آئندہ پانچ سالہ اہداف کا تعین کردیا گیا ، ضیاء اللہ بنگش

آئندہ پانچ سالہ اہداف کا تعین کردیا گیا ، ضیاء اللہ بنگش

  

پشاور( سٹاف رپورٹر)مشیرتعلیم خیبرپختونخوا ضیاء اللہ بنگش نے کہاہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے پچھلے پانچ سال میں خیبرپختونخوا کے تعلیمی شعبے میں انقلابی اقدامات اْٹھائے ہیں، انقلابی اصلاحات کے ذریعے تعلیمی نظام بہتر کیا اور اب محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا کے سو روزہ پلان پر کام مکمل ہوگیاہے اور آئندہ پانچ سالہ اہداف کا تعین کر دیا گیاہے۔سو روزہ پلان میں محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا میں تعلیم کا معیار بہتر کرنے اور عمران خان کی وژن ’’کوالٹی ایجوکیشن فار آل‘‘ پر کام کرے گی۔ سو روزہ پلان کے مطابق اگلے 5سال میں محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا دیگر 7 ایریاز پرائمری ایجوکیشن ، سیکنڈری ایجوکیشن ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ، ایجوکیشن مینجمنٹ، سیٹیزن اونرشپ ، خیبرپختونخوا میں ضم ہونے والے اضلاع کے لیے خصوصی تعلیمی پیکج اور محکمہ تعلیم میں خصوصی اقدامات پر کام کر یگی۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے ایجوکیشن سیکٹر کے پانچ سالہ پلان کے حوالے سے گورنمنٹ شہید اسامہ ظفر گورنمنٹ ہائیرسیکنڈری سکول پشاور سٹی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس میں انہو ں نے محکمہ ایلمنٹری اینڈسیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے پانچ سالوں میں مقررکردہ اہداف اور 100 دنوں میں حاصل کردہ اہداف سے شرکاء کوتفصیلی آگاہ کیا۔تقریب میں وزیر خزانہ تیمورسلیم جھگڑا ، سائنس،ٹیکنالوجی اورانفارمیشن کیلئے وزیراعلی کے معاون خصوصی کامران بنگش، سپیشل سیکرٹری محکمہ تعلیم ارشد خان، ڈائریکٹرایجوکیشن حافظ محمد ابراہیم، ڈائریکٹر ایجوکیشن ضم شدہ اضلاع ہاشم خان ، تمام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز، پرنسپلز، محکمہ تعلیم کے افسران اورطلباء نے شرکت کی۔جن سات ایریازمیں سو روزہ پلان کے مطابق اگلے 5سال میں محکمہ تعلیم خیبرپختونخواجامع اقدامات اٹھائیگی ان کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہیں۔1۔پرائمری ایجوکیشن : خیبرپختونخوا میں پرائمری ایجوکیشن کے حوالے سے Literacy and Numeracy Campaignچلائی جائے گی۔ جس کا مقصد ہر بچے کو سکول میں داخل کرنا اور معیاری تعلیم فراہم کرنااور بچو ں کی تعلیم سے بہترین نتایج حاصل کرناہے۔ پرائمری لیول پر بچوں کی معیاری بنیادی تعلیم اور سیکھنے کے عمل کو جانچنا ہمارا مقصد ہے، آزادانہ ٹیسٹ اور بہترین اساتذہ کے زریعے اس مسئلے کو حل کیا جائے گا۔دس لاکھ بچے جو کہ 5 سے 9 سال کے ہیں سکولوں سے باہر ہیں اْن کو محکمہ تعلیم سکولوں میں لائیگی اور ہر سال پرائمری داخلہ مہم کے زریعے اْن کا داخلہ یقینی بنائیں گے۔ کچی کلاس رومز کو ماڈرن پری سکول نرسریز میں تبدیل کریں گے اور نرسریز میں بہترین اور تجربہ کار اساتذہ تعینات کریں گے۔ 8 لاکھ بچوں کو پری پرائمری ایجوکیشن دی جائے گی تاکہ نئے داخل ہونے والے بچوں کو شروع سے بہترین سہولیات اور سیکھنے کا ماحول مل سکے، جس سے وہ سکول کے طرف راغب ہو۔ 5 سال میں سکولوں میں 10 ہزار ماڈرن پری سکول نرسریز (کلاسز) قائم کی جائیں گی جس میں بہترین جدید سہولیات سے آراستہ Learning Environment فراہم کیا جائے گا اور بچوں کو تعلیم اور سکول کی طرف راغب کیا جائے گا۔ ہر بچہ جو کہ پرائمری لیول میں داخل ہوتا ہے اْس کے بنیادی تعلیمی درجہ پر ہی زبانیں اور ریاضی پر توجہ دی جائے گی تا کہ سیکنڈری لیول پر اسٹوڈنٹس کے بنیادی Concepts کلئیر ہوں۔2۔ سیکنڈری ایجوکیشن: سیکنڈری سکول میں پانچ لاکھ مزید نشستوں کا اضافہ کیا جائے گا تا کہ مزید اور ذیادہ بچے سیکنڈری ایجوکیشن میں سرکاری سکولوں میں آ سکیں اور پرائمری سے سیکنڈری لیول میں اسٹوڈنٹس کی شرح بڑھ سکے۔ گریڈ 8 کے طلباء کیلئے نیا معیاری جانچ کا پروگرام شروع کیا جائے گا۔ پڑھانے اور سیکھنے کے معیار کو سیکنڈری لیول پر مزید بہتر کیا جائے گا۔ نیا میٹرک امتحانی سسٹم جس سے رٹہ کلچر کا خاتمہ ہو گا اور بہترین Learning Conceptual یقینی بناکر نقل کا خاتمہ کیا جائے گا۔3۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ: پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا اور اْن کی خدمات بھی لی جائیں گی۔ 3 لاکھ طلباء کو پرائیویٹ سکولوں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے بہترین تعلیم اور سہولیات دی جائیں گی۔ پرائیویٹ سیکٹر کی شراکت داری سے ایک ہزار نئے سکول کھولے جائینگے۔4۔ ایجوکیشن مینجمنٹ: اساتذہ اور ہیڈ ٹیچرز کو سکول کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے لیڈرشپ اور منیجمنٹ ٹریننگ دی جائے گی۔ 65000 مزید اساتذہ کو میرٹ پر بھرتی کیا جائے گا۔ 7000 سکول لیڈرز تعینات کیے جائیں گے جو تین پرائمری سکولوں کی دیگر بنیادی سہولیات، تعلیمی اْمور اور کارکردگی کی رپورٹ محکمہ تعلیم کو فراہم کرتے رہیں گے۔ تجربہ کار پی ایم ایس افسران کو ڈی ای او تعینات کیا جائے گا جس کی کم سے کم مدت تین سال ہو گی۔ ہر سکول میں بہترین سہولیات اور اساتذہ کی تعداد پوری کی جائے گی اور بہترین تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے گا۔ صوبے کے 27000 ہزار سکولوں میں بہترین تعلیمی سہولیات اور سیکھنے کا ماحول بنایا جائے گا۔ محکمہ تعلیم میں کسی بھی مینجمنٹ کیڈر پوسٹ کو خالی نہیں چھوڑا جائے گا۔5۔ سیٹیزن اونرشپ:محکمہ تعلیم عوام کو سکولز اور محکمہ تعلیم سے متعلق آگاہ کرتی رہے گی اور بلدیاتی نمائندے سکولز کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔ سکول ریٹنگ پروگرام کے تحت عوام اور والدین کو سکول کی کارکردگی دکھائی جائے گی۔ سکول کے باہر سٹار ریٹنگ کے ذریعے عوام اور والدین کو سکول کی کارکردگی کے حوالے سے آگاہ رکھا جائے گا جس کے زریعے ہر سکول اپنی کارکردگی پر جوابدہ ہو گا۔ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کارکردگی پر والدین کی رائے کے حصول کے لیے ایجوکیشن ہاٹ لائن کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور عوام کی شکایات موصول کی جائیں گی جس کو مشیر تعلیم خصوصی طور پر مانیٹر کریں گے۔۔ خیبرپختونخوا میں ضم ہونے والے اضلاع کے لیے خصوصی تعلیمی پیکج: ضم ہونے والے تمام اضلاع پر خصوصی توجہ اور خصوصی فنڈز دیئے جائیں گے۔ تعلیمی نظام بہتر کیا جائیگا اور تمام سکولوں میں بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ہائیر سیکنڈری سکولز کو اگلے چھ مہینوں میں تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی اور اساتذہ کی کمی کوبھی پورا کیا جائے گا۔ انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کا نظام ضم ہونے والے اضلاع میں بھی متعارف کیا جائے گا۔ اساتذہ کی حاضری یقینی بنائی جائے گی۔ ضم ہونے والے اضلاع میں باقی صوبے کی طرح ہر قسم کی سہولت فراہم کی جائے گی۔7۔ محکمہ تعلیم میں خصوصی اقدامات: 5 ہزار پلے ایریاز قائم کی جائیں گی، جن میں ہاکی، کرکٹ اور فٹبال فیلڈز بنائی جائینگی۔۔ محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا کی جانب سے ڈسٹرکٹ اور صوبائی سطح پر اسپورٹس مقابلے کروائے جائیں گے۔ مزید آئی ٹی لیبز کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور کے پی آئی ٹی بورڈ کے اشتراک سے جدید دور کی آئی ٹی ایجوکیشن فراہم کی جائے گی۔ محکمہ تعلیم میں Early Age Programming کے منصوبے کو مزید سکولوں تک بڑھایا جائے گا۔ گرین سکول پروگرام کے تحت تین سال میں پچاس لاکھ پودے لگائے جائیں گے۔ مختلف سماجی مسائل پر سکولوں میں آگاہی مہم چلائی جائے گی اور تعلیمی بجٹ میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔اساتذہ کو عزت دینے کیلئے قرارداد اسمبلی میں لایاجائیگا۔ ٹیچرز کو تربیت دیں گے۔ 9 ارب روپے باقی ماندہ سہولیات پرخرچ کریں گے اور ہرضلع میں محکمہ تعلیم کی جانب سے کھلی کچھری کاانعقاد بھی کیاجائیگا

مزید :

کراچی صفحہ اول -