لنڈیکوتل سب جیل سے دو مطلوب حوالاتیوں کے فرارکا ذمہ دار کون؟

  لنڈیکوتل سب جیل سے دو مطلوب حوالاتیوں کے فرارکا ذمہ دار کون؟

  



خیبر (عمران شینواری)لنڈیکوتل سب جیل سے دو مطلوب حوالاتیوں کے فرار ہونے کی ذمہ دار کون؟سب جیل لنڈیکوتل تھانہ ناک کے نیچے اور تحصیل دفتر چھاونی کے اندر واقع ہے تحصیل دفتر کے تمام راستوں اور سب جیل کے اندر سمیت باہر گیٹوں پر بھی سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں جیل سپرٹنڈ نٹ بھی زمہ داری لینے کیلئے تیار نہیں جبکہ خاصہ دار فورس کے ذمہ دار صوبیدار بھی ذمہ داری لینے کیلئے تیار نہیں ہے ڈی پی او نے تفیتیشی آفیسر عابد آفریدی کو ایک ہفتے میں تحقیقات مکمل کرنے کیلئے وقت دیا ہے سوشل میڈیا پر عام مجالس میں خاصہ دار فورس کے ذمہ دار صوبیداروں پر سخت تنقید جا ری ہیں اور ڈی پی او سے سخت قانونی کاروائی کرنے کیلئے پوسٹیں شیئر کر ہے ہیں جبکہ قومی مشران سیاسی سماجی اور مذہبی لوگوں نے تحقیقات کرنے پر زور دیا ہیں خاصہ دار اور لیویز فورس ذرائع کے مطابق کہ دونوں ملزمان نے تقریبا رات تین بجے سب جیل کے باتھ روم ایگزاسٹ کو تھوڑ کر فرار ہو گئے ہیں دوبارہ گرفتاری کیلئے پاک افغان شاہراہ پر ناکہ بندیا ں کی ہیں لیکن تاحال گرفتا ر نہ ہو سکے دونون ملزمان اسلام آبا د پولیس کو مختلف ورداتوں میں مطلوب تھے اس سلسلے میں قومی مشر ملک عبدلرزاق آفریدی نے بتا یا کہ پہلی با ر اسطرح کے واقعہ رونماء ہو گیا ہیں کہ ملزمان جیل سے فرار ہو گئے ہیں اس نظام میں اسطرح واقعات ہو تے رہے گے انہوں نے کہا کہ انضمام سے پہلے اس لئے وہ یہ نظام نہیں چاہتے تھے پہلے ذمہ داری تھی اب کوئی ذمہ داری قبول کرنے کیلئے تیار ہیں ہر کوئی دوسروں کو ذمہ دار ٹہراتے ہیں پورے ایمانداری کے ساتھ تحقیقات ہونے چاہئے اور ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی ہونی چاہئے تنظیم اہلسنت والجماعت کے سینئر رہنماء شاکر آفرید ی نے کہا کہ پہلے جب خاصہ دار فورس کو نالائق فورس کہتے تھے انکے دور میں اسطرح واقعات نہیں ہو تے تھے لیکن اب جب پولیس کا نظام آیا ہے تو یہ واقعات شروع ہو گئے ہیں انہوں نے کہا کہ پورے تحصیل میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں تھر پھر کس طرح وہ فرار ہو گئے ہیں جبکہ رات میں کوئی ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے اس سلسلے میں جمعیت علماء اسلام قبائلی اضلاع کے جنرل سیکرٹری مفتی اعجاز شینواری نے کہا کہ فاٹا میں اس طرح واقعات کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا پولیس فرار ہونے کے ذمہ دار ہیں انہوں نے کہا کہ دوسرے جرائم کی طرح جو پہلے تھانوں کے قریب ہو تے تھے اب قبائلی اضلا ع میں شروع ہو گئے ہیں اس لئے وہ انضمام کے مخالف ہیں انہوں نے کہا کہ دوملزمان کی فرار ہونا پولیس کی بد ترین نااہلی ہیں واضح رہے کہ ڈی پی او نے تفتیش کے لئے عابد آفرید ی کو مقرر کیا ہے عابد آفرید ی پہلے جاعہ وقوع تحقیقات شرو ع کی ہے انہوں نے کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے ڈی پی او پر یس کانفرنس کرینگے جبکہ انہوں نے یہ بتا یا کہ اس میں تمام اداروں کے اہلکاروں سے پوچھ گچھ کئے جا ئیں گے اور ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی کی جائیگی

مزید : پشاورصفحہ آخر