سب پھڑ ے جان گے

سب پھڑ ے جان گے
سب پھڑ ے جان گے

  



میں حیران ہوں بوٹا گالاں کیوں کڈتا ہے،بوٹا ایل ایل بی ہے نہ ایم بی بی ایس وہ وزیر ہے نہ مشیر۔وہ تو بس بیس کروڑفقیروں میں سے ایک فقیر ہے جن کے نصیب میں اپنے چہروں سے آکسیجن ماسک اترتے دیکھنا اور ہچکیاں لیتے لیتے مر جانا ہوتا ہے۔حیران ہوں اس ہمت اور نفرت پر ہم تو جس کی امت میں سے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ حالت جنگ میں ہسپتال تو دوردرختوں کو بھی نقصان نہ پہنچا?۔لگتا ہے ہم رٹو طوطے بن کر رہ گئے ہیں۔کلمہ بھی پڑھتے ہیں نمازیں بھی۔لیکن بس رٹو طوطوں کی طرح،ایسا نہیں کہ وکلا سارے ہی ایک سے ہیں۔میں ذاتی طور پر کردار والے خوف خدا رکھنے والے وکلا کو جانتا ہوں۔اعتزاز احسن سے لیکر فاروق امجد میر تک ایک طویل فہرست ہے نیک با کردار وکلا کی۔چیف جسٹس جناب باقر علی نجفی درست فرماتے ہیں کہ نجانے کہاں سے یہ کالی بھیڑیں آگئیں۔تھوڑی بہت ہوں تو کام چل جاتا ہے اب تو لگتا ہے کہ بس چاروں طرف بھیڑیں ہی بھیڑیں ہیں یا بھیڑیئے۔انسان تو خال خال رہ گئے،اللہ بخشے ہمارے سابق جسٹس افتخار محمد چوہدری کو وہ پوری قوم کو ایک آنکھ سے دیکھتے تھے۔اور ہم ان کی اس ادا پر ٰدندیاں کڈتےٰ تھے۔لیکن ہمیں کیا پتہ تھا ڈاھڈابھیڑا عشق دا روگ،افتخار محمد کی تحریک نے وکلا اور قوم کو رول سٹا،وکلا اینگری ینگ مین بن گئے ڈاکٹر توْ تو گیو۔آج تیرا آپریشن ہے،اسٹنٹ پڑیں گے سانڈوں کی لڑائی میں ہمیشہ گھاس رل جاتی ہے۔اس لڑائی میں بھی تین زندگیاں گھاس کے تیلوں کی طرح رل گئیں۔ان کے لواحقین ہمیشہ اپنے بچوں کو بتائیں گے کہ ملک کے تعلیم یافتہ ترین طبقے کی عظمت بھری جنگ میں مارے گئے تھے۔اس دن تو ہروکیل ”باہو بلی“ لگ رہا تھا۔واہ کیا گینگ وار تھی۔ٹیچر نے کہا کہ جیسے کو تیسا کا کیا مطلب،اپنے سردار سنتا سنگھ بولے ایک بار ہم اپنی خالہ کو ملنے گئے وہ گھر سے باہر تھیں تالہ پڑا تھا،ایک بار وہ ہم سے ملنے آئیں تو ہم گھر کو تالہ لگا کر پتلی گلی سے نکل لئے۔ جوڑ برابر کا تھا اس میں ڈاکٹر بھی ڈنڈوں سے لیس تھے۔اور پھر پی آئی سی کے ساتھ وہی ہوا جو حکومت اور اپوزیشن مل کے عوام سے کرتی ہے۔کہاں ہیں وکلا کالجز کے اساتذہ،کہاں ہیں میڈیکل کالجز کے اساتذہ۔کوئی ان سے پوچھے کیا یہی ان کی تعلیم ہے کیا یہی ان کی تربیت ہے۔ٹیچر نے پوچھا بنتا سنگھ تمہارے پاپا کیا کرتے ہیں وہ کہنے لگا جو ممی کہتی ہیں۔اوہ بھائی میرے کل کے مستقبل کے نوجوان وکیلو،ڈاکٹرو تم بھی کسی کا کہنا مانتے ہو؟افسوس یہ ملک آہستہ آہستہ جنگل سے بدتر ہوتا جا رہا ہے۔جنگل کا بھی ایک قانون ایک قاعدہ ہوتا ہے۔وہاں بھی طاقتور اور کمزور میں ایک توا زن قائم رہتا ہے۔اس نوجوان نسل سے کیا گلہ۔یہاں "جنوں بھنوں اوہی لال" ہے۔عالم کفر کے فتوی نفرت کی کتابوں میں بھر کر دیتا ہے۔راہنما اوئے توئے سے باہر نہیں نکلتا،اور دانشور بیچارہ ہمیشہ دولت کی تھاپ پر تا تا تھیا کرتا ہے۔استاد ایسے ایل ایل بی،ایم بی بی ایس پیدا کرتا ہے۔انصاف طاقتور کو انسانی بنیادوں پر "وے سب توں سوہنیا،ہائے وے من موہنیا"گاتا پھرتا ہے۔ مجھے اس لئے بابا بوٹا برا لگتا ہے کہ وہ صرف گالیاں کڈتا ہے۔ڈریں اس دن سے جب اس نے ان طاقتور بد مست غولوں کی کی طرح ڈنڈا سوٹا اٹھا لیا۔ایسے بدبودار نظام کے مکروہ چہروں اور نرم جگہوں پر ایسی چھترول ہو گی۔ایسے ایسے "گومڑ" پڑیں گے،ایسے ایسے آلو پڑیں گے کہ وہ منہ سٹیکر ورگا ہوجائے گا۔سٹیکر بھی ڈوریمون والا۔ایک سوٹڈ بوٹڈ بندا آدھا کالا آدھا چٹا کوٹ پہنے ماہر نفسیات سردار پروفیسر بنتا سنگھ کے پاس آیا اور بولا ڈاکٹر صاحب مجھے احساس کمتری ہے میں خود کو گھٹیا محسوس کرتا ہوں،سنتا سنگھ نے مریض کی دو گھنٹہ تحلیل نفسی کی۔نوٹس لئے،آخر میں وہ بولا بھائی بات یہ ہے کہ تمہیں کوئی احساس کمتری نہیں۔تسی ہو ہی گھٹیا تے چول۔پچھلے بہتر سالوں سے ہم چپ کر کے ان برتری کے زعم میں گم احساس کمتری کے مارے مسخرے کو دیکھ رہے ہیں۔گو ہم زبان سے نہیں کہتے لیکن یہ ضرور سوچتے ہیں کہ تسی ہو ہی چول۔

