برِصغیر کے رجواڑے اور ریاستیں

برِصغیر کے رجواڑے اور ریاستیں
برِصغیر کے رجواڑے اور ریاستیں

  



کچھ عرصہ ہوا میَں اپنے ایک عزیز کے گھر گیا۔ اُس کے بچے ہائی سکول اور کالج کے طالب علم ہیں۔ حُلیے، لباس اور ہاتھ میں سیل فون کی مناسبت سے وہ جدید فیشن کے نمائندے تھے۔ میری نظر اُن کے کورس کی کتابوں پر پڑی۔ میَں نے یہ سوچ کر کہ دیکھوں آج کل بچوں کو تاریخ اور جغرافیہ میں کیا پڑھا یا جارہا ہے، میَں نے تاریخ کی کتاب اُٹھائی۔ ورق گردانی کر کے رکھ دی ……پھر میَں نے اپنے عزیز کے بیٹے سے جو ہائی سکول کا طالب علم ہے، سوال کیا کہ آیا وہ پاکستان کی اُن ریاستوں کے بارے میں جانتا ہے جو تقسیمِ ہند کے وقت پاکستان میں شامل نہیں تھیں۔ ریاست جموں و کشمیر کے بارے میں وہ کیا جانتا ہے۔ کیا اُس نے ریاست اور رجواڑے کا نام سُنا ہے؟ وہ برخوردار بالکل Blank نکلا۔ میٹرک کی تاریخ کی کتاب میں بھی اِن ریاستوں کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ مجھے یہ جان کر دُکھ ہوا کہ موجودہ نوجوان نسل کو معلوم ہی نہیں کہ پاکستان بنانے اور پاکستان کی اِبتدائی مالی امداد میں اِن ریاستوں کا کتنا بڑا کِردار تھا۔ ریاست بہاولپور کے نواب صادق محمد نے کروڑوں روپے نقد اور حکومتِ پاکستان کے تمام ملازمین کی ایک ماہ کی تنخواہ اپنے ذاتی خزانے سے دی تھی۔ نظام حیدرآباد نے پاکستان کے اِبتدائی ایام میں 35کروڑ روپے نقد دیئے تھے۔ مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ میَں برِصغیر کی مسلمان ریاستوں کے بارے میں ایک تاریخی مضمون لکھوں، اگرچہ میرے اس مضمون کو نوجوان نسل نظر ڈال کر بھی نہیں دیکھے گی، کیونکہ اُن کی دلچسپیاں کچھ اور ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ”نظریہء پاکستان“کے کرتا دھرتا بھی ہماری نوجوان نسل کو اِن ریاستوں کے بارے میں کوئی آگاہی نہیں دیتے ہوں گے۔

برصغیر پر انگریز کی حکومت آنے سے پہلے، مسلمان بادشاہ آٹھ سو سال سے حکومت کر رہے تھے۔ اُنہوں نے نظم و نسق کی بہتری اور اپنی سہولت کے لئے، اپنی مملکت کو مختلف جاگیروں اور تعلقوں (علاقوں)میں تقسیم کر رکھا تھا۔ اُن جاگیروں کی دیکھ بھال کے لئے، صوبیدار(گورنر)اور تعلقہ دار ہوتے تھے جو بادشاہ کو مالیانہ(Revenue) اکٹھا کر کے دیتے تھے اور جنگ کی صورت میں بادشاہ کو سپاہی مہیا کرتے تھے۔ یہ سپاہی پیشہ ور نہیں ہوتے تھے، بلکہ کھیتی باڑی اور دوسرے روز گار میں مشغول ہوتے تھے۔ بوقت ضرورت، گورنر (صوبیدار۔ تعلقہ دا، جاگیردار) کے حکم پر اپنے ہتھیار اور اپنے اونٹ یا گھوڑے پر سوار ہو کر میدانِ جنگ کا رُخ کرتے تھے۔ یہ رواج یورپی بادشاہتوں میں بھی تھا۔ وہاں اِن پارٹ ٹائم سپاہیوں کو Peasant Soldier کہتے تھے۔ جب ہندوستان پر ملکہ برطانیہ کا راج قائم ہوا تو انگریز حکمرانوں نے انتظامی سہولت کے لئے ہندوستان کو 2 حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک حصے کا نام برٹش انڈیا رکھا(یہ حصہ ڈائریکٹ وائسرائے ہند کے ماتحت ہوتا تھا)اور دوسرے حصے کو Princely states کا نام دیا۔ یہ چھوٹی،بڑی ریاستیں اور رجواڑے تھے، جو مسلمان حکمرانوں کے زمانے سے چلے آ رہے تھے۔ اِن ریاستوں کی حیثیت بادشاہِ وقت کی باجگزار رعایا کی ہوتی تھی۔ انگریز حکمرانوں نے بھی اِن ریاستوں کی داخلی آزادی کو مسلمان حکمرانوں کی طرح قائم رکھا، لیکن ہر ریاست میں برطانوی حکومت کا ایک نمائندہ بٹھا دیا گیا۔ اس نمائندے کا کام ریاستی اُمور کی دیکھ بھال ہوتا تھا۔ اُسے Regeantکہا جاتا تھا۔

