کرسمس، نیو ایئر نائٹ قریب آتے ہی شراب کا سٹاک شروع، شباب کی محفلوں کیلئے کال گرلز کی بکنگ شروع

کرسمس، نیو ایئر نائٹ قریب آتے ہی شراب کا سٹاک شروع، شباب کی محفلوں کیلئے کال ...

  

لاہور (ویب ڈیسک) کرسمس اور نیو ایئر نائٹ قریب آتے ہی شراب اور شباب کی محافل کے بندوبست عروج پر پہنچ گئے، شراب کشید کرنے سے لے کر  ہوٹلوں ، گھروں میں سٹاک کرنے تک کا عمل شدت اختیار کرگیا، شہرمیں قائم 1000 کے قریب جسم فروشی کا مکروہ دھندہ کرنے والے اڈوں پر مہنگے، داموں لڑکیوں کی بکنگ زور و شور سے جاری، متعلقہ پولیس کی علم میں لائے اور نہ لائے بغیر جسم فروش اور منشیات فروش مکروہ عمل کرنے میں شب روز کوشاں، لاہور پولیس اکا دکا کارروائیاں کرکے بہترین کارکردگی ظاہر کرنے کی کوشش کرنے میں مصروف، کرسمس اور نیوایئرنائٹ پر ممکنہ طور پر کچی اور زہریلی شراب پینے سے ماضی کی طرح اس بار بھی ہلاکتوں کے خدشات، شریف گھروں کی لڑکیوں کو محبت کے جال میںپھنسا کر ان کی ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنے کا انکشاف، متعدد بلیک میلنگ سے خوفزدہ ہوکر خودکشی کرچکی ہیں۔

روزنامہ خبریں کی رپورٹ کے مطابق 25 دسمبر کو مسیحی تہوار کرسمس جبکہ 31 دسمبر کو نیوایئر نائٹ پر شراب اور شباب کی محافل کیلئے شہر بھر میں جہاں کچی شراب اور زہریلی شراب کشید کرنے اور ہوٹلوں سے شراب خرید کر کرسمس اور نیوایئر نائٹ کو مہنگی فروخت کرنے کیلئے سٹاک جمع کرنے میں مصروف ہیں وہیں شباب کی بھی بکنگ اپنے عروج پر ہے اور اس حوالے سے جسم فروشی کے مکروہ دھندے میں ملوث کوٹھی خانوں، گیسٹ ہاﺅسز اور ہوٹلوں سے لے کر ایلیٹ کلاس اور انٹرنیٹ کے ذریعے بک ہونے والی جسم فروش خواتین کی بکنگ بھی دھڑا دھڑ جاری ہے۔

اس کے علاوہ کرسمس کے موقع پر مذہبی سطح پر شراب پینے کی اجازت ہونے کی بناءپر متعدد افراد نے محکمہ ایکسائز سے اپنا پرمٹ بنارکھا ہوتا ہے تاکہ حسب منشاءکو شراب نوشی قانون کے دائرہ میں رہ کر کرسکیں لیکن ان میں ایسے مسیحی افراد کی بھی بہت بڑی تعداد موجود ہوتی ہے جو کہ اپنے اس پرمٹ کی بناءپر صرف پیسوں کی لالچ میں نہ صرف شراب کا سٹاک اکٹھا کرتے ہیں بلکہ دیسی (زہریلی اور کچی) شراب فروخت کرتے ہیں جس سے اس مقدس مسیحی تہوار پر ہلاکتوں اور حالت غیر ہوکر ہسپتالوں میں پہنچنے کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔

دوسری جانب نیوایئر کی رات مسیح مسلم فرق کے بغیر شراب نوشی، زنا، آتش بازی اور ہوائی فائرنگ کی جاتی ہے جس سے کبھی نشے کی زیادتی یا غیر معیاری شراب پینے سے تو کبھی اچانک گولی لگنے سے ہلاکتوں کے واقعات رونما ہوجاتے ہیں۔

اس حوالے سے لاہور پولیس کی جانب سے شہر کے ناکوں پر خواتین اہلکاروں کو تعینات کرنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ یہ منشیات فروش اپنے ساتھ خواتین اور بچوں کو لے کر نکلتے تھے جس وجہ سے پولیس اہلکار فیملی تصور کرتے ہوئے ان کی تلاشی نہیں لیتے تھے اور یہ باآسانی منشیات شہر کے کسی بھی حصہ میں باآسانی پہنچاسکتے تھے لیکن پولیس کی جانب سے اٹھائی جانے والے اس اقدام کے بعد بھی کرسمس اور نیوایئر نائٹ کیلئے شراب کی ترسیل اور سٹاک کے حوالے سے کوئی بڑی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے جو کہ لاہور پولیس کی کارکردگی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ جہاں تک جسم فروشی کا تعلق ہے تو اس حوالے سے شہر بھر میں ایک ہزار کے قریب چھوٹے بڑے ہوٹل اور گیسٹ ہاﺅسز سمیت مساج سینٹرز، بیوٹی پارلرز، ہاسٹلز اور فلیٹس سمیت پوش علاقوں سے کچی آبادیوں تک قحبہ خانے چل رہے ہیں جن کے خلاف پولیس تادیبی کارروائیاں کرنے سے بری طرح ناکام ہے۔

اخباری ذرائع کے مطابق سٹوڈنٹس لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسانے کیلئے خوبرو لڑکوں کو مہنگی گاڑیاں، اچھے کپڑے اور مہنگے موبائلز دے کر ٹارگٹ پر بھیجا جاتا ہے جو کسی نہ کسی تعلیمی ادارے کی لڑکی کواپنی محبت کے جال میں پھنسا کر اس کی خفیہ کیمروں کی مدد سے ویڈیو بنالیتے ہیں اور پھر اس کو بلیک میل کرکے نیو ایئر سمیت چاند رات اور عام دنوں میں جب جسم فروشی کے طلبگار زیادہ ہوتے ہیں ان کے مکروہ دھندے کے ریٹ بھی آسمانوں سے باتیں کررہے ہوتے ہیں، یہ ان لڑکیوں کو بلیک میل کرکے حرام کاری پر مجبور کرتے ہیں اور ان میں سے دیگر اضلاع سے لاہور میں پڑھائی کیلئے آنے والی ہاسٹل کی لڑکیاں تو باآسانی ایک دو راتیں ہاسٹل سے باہر گزارلیتی ہیں لیکن لاہور کی رہائشی لڑکیوں کو سہیلیوں کے گھر شادی وغیرہ کے بہانے کرکے ان بلیک میلروں کی ڈیمانڈ پوری کرتے ہوئے جسم پیش کرنے پڑتے ہیں۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ مبینہ طور پر گھریلو ڈانٹ ڈپٹ، نامعلوم وجوہات، گھریلو جھگڑے یا پڑھائی میں ناکامی وغیرہ کی بناءپر ہونے والی خود کشیوں میں زیادہ تعداد ان لڑکیوں کی ہی ہوتی ہے جو کسی نہ کسی طریقے سے کسی نہ کسی بلیک میلر کے ہاتھوں بلیک میل ہورہی ہوتی ہیں۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -جرم و انصاف -