سانحہ پی آئی سی اور فضائی آلودگی!

سانحہ پی آئی سی اور فضائی آلودگی!
سانحہ پی آئی سی اور فضائی آلودگی!

  



ہم بھی کتنے عجیب اور حساس لوگ ہیں، کسی بھی درد بھرے سانحہ پر سب کچھ بھول کر اسی حوالے سے مصروف ہو جاتے اور ہر ہر پہلو پر اپنے حوالے سے بات اور اظہار کرتے ہیں،پھر وقت مرہم سے بھی زیادہ برف ثابت ہوتا اور ہم سب بھول کر دوسرے کاموں میں الجھ جاتے ہیں، ہم جو میڈیا سے تعلق رکھتے ہیں زیادہ حساسیت کا مظاہرہ کرتے اورکرائمز رپورٹنگ کی طرز پر صف ماتم بچھاتے ہیں اور پھر غم دوراں کے باعث بتدریج کوریج کم ہوتی چلی جاتی اور کسی دوسرے ایشو کی تلاش شروع کر دیتے ہیں، آج کے معاشرے میں اگلا مسئلہ کچھ زیادہ مشکل نہیں ہوتا اور پھر توجہ ادھرہو جاتی ہے۔ ایسا ہی سانحہ ساہیوال اور کئی دوسرے واقعات کے ساتھ ہوا اور اب سانحہ پی آئی سی سے بھی یہی ہونے والا ہے یہ تو ہمارے پیارے وکلاء ہیں جو شاید اس سانحہ کو زیادہ دنوں چلانے کی ترکیب کر رہے ہیں کہ ان کی طرف سے ہڑتال کا حربہ اختیارکیا گیا اور اسے بڑھایا جا رہا ہے۔ حالانکہ جو کچھ ہوا، جو سینئر اور سنجیدہ فکر قانون و آئین کے ماہرین نے کہا اس پر غور کرنے کی ضرورت تھی اور خود احتسابی کا عمل ہونا چاہیے تھا جس کے لئے زبانی بات کی جاتی ہے، لیکن پیارے وکلاء کے وہ رہنما جو انتخابی عمل والے ہیں اور ان کے نام سے گروپ انتخابات میں حصہ لیتے ہیں، انہوں نے تو ان سب کا دفاع شروع کر دیا ہے جو فوٹیج میں سب کچھ کرتے نظر آتے ہیں۔

ہمیں محترم حامد علی خان سے اس حد تک تو ضرور اتفاق ہے کہ وکلاء کا موقف بھی سنا جانا چاہیے لیکن ان کی یہ دلیل غیر مناسب لگی کہ ڈاکٹر حضرات نے مشتعل کیا، اس حوالے سے ہمارے بہت سے معتبر اور اعتدال پسند ساتھی بات کر چکے اور ہمارے سمیت ان سب نے ڈاکٹر حضرات کے رویے پر بھی بات کی اور اسے بھی غیر مناسب قرار دیا ہے لیکن کیا اس کے بدلے پی آئی سی پر حملہ، توڑ پھوڑ، مریضوں کی حالت اور اب تک ان مریضوں کا علاج سے محروم ہونا، اس کا کوئی جواز ہے؟ یقینا نہیں، بہتر عمل تو یہ تھا اور ہے کہ اس حملے کی باقاعدہ مذمت اور ان وکلاء کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا جائے تاکہ اس موقع کے حوالے ہی سے ”کالی بھیڑوں“ سے نجات مل جائے لیکن الٹا ہڑتال کرنا، عدلیہ سے متھا لگانا اور ایسے وکلاء کی رکنیت منسوخ کرنا جنہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فاضل جج حضرات کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی۔ یہ کہاں کی حریت پسندی ہے اور پھر اسی بار نے سینئر ترین وکیل چودھری اعتزاز احسن کا اسلام آباد ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ بار میں داخلہ ممنوع قرار دے دیا، یہ کیسا احترام ہے؟ یہ تو ضد والا معاملہ ہے، خود ہی اپنی اداؤں پر غور کر لیں اور جلد ہی اس مسئلہ کا حل نکالیں کہ لڑائی اور تعصب بہتر نہیں ہو سکتا۔