تقسیم سے پہلے ہندوستان میں 8 ریاستیں رقبے اور آبادی کے لحاظ سے بہت بڑی تھیں، بلکہ وہ ایک چھوٹے ملک کا درجہ رکھتی تھیں۔ اِن ریاستوں میں حیدر آباد(دکن)، میسور، ٹراونکور، جموں وکشمیر، جے پور،پٹیالہ، بہاولپور اور قلات شامل تھیں۔ اِ ن ریاستوں کے حکمرانوں کو برطانوی حکومت کی طرف سے 19 اور 21 توپوں کی سلامی ملتی تھی۔ یہ بڑی ریاستیں اپنی پولیس، فوج اور اپنا قومی پرچم رکھ سکتی تھیں، یہاں تک کہ اپنی مقامی کرنسی اور ڈاک کے ٹکٹ بھی جاری کر سکتی تھیں۔ مطلب یہ کہ ریاست کی چار دیواری میں اِن ریاستوں کے مہاراجوں اور نوابوں کو مکمل آزادی تھی، لیکن بقیہ حکومتی معاملات میں اُن کو کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں تھا۔ حکومتِ برطانیہ نے اِن ریاستوں، رجواڑوں اور جاگیروں کی درجہ بندی رقبے اور آبادی کے لحاظ سے کی ہوئی تھی۔ اسی درجہ بندی کے مطابق اِن ریاستوں کے حکمرانوں کو القابات دیئے گئے تھے۔ مثلاً راجہ، مہاراجہ، چترپتی، سلطان، نظام،نواب، امین دیش مُکھ، والی، مہتر، میر، پیشوا وغیرہ۔ رقبے اور آبادی کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے، توپوں کی سلامی کی بھی درجہ بندی تھی۔ 21،19،13،7اور 3 توپوں کی سلامی کے حق دار مختلف درجوں کے ریاستی حکمران ہوتے تھے۔ تقسیم سے پہلے، برِصغیر میں 565 چھوٹی بڑی جاگیریں، ریاستیں اور رجواڑے تھے اور اِن کی کُل آبادی قریباً 10کروڑ تھی یعنی برِصغیر کی کُل آبادی کا 22فیصد۔ اِن 565 ریاستوں میں سے 47 ریاستیں مسلمان حکمرانوں کے زیرِ تسلط تھیں۔ اہم مسلمان ریاستیں، جو بھارت کے قبضے میں چلی گئیں، اُن میں حیدرآباد (دکن)کشمیر، جونا گڑھ، مانادوار، لوھارو، مالیر کوٹلہ، بھوپال، پٹودی، ارکاٹ اور ریاست رام پور مشہور تھیں۔ برِصغیر کا وہ حصہ،جسے اَب پاکستان کہتے ہیں، یہاں 13 مسلمان ریاستیں قائم تھیں۔ سوائے قلات کی ریاست کے، بقیہ 12 ریاستوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کر لیا،لیکن اُنہوں نے اپنا اندرونی نظم و نسق حکومت ِ پاکستان کے حوالے ابھی نہیں کیا تھا۔ یہ مرحلہ 1955ء میں آیا،جب تمام مغربی پاکستان کو ایک صوبے کی شکل دے دی گئی تھی۔ 1956ء کے آئین کے مطابق پاکستان کی تمام ریاستیں، سوائے ریاستِ سوات کے، مغربی پاکستان کا حصہ بن گئیں۔ ریاست ِسوات1969ء میں ختم ہو گئی، یہاں کے حکمران کو والیء سوات کہا جاتا تھا۔

