نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے سابق وزیر اعظم کی بیماری کے حوالے سے تشویش ناک بات کہہ دی

نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے سابق وزیر اعظم کی بیماری کے حوالے سے ...
نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے سابق وزیر اعظم کی بیماری کے حوالے سے تشویش ناک بات کہہ دی

  



لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف کےذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے کہا ہے کہ کہ برطانوی ڈاکٹرز ابھی تک نوازشریف کی بیماری کی تشخیص نہیں کرسکے،نوازشریف کتنے دن برطانیہ میں رہیں گے، کچھ نہیں کہا جا سکتا، لندن میں نوازشریف کی صحت کو ہر زاویے سے جانچہ جا رہا ہے۔

لندن میں میڈیاسےگفتگو کرتےہوئے ڈاکٹر عدنان کا کہنا تھا کہنواز شریف کا لندن کے 6 مختلف ہسپتالوں ،بریج ہسپتال، گائز ہسپتال، ہارلےکلینک، رائل بروپمٹن، ہارٹ کلینک اور ایچ سی اےمیں علاج جاری اورطبی معائنہ کیاجارہاہے،نوازشریف کوایماٹولوجسٹ کی ٹیم نےابھی تک کلئیرقرارنہیں دیاہے،نواز شریف کے دل اور شریانوں کا مسلسل معائنہ کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پلیٹ لیٹس غیر متوازی ہونے کی وجہ سے نوازشریف کا کسی بھی قسم کا پروسیجر نہیں کیا جاسکتا،نواز شریف کے جسم کےاندرپلیٹ لیٹس کی تعداد کم  یاہونے کی وجوہات ابھی تک معلوم نہیں کی جاسکیں ہیں جو کہ چیلنج بن گیا ہےنواز شریف کوامریکہ  لےکرجایاجائےگا، امریکہ میں نوازشریف کےدماغ کو خون مہیا کی جانے کروٹڈآرٹری میں سٹنٹنگ کی جائے گی۔ڈاکٹرعدنان کا کہنا تھا کہدنیا کےبہترین ڈاکٹرزنوازشریف کاعلاج کررہےہیں، نواز شریف کی صحت کےحوالےسےمیرے سیمت برطانوی ڈاکٹرزکوئی بھی ٹائم فریم نہیں دے سکتے،نوازشریف کے جسمانی و دفاعی نظام میں خرابی کی وجوہات جاننے کی کوشش کی جارہی ہے۔

مزید : قومی