چوکی منہالہ، پولیس کا جھوٹی اطلاع پرچھاپہ، خواتین سے بدتمیزی

چوکی منہالہ، پولیس کا جھوٹی اطلاع پرچھاپہ، خواتین سے بدتمیزی

  



لاہور (کرائم رپورٹر)چوکی منہالہ کے تھانیدار نے شادی والے گھر میں آتش بازی اور فائرنگ کی جھوٹی اطلاع پر ایک ہی رات میں تین دفعہ چھاپہ مار کرنہ صرف اہل خانہ اور مہمانوں کا جیناحرام کیے رکھا بلکہ گھر میں گھس کر خواتین سے بھی بدتمیزی کی گئی افسوس ناک امریہ ہے کہ متاثرہ خاندان کی جانب سے دی جانیوالی درخواست پر ایک ماہ گزر جانے کے باوجود جھوٹی اطلاع دینے والے ریسکیو ملازم وحید شہزاد اور شہبازکے خلاف کا رروائی عمل میں نہیں لا ئی گئی متاثرہ خاندان نے وزیر اعلی پنجاب،آئی جی پو لیس اور سی سی پی او لاہور سے ان ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے انھیں گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ورنہ احتجاج کی دھمکی دی۔منہالہ کے رہائشی حاجی محمد اسلم نے ایس پی کینٹ کو دی جانیوالی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ 14نومبر کو اس کے بیٹے کی شادی کی تقر یب جاری تھی اور گھر میں مہمان آئے ہو ئے تھے کہ اچانک چوکی منہالہ پولیس کی فورس نے آکر ہمارے گھر کا گھیراؤ کر لیا وجہ پو چھنے پر انھوں نے بتایا کہ یہاں ہوائی فائرنگ اور آتش بازی کی گئی ہے ہمارے انکار پر پولیس پارٹی نے معززین علاقہ سے ہماری بے گناہی کا ثبوت ملنے پر پو لیس پارٹی واپس چلی گئی،تھوڑی دیر بعد پولیس پارٹی دوبارہ آگئی اور انھوں نے بتایا کہ ون فائیو پر دوبارہ یہ ہی اطلاع دی گئی ہے کہ یہاں ہوائی فائرنگ اور آتش بازی کی جا رہی ہے پولیس پارٹی کو بتایا گیا کہ ایسی کوئی بات نہیں وہ دوبارہ واپس چلے گئے اور کو ئی دو گھنٹے دوبارہ یہ ہی پولیس اہلکار آگئے اور کہنے لگے کہ اب پھر ون فائیو پر ہوائی فائرنگ اور آتش بازی کی کال کی گئی ہے پولیس پارٹی نے گھر کی تلاشی لی اور تلاشی کے دوران گھر آئے مہمانوں اور خواتین سے بد تمیزی بھی کی گئی پولیس اہلکار کچھ برآمدنہ ہو نے پر واپس چلے گئے ہم نے اپنے طور پر ون فائیو کی کالیں کر کے ہمیں پریشان کرنے والوں کا معلوم کیا تو پتہ چلاکہ ان میں وحید شہزاد جو پہلے خود کو ہائیکورٹ کا وکیل اوربعد ازاں وہ ریسکیو اہلکار نکلا وہ اور اس کا ساتھی شہباز کالیں کرکے ہمیں ہراساں کر رہے تھے،دونوں اہلکارریسکیوکے ملازم ہیں جن میں سے ایک مقامی اور دوسرامناواں کا رہاشی ہے۔

ایس پی کینٹ نے بتایا ہے کہ انھوں نے مقامی پولیس کو کارروائی کی ہدایت کردی ہے۔

مزید : علاقائی