عمران خان نرم رویہ اختیار کریں تو مسائل حل ہوجائیں گے، فاروق ستار

  عمران خان نرم رویہ اختیار کریں تو مسائل حل ہوجائیں گے، فاروق ستار

  



ملتان (سٹی رپورٹر)ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ملک میں بدترین معاشی بحران ہے مگر ساتھ میں سیاسی بحران سونے پر سہاگا ہے۔ اگر سیاسی اقابر یہ کہہ رہے ہیں کہ ملک پیچھے جارہا ہے تو ایسے حالات میں قومی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم عمران خان نرم اور سیاسی رویہ اختیار کریں تو بنیادی خرابی دور ہو سکتی ہے۔ ہم آنے والی نسلوں کے لئے ایسا پاکستان تعمیر کرنا ہے جو ان کو یکساں مواقع فراہم کرے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایم کیو ایم تنظیم بحالی(بقیہ نمبر30صفحہ12پر)

کمیٹی جنوبی پنجاب کے صدر سید اسد عباس شاہ کی رہائش گاہ پر ان کی صاجزادی کی شادی کی تقریب کے موقع پر میڈیا سے بات چیت میں کیا ڈاکٹر فاروق ستار نے مزید کہا کہ ملتان کے دورے کا مقصد ایم کیو ایم کی جنوبی پنجاب کی تنظیم بحالی کے لیے آئے ہیں۔ پاکستان صحیح معنوں میں آزاد اور خود مختار تب ہی بنے گا جب معاشی ترقی کی رفتار بہت تیز ہوگی۔ حکومت کے غیر سیاسی اور غیر جمہوری رویے سے ملک میں معاشی بحران پیدا ہوا۔ پچاس لاکھ مکان بننے تھے کتنے مکان بنے۔ ایک کروڑ لوگوں کو روزگار ملنا تھا۔ ایک کروڑ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔ عدم تحفظ کا یہ حال ہے کہ وکیلوں اور ڈاکٹروں میں ٹھن گئی ہے انجینئرز کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ ولی اللہ ہیں۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم نہیں ہوگی تو کیسے تبدیلی آئے گی۔ تبدیلی کا نعرہ لوگوں کی ضروریات پوری نہیں کرے گا۔ ایسے حالات میں اگر قومی ڈائیلاگ نہ ہوا تو کیسے معاملات آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئینی اصلاحات سمیت دیگر معاملات پر اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ بلوچستان اور پنجاب میں انتظامی یونٹ کب بنیں گے۔ سوا سال سے زیادہ ہو گیا کوئی مکان نہیں بنا، ایک کروڑ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔ عدم تحفظ کا یہ حال ہے کہ وکلا اور ڈاکٹرز میں ٹھن گئی ہے۔ ہر آدمی قانون کو ہاتھ میں لینے کو تیار ہے۔ انتظامی یونٹ بنانے پر کیوں عمل نہیں ہو رہا۔ جنوبی پنجاب کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب والے خسرو بختیار الیکشن جیت گئے اور وزیر بھی بن گئے صوبہ نہ بن سکا۔ آئینی ترمیم کے لیے دوتہائی اکثریت نہیں مگر صوبہ اور انتظامی یونٹ کے لیے بل تو لائیں۔ قومی ایجنڈا بنائیں ہم آپ کو تجاویز دیں گے کہ ملک کو آگے کیسے لے کر جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سو باسٹھ ارب کے پیکج کا اعلان سندھ کے لئے کیا گیا ایک دھیلا نہیں ملا۔ پنجاب میں بلدیاتی نظام ختم کر دیا گیا الیکشن کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا،بلدیاتی نظام نا ہونے سے کیسے تبدیلی آئے گی۔ جنوبی پنجاب کے کئی علاقے پسیماندہ ہیں وہاں سرمایہ کاری ختم ہو گئی ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری کو نہ روکا گیا تو انتہاپسندی اور دہشت گردی کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ ہمیں اے پی ایس کے سانحہ کو نہیں بھولنا چاہیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ طے کر لیا گیا ہے کہ 2020 میں قومی حکومت بنائی جائے گی؟ عوام بہت مشکل میں ہیں، صوبے بنانے ہیں تو سیاسی جماعتوں کو لے کر بیٹھیں۔ سرمایہ کاری کے عمل کو پیدا کریں جس سے بے روزگاری میں کمی آئے گی۔ آصف زرداری کی رہائی پر فاروق ستار نے کہا کہ یہ کس لئے کہا کہ کسی کو نہیں چھوڑیں گے مگر سب تو چھوٹ رہے ہیں۔ یہ ہمارا نظام بے نقاب ہو رہا ہے۔ اگر سیاسی اقابر یہ کہہ رہے ہیں کہ ملک پیچھے جارہا ہے تو قومی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔ مائنس بانی ایم کیو ایم تو ہوگیا، مائنس فاروق ستار کرنے والوں نے اچھا نہیں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فاروق ستار کا اپنے سیاسی مستقبل پر شاعرانہ انداز، مائنس بانی ایم کیو ایم تو ہوگیا، مائنس فاروق ستار کرنے والوں نے اچھا نہیں کیا۔پی ٹی آئی اور موجودہ ایم کیو ایم سندھ اور کراچی کی محرومیوں کو دور نہیں کر سکے،عوام کی رائے کے خلاف کوئی تجربہ نہیں ہونا چاہیے،بلاول بھٹو اتنے تجربہ کار نہیں، انکا مطالعہ اتنا وسیع نہ ہو۔ میرا وعدہ ہے آئندہ بلدیہ الیکشن میں 35 سال سے کم عمر میئر لائیں گے، مجھے 23 اگست کی سزا مل رہی ہے، میں کل بھی پاکستان کے ساتھ کھڑا تھا آج بھی پاکستان کے ساتھ ہوں۔

فاروق ستار

مزید : ملتان صفحہ آخر