اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 91

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 91

  

میں نے انہیں بتایا’’راجہ والبشیلم کی فوج نے عقب سے مسلمانوں کے لشکر پر حملہ کیا تو میں اس کے ساتھ تھا۔ مگر افسوس ہماری اپنی ناسمجھی کی وجہ سے فوج جم کر مقابلہ نہ کرسکی۔ مسلمانوں نے ہمارا پیچھا کیا۔ میں نے رات کے اندھیرے میں دریا میں چھلانگ لگادی اور چٹانوں میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ دیوتا مجھ پر مہربان تھے کہ آپ لوگوں نے مجھے اوپر اٹھالیا۔‘‘

مجھے اس وقت سومنات کے سب سے بڑے پجاری داستور کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس نے اپنی تسلی کے لئے مجھ سے راجہ والبشیلم اور دربار کے بارے میں بہت کچھ پوچھا جو میں نے بتادیا کیونکہ یہ ساری معلومات میں پہلے سے جانتا تھا۔ پجاری واستو بھی میری سنسکرت دانی اور ویدوں کے اشلوک پڑھنے سے بہت متاثر ہوا۔ اب اس نے مجھ سے سلطان محمود کے لشکر کے بارے میں پوچھا کہ فوج میں ہاتھی کتنے ہیں اور رات والی لڑائی میں اس کا کتنا نقصان ہوا تھا۔ میں نے من گھڑت باتیں بیان کردیں اور اسے یقین دلایا کہ مسلمانوں کے حوصلے پست ہوچکے ہیں اور وہ سومنات کے دیوتا سے خائف ہیں۔ یہ سن کر تمام پجاریوں نے جو وہاں جمع تھے ، سومنات کے نعرے بلند کئے۔ سومنات کے شہر پر پہلے ہی مسلمانوں کا قبضہ ہوچکا تھا اب صرف قلعہ سرکرنا باقی تھا جس کے اندر سومنات کا بہت بڑا مندر تھا۔ میری خوب آؤ بھگت کی گئی اور پجاری واستو نے مجھے سومنات کے بت کے قریب بیٹھ کر ویدوں کے قدیم اشلوک پڑھنے کا فرض سونپا۔ وہاں کوئی ایسا ہندو برہمن نہیں تھا جس کو اتنے قدیم اشلوک اس قدر روانی سے یاد ہوں۔ پجاری واستو کے نزدیک ان اشلوکوں کے اثر سے اسلامی لشکر کو پسپا کیا جاسکتا تھا۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 90 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پجاری واستو مجھے سومنات کے بت کے قریب لے گیا۔ میں پہلی بار اس بت کو دیکھ رہا تھا۔ بت دس گیارہ گز لمبا تھا۔ اس کے بازوؤں، ماتھے اور آنکھوں میں ہیرے، الماس او رلعل و عقیق سے جڑے ہوئے تھے جن کی کرنوں سے اس کے اردگرد روشنی کا ہالہ سا بن گیا تھا۔ اس بت خانے کی چھت کو ساٹھ سے زیادہ منقش ستونوں نے اٹھا کر رکھا تھا۔ میں دوپہر تک وہاں بیٹھا اشلوک پڑھتا رہا۔ دوپہر کے بعد مجھے کھانے کو مٹھائی اور دودھ دیا گیا۔ تیسرے پہر پجاری واستو نے مجھے بلایا اور پوچھنے لگا کہ میرے خیال میں اسلامی لشکر اب کیا سوچ رہا ہے اور محاصرہ کب تک جاری رکھ سکتا ہے۔ میں نے اسے بتایا۔

’’میرے خیال میں تو مسلمانوں کے حوصلہ جواب دے گئے ہیں۔ ان کا بہت سا نقصان ہوچکا ہے۔ کئی ہاتھی زخمی ہیں۔‘‘

پجاری واستو بولا ’’پنڈت جی‘‘

پھر اچانک میری طر ف دیکھنے لگا۔’’تم نے اپنا شبھ نام تو بتایا ہی نہیں‘‘اس وقت میرے دماغ میں ایک ہی نام آیا اور میں نے فوراً کہہ دیا’’میرا نام پنڈت پر بھودیال شاستری ہے۔‘‘

وہ اپنی گفتگو کا سلسلہ پھر سے جاری رکھتے ہوئے بولا۔

’’پنڈت پر بھودیال شاستری۔ تمہیں شاید مسلمانوں کے مذہبی جوش کا اندازہ نہیں۔ یہ قوم ہمیں کافر سمجھتی ہے اور خلاف جنگ کرنا اپنا دھرم خیال کرتی ہے۔ اس لئے مجھے پورا وشواس ہے کہ یہ لوگ کوئی بڑا حملہ کرنے والے ہیں۔‘‘

