ریلوے ملتان ڈویژن،مختلف اسامیوں پربھرتی کیلئے ٹیسٹ، آخری روز 4ہزار سے زائد امیدواروں کی شرکت

      ریلوے ملتان ڈویژن،مختلف اسامیوں پربھرتی کیلئے ٹیسٹ، آخری روز 4ہزار سے ...

  



ملتان(نمائندہ خصوصی) ریلوے ملتان ڈویژن میں ٹکٹ کلکٹر،بکنگ کلرک، اور پارسل کلرک کی 59 آسامیوں پر بھرتی کیلئے تحریری ٹیسٹ کے چھٹے اور آخری روز 4 ہزار سے زائد(بقیہ نمبر28صفحہ12پر)

امیدواروں نے حصہ لیا،دھند کے باعث امیدواروں کو ریلوے ہسپتال،ریلوے بیڈ منٹن ہال اور ڈی ایس ریلوے دفتر کی گیلری میں بٹھا کر ٹیسٹ لیا گیا، اس موقع پر ڈپٹی ڈی ایس ریلوے صائمہ بشیر،اور دیگر افسران موجود رہے،جبکہ ڈی ایس ریلوے ملتان شعیب عادل نے بھی متبادل انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے تینوں مقامات کا دورہ کیا، اس دوران ڈی ایس ریلوے نے خود بیٹھ کر تحریری ٹیسٹ کی مانیٹرنگ کی اور ضروری ہدایات بھی جاری کی،واضح رہے ان بھرتیوں کے لئے ٹیسٹ 6 روز سے جاری تھا۔کل(پیر)سے جونیئراسسٹنٹ ٹرین اورنمبرٹیکرکیلئے تحریری امتحان کاسلسلہ شروع ہوگاجو19دسمبرتک جاری رہے گا۔

ڈی ایف اے عہدداران اور انٹرنیشنل فٹبالر جواد اکبر کے اعزاز میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قومی فٹبال ٹیم کے سابق کپتان عارف محمود نے کہا ہے کہ قومیں نفسیاتی برتری کے لئے کھیلوں کو ایک موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہیں ہمارے ہاں کھلاڑی تاریک مستقبل کی وجہ سے کھیلوں سے کتراتے ہیں فٹبال جو کہ دنیا کا مقبول ترین کھیل ہے ملک زوال کا شکار ہے دنیائے فٹبال کے کھلاڑی امیر ترین جبکہ ہمارے پرانے فٹبالر روٹی کے نوالے کو بھی ترس رہے ہیں انہوں نے کہا کہ آج کا نوجوان ٹیلنٹ اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے نفع و نقصان کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں عدم روزگار کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہے سرکاری نوکری ایک خواب اور پرائیوٹ ادارے جمود کا شکار ہیں ہمارے دور میں اچھے کھلاڑیوں کو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا تھا اور اچھی سے اچھی مراعات دی جاتی تھیں لیکن ا?ج ٹیلنٹڈ کھلاڑی بھی دھکے کھانے پر مجبور ہیں حکومت اور ادارے کھلاڑیوں کی سر پرستی کریں تاکہ ٹیلنٹ کو ضائع ہونے سے بچایا جائے اس موقع پر میاں جاوید قریشی, رانا باقر علی, نوید اکرم, عارف محمود, شیخ مقیم, شفقت رحمان, شرافت علی, مظہر حیات, رانا مشتاق, رانا مدثر, نوید قریشی, زین قریشی, محسن قریشی, بابر قریشی, اسامہ یوسف, سعید قریشی, ناصر انصاری, ناصر قریشی, ارسلان گولڈ, شاہد خان,عدنان قریشی ودیگر موجود تھے.

شرکت

مزید : ملتان صفحہ آخر