مسئلہ کشمیر ہماری حکومت میں بغیر جنگ کے حل کرینگے،علی امین گنڈا پور

مسئلہ کشمیر ہماری حکومت میں بغیر جنگ کے حل کرینگے،علی امین گنڈا پور

  



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیرامور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور نے کہاہے کشمیریوں کو ان کی قربانیوں کا پھل ضرور ملے گا،سعودی عرب بھارت نہیں ہمارے ساتھ ہے،مسئلہ کشمیر کے حوالے سے وزیر خارجہ مختلف ممالک کے دورے کر رہے ہیں، اسے ہم اپنے دور حکومت میں ہی حل کرینگے اور جنگ کے بغیر حل کرینگے، ہم نے کشمیر کا سودا نہیں کیا، ہم مسئلہ کشمیر پر کبھی خاموش نہیں ہونگے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے کہا آج ادارے متحرک ہو گئے ہیں جو قربانیاں کشمیرکی عوام نے دی ہیں ان کو قربانیوں کا پھل ضر و ر ملے گا،،72 سالوں تک بھارت کا کشمیریوں پراتناظلم کرنے کے باوجوددنیانے کشمیر پر بات نہیں کی،اس سے واضح ہے بھارت کی خارجہ پالیسی ہم سے کئی درجے بہترتھی۔ اْنہوں نے مسئلہ کشمیر پربہت بہتر سے کام کیا اور آج بھی کر رہا ہے۔ جس طرح عمران خان نے مودی کے ایجنڈے کو پوری دنیا کے سامنے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس میں ایکسپوز کیا،دنیا نے بھی اس کو تسلیم کیا،مسئلہ کشمیرپروزیر اعظم عمران خان نیامریکی صدرکو ثالثی کا نہیں کہابلکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے خود ہی ثالثی کی پیشکش کی،جس طرح مسئلہ کشمیر کو آج اجاگر کیا جا رہا ہے اس سے پہلے اجاگر نہیں کیا گیا،وزیر اعظم عمران خان نے بھی کہا تھا مسئلہ کشمیر پر ہم آخری حد تک جائیں گے۔وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور نے کہا کہ جنگیں کرناآسان نہیں،میں آپ کویقین دلاتا ہوں مسئلہ کشمیرہم اپنے دورحکومت میں ہی حل کرینگے اورجنگ کے بغیرحل کرینگے، بھارت اگر مسئلہ کشمیر پر بات کرتا ہے تو ہم اس کو خوش آمدید کہیں گے،آج کشمیری یہ سمجھتے ہیں عمران خان ہی ہمارا مسئلہ حل کر سکتا ہے، جس طرح بھارت کر رہا ہے اگر ہم بھی اس طرح کرینگے تو جنگ کی طرف جائیں گے،پورے مقبوضہ کشمیر سے آج ایک ہی آواز آرہی ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان۔ لوگ کہتے ہیں ہم نے کشمیر کا سودا کر لیا،ایسا ہرگز نہیں،ہم نے کشمیر کاسودا نہیں کیا، ہم اس کو اپنی جان سے بھی بڑھ کر سمجھتے ہیں،مسئلہ کشمیر پر ہم کبھی خاموش نہیں ہونگے، آج بھی ہم اس کو عالمی سطح پر اجاگر کر رہے ہیں۔ ملک میں مہنگائی ضرور بڑھی ہے لیکن ہم نے اسے کافی حد تک کنٹرول کر لیا ہے،ہماری کوشش ہے کہ باہر سے قرضہ کم لیں اور جو لیں اس سے اپنی صنعت کو ترقی دیں تاکہ ہمیں آئندہ قرضہ نہ لینا پڑے۔

علی امین

مزید : صفحہ آخر