آرمی چیف توسیع کیس کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد تنقید کی جائے، قانون دان

آرمی چیف توسیع کیس کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد تنقید کی جائے، قانون دان

  



لاہور(کامران مغل)وفاقی وزیر فواد چودھری کے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے عدالتی فیصلے میں سقم اور کوتاہیاں ایسے بیانات دینے پر قانونی اور آئینی ماہرین کا کہناہے کہ سپریم کورٹ نے ابھی مختصر فیصلہ جاری کیا ہے،تفصیلی فیصلہ جاری ہونا باقی ہے،تفصیلی فیصلے سے قبل کسی سقم کی نشاندہی کیسے کی جاسکتی ہے؟اس سلسلے میں پاکستان بارکونسل کے رکن چودھری حفیظ الرحمن،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق سیکرٹری آفتاب باجواہ،پنجاب بارکونسل کے رکن سید فرہاد علی شاہ کے علاوہ نصراللہ بابر اور نعیم چودھری ایڈووکیٹس سے سپریم کورٹ کے فیصلے میں کوتاہیوں کے حوالے سے بات کی گئی تو ان سب نے اس پر ایک ہی رائے کا اظہار کیا کہ سپریم کورٹ نے آرمی چیف کیس کا 28نومبر کو مختصر فیصلہ جاری کیاتھا،یہ حکم کیوں جاری کیا گیا اس کی وجوہات تفصیلی فیصلے میں بیان کی جائیں گی، جب وہ وجوہات ہی سامنے نہیں ہیں جن کی بنیاد پر یہ فیصلہ دیا گیا تو پھر اس میں سقم کی بات قبل ازوقت ہے، تفصیلی فیصلے کے بعد ہی کوئی رائے دی جاسکتی ہے،آئینی ماہرین کے مطابق عدالت کے مختصر فیصلے پر تنقید نہیں کی جاسکتی،امکان ہے چیف جسٹس کی 20دسمبر کو ریٹائرمنٹ سے قبل اس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری ہوجائے گا،اگر سپریم کورٹ کے فیصلے میں کوئی سقم ہے تو اس کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر ہوسکتی ہے۔

قانون دان

مزید : صفحہ آخر


loading...