو درپیش موجودہ مسائل سے متعلق کئی تحقیقی کاموں اور تحریکوں میں سرگرم عمل رہے ہیں۔

اسی طرح کتاب کے مترجم محمود عالم صدیقی ریڈیو پاکستان کے شعبہ خبر سے جزوقتی طور پر برسوں بحیثیت اردو مترجم اور اسکرپٹ رائٹر منسلک رہے اور مختلف کاروباری سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ وہ ایک معروف محقق، مترجم ، شاعر اور مصنف ہیں ۔ ان کی کئی تصنیفات اور تراجم شائع ہو چکے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -