اجرتی قاتل ‘ خطرناک اشتہاری ذوالقرنین عرف ذولی’’ ڈولی ‘‘چڑھ گیا ،جرائم کی دنیا سے عبرت ناک داستان

اجرتی قاتل ‘ خطرناک اشتہاری ذوالقرنین عرف ذولی’’ ڈولی ‘‘چڑھ گیا ،جرائم ...
اجرتی قاتل ‘ خطرناک اشتہاری ذوالقرنین عرف ذولی’’ ڈولی ‘‘چڑھ گیا ،جرائم کی دنیا سے عبرت ناک داستان

  

گجرات(مرزانعیم الرحمان )جرم تو رہتی دنیا تک ہوتا رہے گا جبکہ قانون اور جرم کی جنگ ازل سے لیکر ابد تک جاری رہے گی ۔بعض جرائم ایسے بھی رونما ہوتے ہیں جن کو سنتے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جن میں قتل ، دوران ڈکیتی زیادتی ، وغیرہ سرفہرست ہیں ۔ قتل قتل ہوتا ہے خواہ وہ دشمنی کی وجہ سے ہو یا پھر کسی بے گناہ کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے؟ قاتل ایک دن خود بھی مکافات عمل کا شکار ہو جاتا ہے مگر بعض ایسی وارداتیں بھی ہوتی ہیں جنہیں سن کر پتھر دل انسان کی آنکھیں بھی نمناک ہو جاتی ہیں، کسی کی نسل ختم ہوتی ہے تو کسی کا خاندان اجڑ جاتا ہے ،مرنے والا واپس نہیں آتا مگر مارنے والا ضرور اسکے پاس چلا جاتا ہے ۔دنیا میں عبرتناک انجام سے دوچار ہونیوالا آخرت میں بلکہ مٹی میں دفن ہوتے ہی ایسے عذاب کا شکار ہوتا ہے جس کا کتاب الٰہی میں واضع طور پر اعلان کیا گیا ہے ۔مخلوق خدا کیلئے اذیت اور دہشت کا سبب بننے والا ایک ایسا ہی اجرتی قاتل ذو القرنین عرف ذولی گزشتہ دنوں اپنے عبرتناک انجام کو پہنچ گیا ۔تھانہ کنجاہ پولیس ملزم کو برآمدگی کیلئے لے جا رہی تھی کہ راستے میں اسکے دیگر ساتھیوں نے اسے چھڑانے کی کوشش کی اور پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ذو القرنین عرف ذولی اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک جبکہ دو پولیس ملازمین زخمی ہو گئے ۔

سید علی محسن کاظمی ڈی پی او گجرات نے ایک بھر پور پریس کانفرنس میں صحافیوں کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اشتہاری ذو القرنین عرف ذولی قتل ، اقدام قتل، ڈکیتی ،اغواء برائے تاوان اور دہشت گردی کے مختلف مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھا۔اشتہاری کو برآمدگی کیلئے پولیس موبائل میں لے جایا جا رہا تھا جسے چھڑانے کیلئے اسکے ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر حملہ کر دیا ،اندھا دھند فائرنگ کی اور ایک پولیس اہلکار سے سرکاری اسلحہ چھین کر ذو القرنین عرف ذولی کو چھڑا کر پبی کی طرف فرار ہو گئے، پولیس پارٹی پر شدید فائرنگ کی گئی فائرنگ کا سلسلہ تھمنے پر پولیس کو ذو القرنین عرف ذولی کی نعش ملی جو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا،ملزم کی نعش کے پاس سے جدید اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔ خطرناک اشتہاری ذوالقرنین عرف ذولی چک نمبر 655/6گ ب تھانہ لنڈیانوالہ تحصیل جڑانوالہ ضلع فیصل آباد کا رہائشی تھا جو اپنے گھناؤنے کردار کے باعث معاشرے کیلئے ناسور بن چکا تھا ،علاقے میں قتل ، ڈکیتی ،پولیس مقابلے اور دیگر خطرناک وارداتوں میں پولیس کو مطلوب تھا ۔