وہ ریاستیں جو پاکستان میں شامل ہوئیں، اُن کے نام یہ ہیں۔ بہاولپور (پنجاب)، قلات، لسبیلہ، خاران، مکران (بلوچستان)، خیر پور (سندھ)، چترال، سوات، اَمب، دیر (خیبر پختونخوا)، ہنزا، نگر (گلگت/ بلتستان)۔ پاکستان سے الحاق کرنے والی 13 ریاستوں میں رقبے اور آبادی کے لحاظ سے ریاست بہاولپور سب سے بڑی اور امیر تھی۔ اس ریاست کی اِبتداء 1727ء میں ہوئی تھی،جبکہ امیر صادق عباسی (اوّل) حکمران تھا۔ اُس وقت عباسی حکمرانوں کو امیر کہا جاتا تھا۔یہ تو 1866ء میں حکومتِ برطانیہ نے اِن کو نواب کے خطاب سے نوازا تھا۔ نواب صادق محمد عباسی (چہارم)برِصغیر کی تقسیم کے وقت بہاولپور کے حکمران تھے۔ وہ قائد اعظم کے ذاتی دوست تھے، یہی وجہ ہے کہ 1947ء میں پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے والی سب سے پہلی ریاست بہاولپور تھی اور اِس ریاست نے نہ صرف پاکستان کی مالی مدد کی، بلکہ ہندوستان سے لُٹ پِٹ کر آنے والے مہاجروں کی بحالی میں بھی پیش پیش رہی۔ بہاولپور بطور ریاست 1955ء میں مغربی پاکستان (آج کا پاکستان) میں مدغم ہو گئی تھی۔ اب اس ریاستی علاقے کی آبادی قریباً 40 لاکھ ہے،جس میں دو تہائی سے زیادہ مہاجر آباد کار ہیں۔ موجودہ پاکستان کے حصے میں آنے والی دوسری بڑی ریاست قلات تھی، جو بلوچستان میں واقع تھی۔ یہ ریاست انگریزوں کی تحویل میں آنے سے پہلے (1839ء) تک ایک آزاد ملک کی حیثیت رکھتی تھی،اُس سے پہلے یہ خِطّہ صفوی اور مغل باشادہوں کے زیرِ اثر رہا۔ قلات کے علاقے کو مغلوں کے زمانے میں توران کہا جاتا تھا۔ آج کی پاکستانی پختہ عمر کی نسل کو بھی نہیں معلوم ہو گا کہ حبشی نسل کے سیاہ فام، جن کو ہم لوگ بطور مکرانی جانتے ہیں، اِن لوگوں کے آباؤ اجداد زنجی بار (Zanzibar) قلات کے خانوں اور میروں کی خدمت کے لئے افریقہ سے بطور غلام لائے گئے تھے۔ اِن کو شیدی کہا جاتا تھا۔ لیاری کراچی میں رہنے والے مکرانی دراصل اُسی شیدی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان لوگوں کا کلچر، کھانے، رقص اور موسیقی، یہاں تک کہ لباس بھی ابھی تک مشرقی افریقہ کے ساحلی علاقے سے مماثلت رکھتے ہیں۔ ریاست قلات نے پاکستان کے ساتھ فوراً ہی الحاق نہیں کیا تھا،بلکہ اُس وقت کے خان نے قلات کو ایک آزاد ریاست قرار دے دیا تھا، لیکن کچھ بدمزگیوں کے بعد 1948ء میں ریاست قلات پاکستان میں شامل ہو گئی۔

مزید : رائے /کالم


loading...