بنتا سنگھ اپنی بندوق تھامے گھر میں ٹہل رہا تھا،بیگم بولیں کدھر جا رہے ہیں وہ بولا شیر کا شکار کرنے۔بیگم بولیں تو جا کیوں نہیں رہے،کہنے لگا باہر کتا کھڑا ہے،اس "تو ں ڈر لگدا اے کدرے اے پے ای جاوے"۔چلیں ہماری خیر ہے آئی جی پولیس کے آفس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی رینجرز کو مل گئی ہے۔ہماری حفاظت تو گئی تیل لینے،پولیس افسروں کی رینجرز حفاظت کرلیں تو یہ بھی قن کا پوری قوم پر احسان ہو گا۔مجھے ڈر ہے یہ نفرت،یہ بدلے،یہ مخالف کو کچلنے کی آگ کہیں سب کچھ نہ جلا دے۔سابق وزیر اعظم نواز شریف کے لندن میں غریب خانے پر مظاہرے اور اب حملے سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ پاکستانی جہاں بھی ہومستقل مزاج ہوتا ہے،برطانیہ امریکا انکا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔یہ چاہے پی ایچ ڈی کر لیں لیکن رہتے انڈر میٹرک ہی ہیں۔بھیا میرے ان کے غریب خانے پر حملے سے کیا ہو گا؟شیشے کے گھر میں بیٹھ کر دوسروں کے گھروں پر وٹے مارنے والے سن لیں ان پر بھی یہ وقت آئے گا۔جیسے شیخو پر ٹرین سفر کے دوران گندے انڈے آئے ہیں۔جب آپ کسی کو چک وڈیں تو وہ بھی تھوڑی بہت دندی کاٹے گا ہی۔سردار بنتا اپنے دوست سنتا سنگھ کے گھر گئے بیل دی اندر سے آواز آئی کون؟بنتا سنگھ غصے سے بولے اچھا ہن اسی کون ہو گئے۔لیکن مجھے لگتا ہے کہ یہ بیس کروڑ کلبلاتے ہوئے عوام نما کیڑے زیادہ عرصہ کون کون نہیں کہیں گے۔وہ بار بار رونگ کال دینے والے کو گریبان سے پکڑیں گے پھر انہے واہ جو ہو گا۔اس کا اللہ نے بھی وعدہ کیا ہے۔ان جنونیوں کے تخت گریں اور تاج بھی اچھلیں گے بس تھوڑا اور انتظار کرلیں...سب پھڑے جان گے سارے پھڑے جان گے

مزید : رائے /کالم