اپنی گرفتاری کے بعد اشتہاری ذولی نے دوران تفتیش اور بعد ازاں پریس کانفرنس میں انکشاف کیا تھا کہ سرائے عالمگیر کے گاؤں ڈھوری میں دو متحارب گروپوں میں قتل کی دشمنی چل رہی تھی ،دونوں گروپوں نے سال 2017میں آپس میں ایک دوسرے گروپ کے افراد کو قتل کیا۔ ایک گروپ کے بیرون ملک مقیم رشتہ داروں نے اپنے پیاروں کے قتل کا بدلہ لینے کیلئے اس سے سودا طے کیا جس کے بعد اس نے 27لاکھ روپے کے عوض شرجیل ولدشبیر حسین ، محمد اعظم ولد راج ولی ، شیر باز ولد محمد اعظم اقوام اعوان کو اپنے سا تھیوں کے ہمراہ اندھا دھند فائرنگ کر کے قتل کیا اور فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ۔دو ماہ بعد ہی ساجد اقبال نامی شخص کو بھی 25لاکھ روپے کے عوض فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا ،اس نے بتایا کہ 2011میں اسکے جرم کی کہانی اس وقت شروع ہوئی جب اس نے اپنے گاؤں کے ایک انسپکٹر فیض احمد کے بیٹے محمد بلال کو تھانہ لنڈیانوالہ کے علاقے سے تاوان کیلئے اغواکیا اور تاوان نہ ملنے پر اسے انتہائی بیدری سے قتل کیا، نعش کے ٹکڑے کر کے نہر میں پھینک دی، اس جرم کی پاداش میں وہ جیل گیا اور رہائی کے بعد بڑا مجرم اور کرائے کا قاتل بن کر باہر نکلا۔ ملزم فیصل آباد میں دشت گردی ، اغواء برائے تاوان ، قتل اقدام قتل ، ڈکیتی اور پولیس مقابلے سمیت ڈیڑھ درجن سے زائد وارداتوں میں ملوث تھا، سرائے عالمگیر میں یکے بعد دیگرے بیگناہ افراد کے قتل میں ملوث اشتہاری کی گرفتاری پولیس کیلئے چیلنج بن چکی تھی ، پروفیسر سید علی محسن کاظمی ڈی پی او گجرات کی خصوصی ہدایت پرڈی ایس پی سرکل سعید احمد ‘ ڈی ایس پی سرائے عالمگیر سرکل محمد رمضان کمبوہ ‘ ایس ایچ او تھانہ صدر سرائے عالمگیر محمد امجد ، ایس ایچ او کنجاہ عرفان صفدر ، ایس آئی ظفر اقبال اور اے ایس آئی طارق حسین پر مشتمل خصوصی ٹیم نے شب و روز کی محنت کے بعد ملزم کی گرفتاری یقینی بنائی تھی ۔پروفیسر سید علی محسن کاظمی نے ایک قلیل عرصہ میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں اسکا تصور ہی کیا جا سکتا ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ کہیں اندھے قتل کے ملزمان کو گرفتار کیا گیا تو کہیں دو نمبر پیر پولیس کے ہتھے چڑھ گیا ، کہیں لاکھوں روپے کا مال مسروقہ اور زیورات عوام کو واپس کیے گئے، کہیں حوا کی بیٹی کی عزت لوٹنے والے گرفتار ہوئے تو دوسری طرف اشتہاری مجرمان کی دو ماہ میں ہزا ر سے زائد گرفتاریوں سے پر امن معاشرے کی تشکیل میں مدد حاصل ہوئی۔

اب تو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ پروفیسر صاحب پروفیسر ہی نہیں بلکہ پنجاب کے بہترین کرائم فائٹر بھی ہیں جبکہ ان کے پبلک ریلیشنز آفیسر اسد گجر اپنے باس کے حکم پر ہمہ وقت چوکس اور مقدمات کی پیش رفت سے آگاہ رہتے ہیں جس سے گجرات پولیس کی کارکردگی نکھر کر سامنے آ رہی ہی ۔جب سے پی ٹی آئی کی حکومت برسراقتدار آئی ہے تب سے لے کر پولیس کو مکمل طور پر فری ہینڈ دیا گیا ہے۔ وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار، آئی جی پنجاب جاوید امجد سلیمی ،اور آر پی او گوجرانوالہ طارق عباس قریشی بھی مبارکباد کے مستحق ہیں جن کی کاوشوں سے پنجاب حقیقی معنوں میں امن کا مثالی حصہ بننے کے لیے اپنا سفر شروع کر چکا ہے۔ خطرناک دہشتگرد ذولی کو اس کے ساتھی چھڑا کر لے جاتے تو معلوم نہیں کہ وہ کتنی تباہی کا باعث بنتا ۔ ان سطور میں ہم ان مرکزی کرداروں کو بھی بے نقاب کرنے کی توقع رکھتے ہیں جنہوں نے ناروے ڈنمارک میں بیٹھ کر اجرتی قاتل کی خدمات حاصل کرکے اپنے مخالفین کو قتل کرایا اور پیسے کے بل بوتے پر لوگوں کے گھر اجاڑ دیتے ہیں ۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -گجرات -