وطنِ عزیز کو بچوں کے لئے محفوظ بنائیں

وطنِ عزیز کو بچوں کے لئے محفوظ بنائیں

  



جمعتہ المبارک کو وزیرِ اعظم عمران خان کے زیر صدارت بچوں سے متعلقہ جرائم خصوصاً بچوں کے جنسی استحصال کی روک تھام کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔اجلاس سے خطاب کے دوران وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بچے معاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں اور معاشرے کے مستقبل کے خلاف جرائم اورخاص طور پرمعصوم بچوں کا جنسی استحصال انتہائی افسوس ناک ہے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ معاشرتی عوامل اور مختلف مجبوریوں کے باعث اکثر والدین ایسے جرائم کی پولیس کو بر وقت اطلاع یا مقدمات کے اندراج سے احتراز کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان جرائم میں ملوث مجرم قانون کی پکڑ سے بچ جاتے ہیں۔وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا نہ صرف حکومت بلکہ معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے اور حکومت اس سلسلے میں ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔ اجلاس میں وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ صوبہ پنجاب میں بچوں کے خلاف جرائم پر نظر رکھنے کے لئے خصوصی مانیٹرنگ سیل قائم کیا جا چکا ہے، ڈی این اے رپورٹس کے جلد حصول کے لئے نظام کو مزید منظم کیا جا رہاہے اور وزیرِ اعظم کی ہدایت کے عین مطابق ''اپنا بچہ'' اپلیکیشن تیار کی جا چکی ہے تاکہ لاپتہ ہونے والے بچوں کی فوری رپورٹ تمام صوبوں کے آئی جی صاحبان اور سینئر حکام تک پہنچائی جا سکے۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ بچوں سے متعلقہ جرائم میں ملوث افراد کا قومی سطح پر نیشنل کرائم ڈیٹا بیس مرتب کیا جائے گااور وفاق اور صوبائی حکومتوں کے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کواس تک رسائی دی جائے گی۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اجلاس توبہت ہوتے ہیں، مسائل پر بحث بھی ہوتی ہے،مختلف تجاویز بھی پیش کی جاتی ہے، سخت سے سخت اقدامات کرنے کا عہد بھی ہوتا ہے اور بعض دفعہ اقدامات کر بھی لئے جاتے ہیں۔لیکن دماغ پر بہت زور دینے کے باوجود یاد نہیں آرہا کہ کبھی ان اقدامات کا خاطر خواہ نتیجہ بھی سامنے آیا ہو، بلکہ صورتحال پہلے سے زیادہ گھمبیر ہی ہوتی جاتی ہے۔حال ہی میں دی اکونومسٹ کے’انٹیلی جینس یونٹ‘ اور’ورلڈ چائلڈ ہوڈ یونٹ‘ نے ساٹھ ممالک میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے خلاف لئے جانے والے اقدامات کے لحاظ سے ایک فہرست جاری کی ہے، بدقسمتی سے اس فہرست میں پاکستان کا نمبر 58 ہے جبکہ برطانیہ سر فہرست ہے۔اس حقیقت سے توکوئی چاہ کر بھی نظریں نہیں چرا سکتا کہ پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ابھی چند ماہ پہلے ساحل نامی تنظیم نے ایک رپورٹ جاری کی جس کے مطابق پاکستان میں رواں سال جنوری سے جون تک تیرہ سو بچے جنسی زیادتی کا شکار ہو چکے ہیں، ان میں 729 لڑکیاں اور 575لڑکے شامل ہیں۔اسی رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ سب سے زیادہ یعنی 652کیس پنجاب میں رپورٹ ہوئے،باقی 458 سندھ میں، 32 بلوچستان،51 خیبر پختونخواہ اور90 کیس اسلام آباد میں پیش آئے۔نہ معلوم یہ کیسے درندے ہیں جہنیں بچوں کی معصومیت پر بھی ترس نہیں آتا، جن کے دل نہیں لرزتے، جن کی روح نہیں کانپتی۔ہمارے ہاں تو یہ حال ہو چکا ہے کہ ابھی ایک حادثے پر ماتم ختم نہیں ہوتا تو دوسرے کسی ایسے ہی سانحے کی خبر آجاتی ہے، المیہ یہ کہ ہرمعاملہ پہلے سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے، ہر دفعہ دل سے آہ نکلتی ہے اور آنکھ نم ہو جاتی ہے،سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے لیکن یہ حیوانگی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔پاکستان کا کوئی بھی شہراس درندگی سے محفوظ نہیں ہے، کبھی اٹک میں بچوں کے ساتھ زیادتی کا معاملہ سامنے آتا تو کبھی میر پور خاص میں، حال ہی میں جھنگ اور پارہ چنار میں بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔کبھی اوکاڑہ میں بچوں کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے تو کبھی نوشہرہ اور کوئٹہ میں قیامت ڈھائی جاتی ہے۔قصور میں تو یہ واقعات ازحد عام ہو چکے ہیں۔ہفتہ دو ہفتے پہلے راولپنڈی میں ایک شخص نے نہ صرف تیس بچوں کواپنی ہوس کا نشانہ بنایا بلکہ ان کی ویڈیوز بھی بنا ڈالیں،ان درندوں کے نزدیک بچوں کی عمر معنی رکھتی ہے نہ ہی جنس۔کمال بات یہ ہے کہ اس ملک میں اکثریت مسلمانوں کی ہے، ہم پوری دنیا میں اسلام کے مرکز کے طور پر جانے جانے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن اخلاقی اورمعاشرتی طور پر اسلام کی تعلیمات سے کوسوں دور ہیں۔اور تو اور برطانیہ کے ایک سزا یافتہ جنسی جانور کو خیبرپختونخواہ ہی کے ایک ادارے میں ذمہ داری کے منصب پر بٹھا ڈالا گیا جب وہ پکڑا گیا تو پھر طرح طرح کے بہانوں سے چہرے پر لگی کالک لگانے کی کوششیں شروع ہو گئیں۔

