’میں نے زندگی اپنے والد کے ساتھ گزاری لیکن آج 30 سال بعد بھی معلوم کرنے کی کوشش کررہا ہوں کہ دراصل وہ تھا کون‘

’میں نے زندگی اپنے والد کے ساتھ گزاری لیکن آج 30 سال بعد بھی معلوم کرنے کی ...
’میں نے زندگی اپنے والد کے ساتھ گزاری لیکن آج 30 سال بعد بھی معلوم کرنے کی کوشش کررہا ہوں کہ دراصل وہ تھا کون‘

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)برطانوی نشریاتی ادارے پر ان دنوں ایک جاسوس کی کہانی پر مبنی سیریز نشر کی جا رہی ہے، جس کا نام ’مسز ولسن‘ ہے۔ سیریز میں یہ دکھایا جا رہا ہے کہ کس طرح اس جاسوس نے اپنے گھروالوں سے بھی تمام عمر اپنی اصل شناخت چھپائے رکھی، حتیٰ کہ اس کے بچے بھی اس کا اصل نام اور کام نہیں جانتے تھے۔ یہ کہانی دیکھ کر کرسٹوفر ولسن نامی ایک شخص نے اپنی کہانی بیان کی ہے جو اس سے بالکل ملتی جلتی ہے۔ میل آن لائن کے لیے لکھی گئی اس کہانی میں کرسٹوفر لکھتا ہے کہ جس شخص کے ساتھ میں نے پیدائش سے جوانی تک زندگی گزاری آج اس کی موت کے 30سال بعد بھی معلوم کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ وہ دراصل کون تھا۔ میرے باپ نے ہمیں اپنا جو نام بتارکھا تھا اور اپنے خاندان کے بارے میں جومعلومات دے رکھیں تھیں اس کی موت کے بعد جب میں نے تحقیق کی تووہ سب کی سب غلط ثابت ہوئیں۔ اس کے نام کا برتھ سرٹیفکیٹ تلاش کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ اس نام کا کوئی شخص برطانیہ میں کبھی پیدا ہی نہیں ہوا۔ اس نے ہمیں اپنا نام کیتھ ولسن بتارکھا تھا اور بتا رکھا تھا کہ پہلی جنگ عظیم میں ان کے دو بھائی مارے گئے تھے اور ان کی ایک بہن تھی جس نے ایک بزنس مین سے شادی کی اور وہ جنوبی افریقہ جا کر مقیم ہو گئے۔“

کرسٹوفر لکھتا ہے کہ ”جب اپنے باپ کا برتھ سرٹیفکیٹ تلاش کرنے میں ناکامی ہوئی تو میں نے ان کی بتائی ہوئی باقی معلومات پر تحقیق شروع کی۔ میں نے پہلی جنگ عظیم میں مرنے والے فوجیوں میں ان دو ناموں کی تلاش کی جنہیں میرے والد نے اپنا بھائی بتا رکھا تھا لیکن ان دوناموں کے فوجی جنگ عظیم دوم میں شامل ہی نہیں تھے۔میں نے اس دور میں بحری جہاز کے ذریعے جنوبی افریقہ جانے والی خواتین کے ناموں کی فہرستیں کھنگالیں لیکن مجھے وہ نام نہیں ملا جو میرے والد نے اپنی بہن کا نام بتا رکھا تھا۔ انہوں نے بتا رکھا تھا کہ وہ رائل نیوی آفیسر کے گھر پیدا ہوئے اور کارن وال میں سکول کی تعلیم پائی لیکن کارن وال کے اس سکول میں اس نام کا کوئی طالب علم کبھی داخل ہی نہیں ہوا تھا۔ میرے والد کا انتقال 1981ءمیں ہوا اور میں آج تک یہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ وہ دراصل کون تھا لیکن مجھے تاحال اس میں کامیابی نہیں ہوئی۔ ان کے ساتھی فوجی اور ان کے افسران ان کی آخری رسومات میں شریک ہوئے تھے جو یقینا ان کی حقیقت جانتے تھے، ان کی موت کے بعد بھی میں ان سے ملتا رہا لیکن انہوں نے بھی مجھے کبھی میرے والد کے بارے میں سچ نہیں بتایا۔ اب وہ بھی لگ بھگ سبھی اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں اور میں تاحال اپنے باپ کی اصلیت جاننے کی کوشش کر رہا ہوں۔ میں نے ’مسز ولسن‘ کی گزشتہ قسط ٹی وی پر دیکھی تو میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ یہ کہانی ہو بہو میری کہانی جیسی ہے اور شاید بہت سے اور لوگوں کی بھی کہانی ایسی ہی ہو گی جن کے باپ جاسوس تھے۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -برطانیہ -