قارئین! اندازہ لگا لیں کہ یہ سانحہ کتنا پر اثر ہے کہ ہم آج بھی اس پر بات کرنے کے لئے خود کو مجبور پاتے ہیں، اگرچہ آج ذکر مقصود تھا، بارانِ رحمت اور شہریوں خصوصاً سرکاری ملازمین کے رویے کا جو آج کل ”سموگ“ کے حوالے سے روا رکھا جا رہا ہے، ہم جب گزشتہ روز گھر سے دفتر کے لئے نکلے تو ہلکی بارش جاری تھی اور موسم سرد اور خوشگوار محسوس ہوا، سب معمول کے مطابق تھا اور ہم اپنے دفتری فرائض ادا کرکے گھر بھی لوٹے تو کوئی خاص فرق محسوس نہ ہوا، گھر میں پہنچے تو صاحبزادی نے بتایا کہ قریب کہیں کوڑا جلایا گیا کہ بہت بدبو دار دھوئیں سے سامنا رہا ہے۔اس پر ہم نے ذرا غور کیا تو جلد ہی معلوم ہو گیا کہ گلی کے ساتھ چھوٹی سی پارک کے ایک کونے سے اب بھی دھواں اٹھ رہا ہے اور اسے بارش نے بھی متاثر نہیں کیا۔ یہ مصطفےٰ ٹاؤن وحدت روڈ کے عباس بلاک کی ایک ننھی پارک ہے جسے بانی پاکستان کو خراج عقیدت کے لئے جناح پارک کا نام دیا گیا۔ یہ جہاں دھو اں سا اٹھ رہا تھا، درختوں کے پتوں اور ٹہنیوں کا ڈھیر تھا جو اب راکھ میں تبدیل ہو رہا ہے، ہمیں یاد آیا کہ اس پارک کے لئے متعین مالی حضرات پارک کو صاف کرنے اور درختوں کی کانٹ چھانٹ کے بعد پتے اور ٹہنیوں کا ڈھیر خود لگا رہے تھے۔ ہم نے گزرتے ہوئے محترم باغبان سے گزارش بھی کی تھی کہ اس ڈھیر کو آگ نہ لگائی جائے اور انہوں نے باقاعدہ سر ہلا ہلا کر یقین دلایا کہ ایسا نہیں ہو گا اورپی ایچ اے کی گاڑی یا ٹرالی آکر یہ ڈھیر لے جائے گی، لیکن یہ سب غلط بیانی اور تسلی دینے والی بات تھی کہ اسی ڈھیر کو آگ لگائی گئی اور دھواں پورے علاقے میں پھیلا کر نہ صرف آلودگی میں اضافہ کیا گیا بلکہ اللہ کے کرم سے بھی انکار کر دیا گیا جس نے بارش سے فضائی آلودگی کا کچھ عرصہ کے لئے خاتمہ کر دیا تھا۔

ہم نے ابھی اگلے ہی روز یہ گزارش کی کہ اللہ کا شکر گزار ہونا چاہیے، جس نے بارش برسا کر سموگ سے نجات دلائی اور احتیاط کرنا چاہیے کہ بارش رک جائے تو پھر آلودگی نہ پھیلے، لیکن ہم کیسے یہ تصور کر لیں کہ ہم اتنے ہی باشعور اور فرض شناس ہو گئے ہیں کہ ان غیر مناسب حرکات سے باز آ جائیں۔ چنانچہ ہم فضا کو آلودہ کرنے میں پیش پیش رہیں گے کہ پورے محکمہ (پی ایچ اے) سمیت کوئی پوچھنے والا نہیں، یہ تو ایک مثال ہے، ورنہ پورے شہر میں یہ سلسلہ عام ہے اور مالی حضرات کے بعد عملہ صفائی والے بھی کوڑا اٹھانے کی زحمت سے بچنے کے لئے ایسا ہی کرتے ہیں اور کوڑا جلاتے ہیں، فیکٹری والے اب بھی ٹائر جلا رہے اور چمنیوں سے سیاہ دھوئیں کے بادل خارج کر رہے ہیں، یہ فیکٹریاں شہر کے اندر آ چکیں کہ بند (راوی والے) کے اندر واقع ہیں، ان پر کسی اپیل یا کسی کارروائی کے خطرے کا کوئی اثر نہیں ہوا ہمارا خدشہ تھا کہ جونہی بارش ختم ہو گی، یہ سلسلہ پھر سے شروع ہو کر فضائی آلودگی کا ذریعہ بنے گا اور سموگ پھر سے نازل ہو کر ماسک لینے پر مجبور کر دے گا۔گزارش یہ ہے کہ پی آئی سی سانحہ یقینا افسوسناک اور دکھ والا ہے، لیکن اس کی وجہ سے دوسرے فرائض تو نہیں بھولے جا سکتے، فضائی آلودگی کی روک تھام اور سموگ ختم کرنے کے ذمہ دارحضرات کہاں ہیں؟ اب وزیراعلیٰ نے بھی بہت دلچسپی لی اور کمیٹی بھی بنائی ہے۔ اس طرف پوری توجہ کی ضرورت ہے کہ یہ آلودگی عوامی صحت پر مضر ترین اثرات مرتب کر رہی ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...