یہ بات درست ہے کہ معاشرے میں امن و سکون قائم رکھنا اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت ہی کااولین فرض ہے۔لیکن بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی پر قابو پانے کے لئے والدین کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہو گا۔یہاں بہت بڑی خام خیالی یہ پائی جاتی ہے کہ بچوں کو زیادتی کا نشانہ صرف اجنبی ہی بنا سکتے ہیں جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، ایک رپورٹ کے مطابق بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے47فیصد قریبی رشتے دار، 43 فیصد جاننے والے اور صرف سات فیصد انجان لوگ ہوتے ہیں۔خدارا! جب بچے آپ سے کسی کی شکایت کریں تو اس کا سختی سے نوٹس لیں۔بچوں کی بات کو نظر انداز نہ کریں، اگر بچہ کسی کے پاس جانے سے گریزاں ہے تو بجائے اس کوڈانٹنے کے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔ہم زیادہ تر وقت بچوں کے بجائے اپنی رشتے داریاں اور دوستیاں بچانے میں لگادیتے ہیں، بچوں کی شکایت کو ان کا بچپنا کہہ کر ہوا میں اڑا دیتے ہیں۔ والدین پر یہ بھی لازم ہے کہ اگر (خدانخواستہ) کسی کے بچے کے ساتھ ایسا حادثہ ہو جاتا ہے تو اس کو اپنی رسوائی مت سمجھیں، بچے کے ساتھ کھڑے ہوں، اس کا اعتماد بحال کریں بلکہ جس نے بھی یہ سلوک بچے کے ساتھ کیا ہے بدنامی اس کا مقدر بنا دیں۔ساتھ ہی ساتھ حکومت پربھی لازم ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیس کو ہنگامی بنیادوں پر ڈیل کرے،اس معاملے میں کسی بھی قسم کی سستی اور لاپرواہی کی کوئی گنجاش نہیں ہوسکتی۔جب تک کسی بھی درندے کے دل میں یہ’خوش فہمی‘ رہے گی کہ قانون اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا یا قانون کے ہاتھ لمبے تو ہیں لیکن اتنے نہیں کہ اس کی گردن تک پہنچ پائیں تب تک معاشرے میں سدھار نہیں آئے گا۔اس ملک میں بسنے والے آٹے میں نمک برابر’بے حس ذہنی مریضوں‘ کو پورا معاشرہ یرغمال بنانے کی اجازت ہرگز ہرگز نہیں دی جا سکتی۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...