پہلی بار دو خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں کو توسیع

پہلی بار دو خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں کو توسیع
پہلی بار دو خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں کو توسیع

  

نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارت کی مرکزی حکومت نے ملکی ترسایخ میں پہلی مرتبہ خفیہ ایجنسیو ں ”را“ اور انٹیلی جنس بیورو کے سربراہوں کی میعاد ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع کردی ہے۔ واضح رہے کہ دونوں ایجنسیاں بھارت کے اندرونی اور بیرونی سکیورٹی نیٹ ورک کی ذمہ دار ہیں۔

روزنامہ دنیا کی رپورٹ کے مطابق مرکزی کابینہ کی تقرر کمیٹی نے انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر راجیو جینس کی میعاد ملازمت میں 30 دسمبر کے بعد 6 ماہ کی توسیع کردی ہے، اسی طرح ”را“ کے سیکرٹری اے کے دھسمنا کی ملازمت کی میعاد میں بھی 6 ماہ کی توسیع کردی گئی ہے، دھسمنا کے بارے میں اس حکم کا اطلاق 29 دسمبر سے ہوگا، ایک سینئر حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ ان دونوں افسران کی میعاد ملازمت میں توسیع آئندہ سال لوک سبھا کے انتخابات کی وجہ سے کی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ اس وقت جبکہ ان انتخابات میں چند ماہ ہی باقی ہیں اور ممکنہ طور پر اس مرتبہ اپوزیشن بی جے پی کو انتہائی سخت چیلنج سے دوچار کردے گی، یہی وجہ ہے کہ اس مرحلے پر حکومت ملک کے ان اہم ترین سکیورٹی اداروں میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں چاہتی۔

اس عہدیدار نے مزید بتایا کہ اس فیصلے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگر ”را“ اور انٹیلی جنس بیورو کے سربراہان رواں ماہ کے دوران ہی مدت ملازمت پوری ہونے کی وجہ سے ریٹائر ہوگئے تو ان دونوں کی جگہ نئے افسران کا تقرر کرنا پڑے گا، چند ماہ بعد اگر مرکز میں نئی حکومت اقتدار سنبھالے گی تو وہ ان دونوں اہم اداروں کے نئے سربراہوں کو سبکدوش کرسکتی ہے، انہوں نے کہا کہ الیکشن کے موقع پر ”را“ اور ”انٹیلی جنس بیورو“ کے موجودہ سربراہوں کو ان کے عہدوں پر برقرار رکھنے کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ دونوں افسران قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کے بااعتماد معاونین ہیں۔

اس رائے  کے برعکس بھارتی بیوروکریسی کے بعض سینئر ارکان کا خیال ہے کہ حکومت کے اس فیصلے سے اس کی بدحواسی ظاہر ہوتی ہے، اس لیے کہ 5ریاستوں کی اسمبلیوں کے انتخابات میں بی جے پی کی شکست کے بعد موجودہ حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار بھی نہیں تھا، اس معاملے میں حکومت کو ئی رسک لینا نہیں چاہتی کیونکہ اگر ”را“ اور انٹیلی جنس بیورو کے موجودہ سربراہان اس مرحلے پر ریٹائر ہوگئے تو کوئی نہیں جانتا کہ ان کی جگہ جن نئے افسران کو تعینات کیا جائے گا ان کا طرز عمل کیا ہوگا؟ بعض حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت کیلئے یہ بات بہت اہمیت رکھتی ہے کہ گزشتہ 2 ماہ سے ”را“ تنازعات یا اختلافی معاملات کا شکار ہے، ایجنسی کو اس صورتحال سے نجات دلانا بھی بے حد ضروری ہے، اس کی واحد صورت یہی تھی کہ اس کے سربراہ کی میعاد ملازمت میں توسیع کی جائے۔

اسی طرح انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر راجیو جین کو بھی ان کے عہدے پر برقرار رکھنا ضروری تھا تاکہ لوک سبھا کے آئندہ الیکشن میں یہ ایجنسی وہ کردار ادا کرسکے جس کی اس سے توقع کی جاتی ہے، یہ ایک اہم بات ہے کہ اس ایجنسی کی خفیہ رپورٹیں فیصلہ سازی میں مرکزی حکومت کیلئے بہت مددگار ثابت ہوں گی، ان حلقوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ مرکزی حکومت انٹیلی جنس بیورو کے سیاسی شعبے کو پہلے ہی یہ ہدایت دے چکی ہے کہ وہ سیاسی صورتحال سے متعلق زمینی حقائق پر مبنی رپورٹیں پیش کرے۔

بھارت کے ایک سینئر عہدیدار نے اس تجزیے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ را اور انٹیلی جنس بیورو کے سربراہوں کی معیاد ملازمت میں توسیع ”محض ایک انتظامی حکم ہے“ انہوں نے کہا کہ حکومت جب چاہے اس فیصلے کو منسوخ کرسکتی ہے، کیونکہ بیورو کے کئی سینئر افسران سربراہ کا عہدہ سنبھالنے کے خواہشمند ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -