پی آئی سی میں او پی ڈی،ان ڈور سروسز چوتھے روز بھی بند، وکلاء کی ہڑتال

  پی آئی سی میں او پی ڈی،ان ڈور سروسز چوتھے روز بھی بند، وکلاء کی ہڑتال

  



لاہور(جنرل رپورٹر، نامہ نگار،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وکلاء کے حملے اور توڑ پھوڑ کے بعد  پی آئی سی کی او پی ڈی اور ان ڈور سروسز مسلسل چوتھے روز بھی بند ہیں، مریض انجیو گرافی، ایکو کارڈیوگرافی سمیت ٹیسٹوں کی سہولت سے محروم  رہے۔ ہسپتال کی ایمرجنسی میں ڈاکٹرز، نرسز سمیت دیگر پیرا میڈیکل سٹاف مریضوں کو چیک کر تارہا، مر، آپریشن تھیٹرز میں بھی کام بند ہے، تمام آپریشن ملتوی کر دیئے گئے جس سے ہسپتال آنیوالے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا  رہا۔دریں اثنا وزیراعلیٰ پنجاب نے سانحہ پنجاب انسٹیٹوٹ آف کارڈیالوجی کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی واقعے میں قصور وار وں کا تعین کرے گی۔کمیٹی وکلا، ڈاکٹر اور پولیس کے سانحہ میں کردار کا تعین کرے گی، آئندہ ایسے واقعات کے روک تھام کے لیے اس انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے گا، انکوائری کمیٹی میں شامل ارکان کے نام فائنل کرنے  کے بعد باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔پنجاب میڈیکل ٹیچرز ایسوسی ایشن اور سروسز انسٹیٹوٹ آف میڈیکل سائنسز کے پروفیسرز ڈاکٹرز اور طلبہ نے پی آئی سی کی انتظامیہ اور عملے سے اظہار یکجہتی کے لیئے ریلی نکالی جس کی قیادت ایسوسی ایشن کے صدر اور سمزکے قائم مقام پرنسپل پروفیسر محمد امجد نے کی ریلی سمز سے شروع ہو کر پی آئی سی ایمرجنسی پر اختتام پزیر ہوئی اس موقع پر پرفیسر امجد نے پی آئی سی کے ایم ایس ڈاکٹر امیر کو گلدستہ پیش کیا اور وکلاء حملے کے دوران جاں بحق ہونے والے مریضوں کی یاد گار پر پھول چڑھائے اور مرنے والوں کے لیئے دعاء مغفرت کی۔ اس موقع پر طلبہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر امجد نے کہا کہ آج ہم وکلاء حملے کی مذہمت اور پی آئی سی کے عملے اور انتظامیہ کی ہمت پر انھیں خراج تحسین پیش کرنے یہاں آئے ہیں جس طرح وکلاء کے حملے کو برداشت کیا اور ان کی طرف سے کی گئی توڑ پھوڑ کو تین دن میں مرمت کرکے دوبارہ مریضوں کے لیئے سروسز بحال کی ہیں اس پر ہم ایم ایس اور سی ای او کو شاباش دیتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ وکلاء کا حملہ تاریخ میں سیاہ ترین اقدام کہلائے گا وکلاء کے طرز عمل سے لگتا ہے ہے کہ وہ پاکستان کے نہیں کسی اور دشمن ملک کے وکلاء تھے۔انھیں قرار واقعی سزا دینا ہو گئی اگر اس بڑھتے ہوئے رجحان کو نہ روکا گیا تو اداروں کے درمیان جنگ کا خطرہ ہے انھوں نے کہا کہ ہم آج حلف دیتے ہیں کہ ہم مریضوں کی خدمت بلا امتیاز اور بلا تفریق جاری رکھیں گے۔

لاہور(جنرل رپورٹر،نامہ نگار)پی آئی سی واقعہ میں گرفتاریوں کے خلاف وکلاء نے تیسرے روز بھی عدالتی بائیکاٹ کیا،ہڑتال کی کال پنجاب بارکونسل نے دی تھی، پنجاب بھر کی طرح لاہور کی ماتحت عدالتوں میں وکلاء نے مکمل ہڑتال کی،مقدمات کی سماعت متاثر ہونے سے سائلین خوارہو گئے جبکہ ہزاروں مقدمات کی سماعت متاثرہوئی،وکلاء کے احتجاج کے باعث رانا ثناء اللہ سمیت متعدد ملزموں کو متعلقہ عدالتوں میں پیش نہیں کیا جاسکا، پنجاب بار کونسل کی اپیل پر گرفتاریوں کے خلاف وکلاء نے تیسرے روز بھی اپنااحتجاج جاری رکھا اور عدالتی بائیکاٹ کیا، وکلاء کے عدالتی بائیکاٹ سے ہزاروں مقدمات کی سماعت متاثرہوئی،لاہور کی سیشن، سول اور خصوصی عدالتوں کے جج صاحبان مختلف مقدمات میں تاریخیں دے کراپنے چیمبرز میں چلے گئے،مقدمات کی پیروی کے لئے وکلا ء کے عدالت پیش نہ ہونے پر سائلین خوار ہوتے رہے، پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین شاہنواز اسماعیل اور لاہور ہائیکورٹ بار کے سیکرٹری فیاض رانجھا نے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار وکلاء کوفوری رہا کیاجائے۔وزیراعظم کے بھانجے کو پی آئی سی حملے کا ملزم نامزد  کدیا گیا، پولیس کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں حسان نیاز ی کو نامزد کیاگیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق حسان نیازی پرپولیس وین کو جلانے اور توڑ پھوڑ میں پیش پیش تھا۔واضح رہے کہ توڑ پھوڑ میں ملوث ایڈووکیٹ عدیل کے گھر بھی پولیس نے چھاپہ مارا۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کا کہنا تھا کہ قانو ن کو توڑنے والے تمام عناصر کو گرفتار کیا جائے گا۔دوسری طرف انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پی آئی سی حملہ کیس میں گرفتار وکلاء میں سے 11کی ضمانت کی درخواستوں پر ریکارڈ پیش نہ کرنے کاسخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ڈی ایس پی، ایس ایچ او شادمان اورتفتیشی افسر کوشوکاز نوٹس جاری کردئیے۔فاضل جج نے گزشتہ روز ریکارڈ پیش کرنے کے لئے متعدد مواقع دیئے لیکن ریکارڈ پیش نہ کیا گیا،فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ پولیس عدالتی احکامات پر عمل کیوں نہیں کررہی؟ریکارڈ پیش نہ کرنے والوں پرتفتیشی ایجنسی کے افسروں کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کئے جاسکتے ہیں۔کیس کی سماعت شروع ہوئی تو وکلاء کی جانب سے سپریم کورٹ بار کے نائب صدر غلام مرتضیٰ چودھری نے موقف اختیار کیا کہ جن وکلاء نے ضمانت کے لئے عدالت سے رجوع کیا ہے ان کا پی آئی سی واقعہ سے کوئی تعلق نہیں،عدالت سے استدعاہے مذکورہ وکلاء کی ضمانتیں منظور کی جائیں،عدالت نے پی آئی سی مقدمات کا ریکارڈ پیش نہ کرنے پر وائرلیس کے ذریعے عدالتی احکامات پرعمل درآمد کی ہدایت کی،عدالتی اہلکارنے عدالت کو آگاہ کیادو مرتبہ وائرلیس کی مگر کوئی جواب نہیں آیاہے،جس پر عدالت نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے مقدمہ یکارڈ پیش نہ کرنے پرمتعلقہ ڈی ایس پی، ایس ایچ اواورتفتیشی افسر کوشوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت کل 16دسمبر پر ملتوی کردی ہے۔

 وکلاء  ہڑتال

مزید : صفحہ اول