کے ڈی اے کے ڈائریکٹر ز اپنا قبلہ درست کرلیں ،سعید غنی

کے ڈی اے کے ڈائریکٹر ز اپنا قبلہ درست کرلیں ،سعید غنی

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ افسران اور ملازمین اب کام کریں یا اپنے گھروں پر جانے کو تیار رہیں۔ کے ڈی اے کے ڈائریکٹروں کو آخری تنبہہ ہے کہ وہ اپنا قبلہ درست کرلیں اور مقررہ وقت پر اپنی ڈیوٹیوں پر نہ خود موجود رہیں بلکہ اپنے ماتحت ملازمین کی حاضری کو بھی یقینی بنائیں۔ جمعہ کے روز جو ڈائریکٹرز اور ملازمین غیر حاضر ہیں نہ صرف ان کی تنخوائیں کاٹی جائیں بلکہ ان تمام کو آخری شوکاز نوٹس بھی جاری کئے جائیں۔ ڈی جی اور سیکرٹری کے ڈی اے اب ادارے کے ملازمین کی بروقت حاضری کو یقینی بنائیں ورنہ مجھے اب سب کو گھر بھیجنا مجبوری ہوجائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز کے ڈی اے کے مرکزی دفتر کے اچانک دورے کے موقع پر کیا۔ صوبائی وزیر بلدیات صبح 9.00 جب کے ڈی اے مرکزی دفتر پہنچے تو ڈی جی اورسیکرٹری کے ڈی اے دفتر میں موجود تھے اس کے علاوہ ڈائریکٹر ریکوری، ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ بھی موجود تھے البتہ متعدد ڈائریکٹرز، ڈپٹی ڈائریکٹرز اور ملازمین کی بہت کم تعداد آفس میں موجود ہونے پر صوبائی وزیر نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ افسران اور ملازمین چاہتے ہیں کہ میں روزانہ صبح یہاں آکر ان کی حاضری کو چیک کروں۔ انہوں نے ڈی جی اورسیکرٹری کے ڈی اے کو ہدایات دی کہ غیرحاضر اور تاخیر سے آنے والے ملازمین کی فہرستیں روزانہ کی بنیاد پر تیار کی جائیں اور انہیں رپورٹ کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ میں تمام ڈائریکٹروں کو آخری بار موقع دے رہا ہوں کہ وہ اپنے اپنے ڈپارٹمینٹ کے ملازمین کی حاضری کو یقینی بنائیں اور اگر وہ اس میں ناکام نظر آئے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ سعید غنی نے کہا کہ اب وہ روزانہ بھی یا ہر دوسرے روز اداروں کو دوبارہ سے اچانک دورہ کریں گے اور اب کسی بھی ملازم کی تاخیر پر وہ تیار رہے کہ نہ صرف ان کو معطل کردیا جائے گا بلکہ اب ان کو گھر بھی بھیج دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب وہی سرکاری ملازم تنخواہ لے گا جو کام کرے گا اور کام نہ کرنے والوں کو کوئی تنخواہ نہیں دی جائے گی۔ بعد ازاں انہوں نے ڈی جی کے ڈی اے کے دفتر میں مختلف امور پر ان سے تبادلہ خیال کیا اور کے ڈی اے کی گورننگ باڈی کے اجلاس کو جلد بلانے کے حوالے سے تمام اقدامات کو مکمل کرنے کی انہیں ہدایات دی۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -