گیس ناپید ، صنعتی پہیہ جام ، پبلک ٹرانسپورٹ غائب ، عوام کہاں جائیں ؟

گیس ناپید ، صنعتی پہیہ جام ، پبلک ٹرانسپورٹ غائب ، عوام کہاں جائیں ؟

  

تجزیاتی رپورٹ :نعیم الدین

سب سے زیادہ گیس پیدا کرنے والا صوبہ سندھ چند روز سے جاری سی این جی کی تاریخی بندش کے باعث بری طرح متاثر ہے، اس بحران نے عوام کی زندگی اجیرن بنادی ہے، شہری سراپا احتجاج بن گئے، کراچی جو کہ معاشی حب ہے اس کا گیس کے بحران کے باعث صنعتی پہیہ جام ہو گیا ہے، سی این جی کے بحران کے باعث کراچی میں ڈیزل تیل کے اجازت نامے پر چلنے والی بسیں اور کوچز جو کہ غیر قانونی طور پر سی این جی پر چل رہی ہیں، ان کی سروس بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور مالکان اپنی گاڑیاں بس اڈوں پر کھڑی کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں، جو چند گاڑیاں ایل پی جی گیس پر چل رہی ہیں، ان میں عوام بھیڑ بکریوں کی طرح چھتوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں جبکہ رکشہ ٹیکسی والوں نے من مانے کرائے وصول کرنے شروع کردیے ہیں۔ کراچی کی پبلک ٹرانسپورٹ جو کہ پہلے ہی زبوں حالی کا شکار تھی اب مزید ابتر ہوگئی ہے ۔ عوام سراپا احتجاج ہیں اور مطالبہ کررہے ہیں کہ ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر کیا جائے ، کوچ اور بس مالکان کو من مانے کرائے وصول کرنے سے روکا جائے ۔ڈیزل کی منظوری لے کر سی این جی پر گاڑیاں چلانے والے ٹرانسپورٹرز سی این جی کٹ لگا کر عوام کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی ملک بھر میں مائع پیٹرول اور سی این جی کا بحران پیدا ہوجاتا ہے لیکن اس کے لیے کوئی پیشگی انتظامات نہیں کیے جاتے ہیں۔ اگر حکومت کے پاس گیس کے ذخائر کم ہیں تو اسے چاہیے کہ ٹرانسپورٹ کا نظام ڈیزل یا پٹرول پر منتقل کردے اور سی این جی گیس کو پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے ممنوع قرار دیدے ۔ گذشتہ دنوں وزیراعظم، وزیرخزانہ اور وزیرپیٹرولیم کی جانب سے کراچی کے صنعتکاروں کو بھی یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ کراچی کی صنعتوں کے لیے گیس کی سپلائی کو کسی صورت روکا نہیں جائے گا ، تاکہ صنعتی ترقی کا پہیہ چلتا رہے ، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گیس کی بندش کے باعث بعض صنعتی یونٹ بند ہونے کے قریب ہیں جس سے مزدروں کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے تو اس صورت حال کی ذمہ داری کون لے گا ؟؟

مزید :

کراچی صفحہ اول -