یہ کیاہورہاہے ؟؟؟

یہ کیاہورہاہے ؟؟؟
یہ کیاہورہاہے ؟؟؟

  

تبدیلی سرکار کے بعض اقدامات سمجھ سے بالاتر ہیں ۔ ایک طرف کچھ اچھا ہونے کا واویلا مچتا ہے تو دوسری طرف کوئی انہونی وقوع پذیر ہوجاتی ہے۔ تبدیلی سرکار  ایک قدم نظام کے خلاف اٹھاتی ہی ہے کہ نظام کا پلٹ وار اسے چھ قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ایک طرف انصافین پر حکومتی معاشی کامیابیاں اور وزیراعظم عمران خان کے حالیہ غیر ملکی دوروں کے فضائل گنواتے تھکتے نہیں کہ تو دوسری جانب اچانک ڈالر مہنگا ہوجاتا ہے۔ ایک طرف وزراء کی سو روزہ کارکردگی کی جانچ پڑتال کے لیے دوڑیں لگ رہی ہیں  تو دوسری جانب عمدہ کارکردگی کے باوجود  وزیر خزانہ اسد عمر اور وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کو اپنی اپنی  وزارت بچانے کےلیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ایک طرف فواد چوہدری کی قومی اسمبلی میں حق گوئی اور بے باکی کے چرچے ہیں تو دوسری جانب موصوف شراب نوشی کے خلاف بل لانے والے رمیش کمار کے خلاف زہر اگل کر ریاست مدینہ کے قیام کو یقینی بنانے میں مصروف  ہیں ۔ 

رمیش کمار کے شراب نوشی کے خلاف بل کو مسترد کروانے میں ن لیگ , پی پی پی اور پی ٹی آئی تینوں برابر قصور وار ہیں۔ ایک طرف کڑے احتسابی عمل کے دعوے اور نیب کی پکڑ دھکڑ زوروشور سے جاری ہے تو دوسری جانب شہبازشریف جیسی متنازعہ شخصیت کو پبلک اکاونٹس کمیٹی کا چئیرمین بنانے پر پی ٹی آئی نے رضامندی کا اظہار کردیا ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ کس قسم کی ریاست مدینہ بن رہی ہے ؟؟؟ جہاں شراب نوشی کے خلاف بل پر خود حکومتی وزراء زہر اگل رہے ہیں ۔ اور جہاں نیب زدہ اور سانحہ ماڈل ٹاون کے نامزد ملزم شہبازشریف کو پبلک اکاونٹس کمیٹی کا چیئرمین بنادیا جائے ۔

تبدیلی سرکار کے نظام کے اندر رہ کر تبدیلی کےدعوے انتہائی مضحکہ خیز صورتحال پیدا کررہے ہیں ۔ ایک طرف آپ فرسودہ نظام کو بچانا چاہ رہے ہیں جس کےلیے آپ آئے روز نت نئی ایڈجسٹمنٹس کررہے ہیں ۔ دوسری طرف آپ تبدیلی کے بلند و بانگ دعوے کیے جارہے ہیں اور  عوام کو ریاست مدینہ کے خواب دکھا رہے ہیں ۔  شہبازشریف جیسی سیاسی طور پر انتہائی متنازعہ شخصیت کو احتساب جیسے عمل کی ذمہ داری ریاست مدینہ میں کبھی نہیں سونپی جاسکتی ۔ شراب نوشی کے خلاف بل ریاست مدینہ میں مسترد نہیں ہوسکتا ۔ شراب نوشی کے خلاف بل لانے والے رکن مجلسِ قانون ساز کے خلاف ایک اہم حکومتی عہدے دار غیر ذمہ دارانہ بیانیہ ریاست مدینہ میں نہیں دے سکتا۔ اگر یہ ہی تبدیلی لانی تھی تو مبارک ہو تبدیلی آگئی۔نظام کے اندر رہ کر تبدیلی لانے کے دعوےانتہائی مضحکہ خیز ثابت ہورہےہیں ۔

 تصورِ ریاستِ مدینہ کو عملی جامہ پہنانے کےلیے اقدامات ہوتے نظر نہیں آرہے۔ اگر تبدیلی سرکار واقعی ریاست مدینہ بنانا چاہتی تو موجودہ فرسودہ نظام کو بدلنا ہوگا اور اس کے جامع اصلاحاتی عمل ناگزير ہے۔ تبدیلی سرکارکو یہ بات سمجھناہوگی کہ گاڑیوں , بھینسوں کی نیلامی اورانڈہ مرغی پلان جیسےغیرسنجیدہ طرزِعمل سے ملکی مسائل حل نہیں ہوسکتے۔اگرتبدیلی سرکار نےٹھوس اقدامات  نہ کیے توتبدیلی کانعرہ ایک مذاق بن کررہ جائےگا۔ ہمیں اپنی ترجیحات کاتعین کرناہوگا  ۔ ہمیں یہ بات تسلیم کرناہوگی کہ ہمارانظام ڈلیور نہیں کررہا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ تبدیلی سرکار بار بار ایڈجسٹمنٹس کررہی ہے۔ میری ذاتی رائے میں یوٹرن لیناغلط نہیں مگر یوٹرن کے نام پرمک مکا کرنا سراسرحماقت ہے۔

اگر خان صاحب واقعی کچھ کردکھانا چاہتے ہیں توکوئی بڑایوٹرن لیں ۔ نظام کے ساتھ چھوٹی موٹی ایڈجسٹمنٹس کی بجائے نظام  کوبدلنےکےلیےبڑا  یوٹرن لیں کیونکہ اللہ نے آپ کونادرموقع دیاہے۔ اور یہ بات یاد رکھیں کہ اگر  یہ پہلا موقع ہےتو یہ آخری بھی ثابت ہوسکتا ہے ۔  کیونکہ ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت نے شہبازشریف کوپبلک اکاونٹس کمیٹی کاچئیرمین بناکرمک مکاکرلیاہے, اورخان صاحب نےنظام کےہاتھوں شکست تسلیم کرلی ہے , جوکہ تشویشناک ہے ۔  

پاکستان  میں پارلیمانی نظام مکمل طورپر  ناکام ہوچکا ہے اور  پارلیمان غیر مئوثر ہے ۔  پاکستان میں اب صدارتی نظام حکومت آزمانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں بڑے انتظامی یونٹس بھی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور علاقائی مسائل کے حل کی راہ میں رکاوٹ ہیں ۔ صرف ایک سرائیکی صوبہ بنانا کافی نہیں ہے بلکہ انتظامی بنیادوں پر مزید نئے یونٹس بنانے کی ضرورت ہے۔ مقامی حکومت خود اختیاری کے تحت اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کی ضرورت ہے تاکہ علاقائی مسائل کو مقامی سطح پر حل کیا جا سکے۔

..

یہ بلاگرکا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں 

مزید :

بلاگ -