10 شہریوں کی شہادت کے بعد بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں غیر اعلانیہ ’’کرفیو ‘‘ لگا دیاضلع پلوامہ کی صورت حال انتہائی کشیدہ

10 شہریوں کی شہادت کے بعد بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں غیر اعلانیہ ’’کرفیو ...
10 شہریوں کی شہادت کے بعد بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں غیر اعلانیہ ’’کرفیو ‘‘ لگا دیاضلع پلوامہ کی صورت حال انتہائی کشیدہ

  

سری نگر(ڈیلی پاکستان آن لائن) جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں10 شہریوں کی شہادت کے بعد بھارتی فوج نے غیر اعلانیہ کرفیو پابندیاں لگا دی ہیں، مقبوضہ کشمیر میں تین روزہ ہڑتال شروع ہو گئی ہے سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق او رمحمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ آزادی پسند قیادت کی اپیل پر ہفتے کو ہڑتال سے مقبوضہ کشمیر بھر میں کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیا۔

تفصیلات کے مطابق جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں ہفتے کو بھارتی فوج ، سی آر پی ایف اور ایس او جی اہلکاروں نے کھارہ پورہ، سرنو گاؤں کو محاصرے میں لے لیا ۔ دوران محاصرہ بھاتی فوج نے 3کشمیری نوجوانوں ظہور ٹھاکر، عدنان اور بلال نامی نوجوان کو گولی مار کرشہید کر دیا،بھارتی فوج کے ہاتھوں 3کشمیری نوجوانوں کی شہادت کی اطلاع پر شہری مشتعل ہو گئے اور غیر معمولی احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ۔مظاہرین نے شہدا کی طرف مارچ کی کوشش کی جس کو روکنے کیلئے فورسز نے گولیاں چلائیں اور پیلٹ فائر کئے جس کے نتیجے میں متعدد شہری زخمی ہوگئے جن میں سے پہلے دو اور بعد میں مزید چار اور پھر ایک زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھے۔ بھارتی سیکیورٹی اداروں کے ہاتھوں شہید ہونے والے سات شہریوں کی شناخت شہباز علی ساکنہ منڈہامہ، سہیل احمد ساکنہ بیلو، لیاقت احمد ساکنہ پاریگام،عامر احمد پالا ساکنہ اشمندر اور عابدحسین ساکنہ کریم آباد کے طورہوئی ہے۔ اس المناک واقعہ کے نتیجے میں پوری وادی سوگ میں ڈوب گئی ہے۔ کل دس کشمیریوں کی شہادت کے بعد وادی میں ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے، مظاہرین کو روکنے کے لیے قابض فوج کی جانب سے آنسو گیس اور پیلٹس کا استعمال کیا جارہا ہے۔ جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کے بعد سری نگر میں بھی ، موبائل ، انٹرنٹ سروس معطل کر دی گئی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں صورت حال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے ، حکام نے قصبے میں اضافی فورسز اہلکار تعینات کردیے ہیں ، جبکہ مقبوضہ کشمیر بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے ہیں ۔بھارتی فوجی ترجمان نے دعوی کیا ہے کہ مارے جانے والوں میں حزب المجاہدین کے کمانڈر ظہور ٹھاکر سمیت3 عسکریت پسند بھی شامل ہیں جبکہ  ایک فوجی اہلکار بھی مارا گیا ہے ۔ ادھر وسطی کشمیر کے بڈگام ضلع کے ماگام علاقے میں مقامی نوجوان ظہور احمد میر کی گیارہویں برسی پر ہڑتال کے نتیجے میں معمول کی زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئی ہے۔ظہور احمد میر نامی ایک مقامی نوجوان گیارہ سال قبل آج ہی کے دن اس وقت فورسز کے ہاتھوں مارا گیا تھا ، جب علاقے میں ایک احتجاجی مظاہرے پر فورسز نے فائر کھول دیاتھا۔

مزید :

قومی -علاقائی -آزاد کشمیر -مظفرآباد -