بلی کے گلے میں گھنٹی

بلی کے گلے میں گھنٹی
بلی کے گلے میں گھنٹی

  



پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر نوجوان وکلاء کا دھاوا، توڑ پھوڑ، مارکٹائی، پولیس کی گاڑی کو جلانا، صوبائی وزیر اطلاعات کو گھیراؤ کرنا، دل کے مریضوں کو زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا کرنا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت اقدام ہے۔ سوسائٹی کے ہر طبقے کی طرف سے اس واقعے کی مذمت اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستانی معاشرہ زندہ لوگوں کا معاشرہ ہے اور وہ کسی صورت بھی کسی غلط روش کو غالب نہیں آنے دیں گے۔

تاہم اس واقعے پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سارے قضیے کی جڑ سوشل میڈیا کی وہ ویڈیو ہے جس کے وائرل ہونے کے بعد شہر پر یہ افتاد آن پڑی۔ صورت حال اس ضمن میں فوری اقدام کی متقاضی ہے کہ حکومت اس سلسلے میں بھرپور قانون سازی کرکے سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے حدودوقیود کا تعین کرے۔ اس سے کچھ عرصہ قبل شوبز سٹار رابی پیرزادہ کو بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس کے پاس شوبز کو خیرباد کہنے کے سوا کوئی راستہ نہ تھا۔ سوشل میڈیا معاشرے کے لئے ایک بہت بڑی برائی بن چکا ہے کیونکہ یہ افواہ سازی کی وہ مشین ہے جس کی زد میں اس ملک کی سادہ لوح عوام ہے، اسے سوشل میڈیا پر جو دکھتا ہے، وہ اس پر یقین کرلیتا ہے اور پھر نواز شریف چور ہے، نواز شریف چور ہے کا منترا پڑھتا پھرتا ہے۔ ابھی تو وکلاء کی کمیونٹی مشتعل ہوکر ڈاکٹروں کی کمیونٹی پر چڑھ دوڑی ہے، تصور کیجئے اگر ملک کا ایک حصہ مشتعل ہو کر دوسرے حصے پر چڑھ دوڑا تو کیا غد ر مچے گا۔ چنانچہ سوسائٹی کے ہر سنجیدہ طبقے کو حکومت پر زور دینا چاہئے کہ وہ سوشل میڈیا کے استعمال کے قواعدوضوابط طے کرے، وگرنہ شیر آیا، شیر آیا ایسی صورت حال بھی پیدا ہوسکتی ہے جس کی قیمت خدانخواستہ پورے ملک کو اداکرنا پڑسکتی ہے!

دوسری اہم بات یہ ہے کہ معاشرے میں درست قانون کے غلط استعمال کا بھی سدباب ہونا چاہئے۔ آخر 7ATAکی دفعہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ وکلاء صاحبان اسے ڈاکٹروں کے خلاف پرچے میں شامل کرانے پر بضد تھے اور کمال یہ ہوا ڈاکٹروں کیخلاف اسے ایف آئی آر میں شامل کرواتے کرواتے خود اس کی زد میں آگئے۔ دن دیہاڑے قانون کے Misuseکی یہ واحد مثال نہیں ہے، کہیں بھی لڑائی ہو جائے، پرچہ کٹوانے کی نوبت آجائے تو مستغیث کی پہلی ترجیح 7ATAہوتی ہے، اس روش کو ترک کرنے کا سامان بھی کیا جانا چاہئے کیونکہ قانون کے اس غلط استعمال کے نتیجے میں سوسائٹی میں ایسی دراڑیں پڑتی جا رہی ہیں کہ جو کوشش کے باوجود بھی ختم نہیں ہو پارہی ہیں۔ اس حوالے سے بھی فوری قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں قانون کے غلط استعمال کا خاتمہ ہو سکے۔

بحیثیت معاشرے کے ذمہ داران افراد کے ہم سب کو یہ فیصلہ کرنا ہے آیا ہم نے کسی بھی واقعے کی دوچار روز مذمت تک ہی خود کو محدود رکھنا ہے یا پھر عملی اقدامات کرتے ہوئے اس کے سدباب کا سامان بھی کرنا ہے۔ کیا یہ ضروری نہیں ہے کہ وکلاء کی وہ قیادت جس کے اس ہنگامے میں ملوث ہونے کے الزامات زباں زد عام ہیں، اس پر تاحیات انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی لگائے جائے؟ یہی نہیں بلکہ خود وکلاء برادری کو چاہئے کہ وہ ایسے امیدواروں کا بائیکاٹ کریں جن کے پنجاب انسٹی ٹیوٹ کے اندوہناک سانحے میں ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ جب تک ہم برائی کا اجتماعی بائیکاٹ نہیں کریں گے، تب تک اصلاح احوال کا خواب شرمندہ تعبیرہ نہیں ہوگا!

ہم سب کو یہ بھی طے کرنا ہے کہ آیا ہم قانون کی حکمرانی کے تحت آگے بڑھنا چاہتے ہیں یا پھر قبائلی نظام کے تصور کو فروغ دینا چاہتے ہیں کہ کسی فرد واحد کا بدلہ لینے کے لئے پورے کا پورا قبیلہ مخالفین پر چڑھ دوڑے۔ اس حوالے سے ہمارے دانشوروں، علماء، ادیبوں، شاعروں، فلم سازوں اور فنون لطیفہ کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو متبادل بیانیہ تیار کرنا چاہئے اور معاشرے کی نمو میں اپنا حصہ ڈالنا چاہئے۔

آخر میں یہ کہ ہم سب کو طے کرلینا چاہئے کہ آئندہ اگر اسپتال جیسی جگہ پر کوئی بلوہ، ہنگامہ یا احتجاج ہوتا ہے تو پوری سوسائٹی اسی طرح اس ہسپتال کے سامنے احتجاجی پلے کارڈ اٹھا کر کھڑی ہو جائے گی، جس طرح سکول فیسوں کے خلاف والدین کے مظاہرے دیکھنے کو ملے تھے۔ یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم معاشرے میں امن اور سلامتی کو یقینی بنائیں، اس ذمہ داری کو پورا کرنا ہوگا!

مزید : رائے /کالم


loading...