میں نے کہا ’’لیکن واستو جی! مسلمانوں نے پہلے بھی حملہ کرکے دیکھ لیا ہے۔ ان کے ہاتھی نہ قلعے کا دروازہ توڑ سکے ہیں اور نہ ہی ان کے فوجی ہماری فصیلوں پرچڑھ سکے ہیں۔‘‘

پنجاری واستو نے کہا ’’میرا خیال ہے کہ اس بار وہ دریا کی طرف سے حملہ کریں گے۔‘‘

میں نے کہا ’’ہمیں دریا کی طرف فصیل پر کھولتے ہوئے تیل کے کڑھاؤ اور تیر اندازوں کا ابھی سے انتظام کردینا چاہیے۔‘‘

پجاری واستو بولا ’’اس کا بندوبست میں نے کروادیا ہے لیکن اس جگہ قلعے کی دیوار کے نیچے سے دریا کا پانی قلعے کے اندر نہر کی شکل میں داخل ہوتا ہے۔ اگرچہ ہم نے وہاں لوہے کا جنگلہ چڑھا رکھا ہے۔ پھر بھی مجھے اس جگہ سے مسلمانوں کے حملے کا خطرہ ہے۔‘‘

جس چیز کی تلاش میں وہاں آیا تھا وہ اس پجاری نے خود ہی میرے آگے رکھ دی تھی۔ باتوں ہی باتوں میں مَیں نے یہ بھی معلوم کرلیا کہ یہ نہر کس مقام سے قلعے کی فصیل کے اندر داخل ہوتی تھی۔ بڑے پجاری کو پورا یقین تھا کہ قلعہ چند کوٹ، قلعہ منج اور قلعہ چند پال کے راجہ عنقریب سومنات کی مدد کو آئیں گے اور مسلمانوں کے لشکر کو تہس نہس کر کے رکھ دیں گے۔

’’سومنات جی نے مجھے خواب میں اشارہ دے دیا ہے۔ پرانی پستکوں میں لکھا ہے کہ سومنات کے مقدس استھان پر حملہ کرنے والوں کو ہمیشہ تباہ و برباد کردیا گیا۔‘‘

میں نے مندر کے تمام پجاریوں کا بھرپور اعتماد حاصل کرلیا تھا۔ ایک روز مَیں نے وہ مقام بھی دیکھ لیا جہاں فصیل کے نیچے اندر ہی اندر سے ایک نہر قلعے میں داخل ہورہی تھی۔ قلعے کی فصیل پر چڑھ کر مَیں نے اس مقام کو ذہن نشین کرلیا۔ اب میں وہاں سے فرار ہونے کے بارے میں سوچنے لگا۔ اسی رات کا ذکر ہے کہ مجھے بڑے پجاری نے اپنی گپھا میں بلایا اور کہا۔

’’شاستری جی! آج منہ اندھیرے سومنات جی کے آگے ہم ایک اور دیوداسی کی قربانی دے رہے ہیں جو قلعہ چند پال کے برہمن جاگیردار کی بیٹی ہے۔ اس برہمن جاگیردار نے اپنی اس بیٹی کو سومنات کی خدمت کے لئے دان کے طور پر دیا تھا لیکن ہمیں پتہ چلا ہے کہ یہ برہمن لڑکی جس کا نام چترالی ہے، چند پال شہر کے ایک شودر ذات کے نیچ نوجوان سے پریم کرتی تھی۔ اب ہم اس کی آتما کی شانتی کے لئے اسے سومنات کے حضور قربان کررہے ہیں لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ اس ملیچھ دیوداسی کو رگ وید کے اشلوک پڑھ کر اس قابل بنایا جائے کہ وہ سومنات جی کے حضور پیش ہوسکے۔ تمہیں یہ سارے اشلوک یاد ہیں چنانچہ تمہیں آج رات صبح بلیدان کے وقت تک اس ملیچھ دیوداسی کے پاس بیٹھ کر اشلوک پڑھنا ہوں گے تاکہ سومنات جی اس کی قربانی سوئیکار کرلیں۔‘‘

یہ سن کر میرا دل دہل گیا کہ یہ سنگ دل لوگ ایک لڑکی محض اس لئے قتل کرنے والے ہیں کہ وہ اپنی پسند کے ایک نوجوان سے پیار کرتی ہے۔ چاہے وہ شودر ہی تھا۔ ان ہندو برہمنوں نے اپنے مفاد کے لئے انسانی معاشرت کو ذات پات میں تقسیم کررکھا تھا۔ جس کو میں تسلیم نہیں کرتا تھا۔ میں نے اسی وقت اس بدنصیب مگر عظیم لڑکی کی مدد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ جس نے ذات پات اور گھناؤنی ریتوں کے خلاف بغاوت کی تھی اور برہمن زادی ہوتے ہوئے بھی نیچی ذات کے ایک نوجوان سے محبت کی تھی۔(جاری ہے )

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 92 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -اہرام مصرسے فرار -